کوئٹہ میں ایف آئی اے کی کارروائی، حوالہ ہنڈی اور غیر قانونی کرنسی ایکسچینج میں ملوث 5 ملزمان گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 27th, July 2025 GMT
ایف آئی اے بلوچستان زون نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے حوالہ ہنڈی اور غیر قانونی کرنسی ایکسچینج میں ملوث 5 ملزمان کو گرفتار کر لیا۔
ایف آئی اے کے مطابق گرفتار افراد میں اکمل خان، سیف اللہ، بشیر احمد، عبدالقیوم اور عبداللہ شامل ہیں۔
ایف آئی اے حکام نے کہا ہے کہ ملزمان کو کوئٹہ اور چمن کے مختلف علاقوں میں چھاپہ مار کارروائیوں کے دوران گرفتار کیا گیا۔ کارروائیوں کے دوران ملزمان سے 6 لاکھ 84 ہزار پاکستانی روپے برآمد کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیے: تفتان میں ایف آئی اے کی بڑی کارروائی، 33 بنگلہ دیشی شہری گرفتار
اس کے علاوہ غیر ملکی کرنسی کی مد میں 230.
ملزمان کے قبضے سے چیک بُکس، حوالہ ہنڈی سے متعلق رسیدیں اور بینک ڈیپازٹ سلپس بھی برآمد کی گئی ہیں۔ ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان بغیر لائسنس کرنسی ایکسچینج کے کاروبار میں ملوث تھے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایف آئی اے حوالہ ہنڈی منی ایکسچینج
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایف ا ئی اے حوالہ ہنڈی منی ایکسچینج حوالہ ہنڈی ایف آئی اے
پڑھیں:
ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
سیالکوٹ(نیوز ڈیسک) ٹک ٹاکر حکیم بابر سے متعلق مبینہ زہر خوری کیس میں نامزد ملزم صفدر کے بھائی ملک سلیم کھوکھر کا ویڈیو بیان منظر عام پر آگیا جس میں انہوں نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
ویڈیو بیان میں ملک سلیم کھوکھر نے دعویٰ کیا کہ محمد افضل عرف حکیم بابر نے سوشل میڈیا پر ویوز حاصل کرنے کیلئے خود کو زہر خورانی کا شکار ظاہر کرنے کا ڈرامہ رچایا، اسپتال کی رپورٹ میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکیم بابر کو کسی قسم کا زہر نہیں دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ حکیم بابر نشے کے عادی ہیں اور کسی مبینہ اوور ڈوز کے واقعے کو ان کے خاندان پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان کے خاندان کا حکیم بابر کے ساتھ کسی قسم کا کوئی ذاتی تنازع یا دشمنی موجود نہیں۔
ملک سلیم کھوکھر انکشاف کیا کہ حکیم بابر کا اصل نام افضل ہے اور وہ کوئی مستند حکیم نہیں بلکہ تعلیمی طور پر بھی میٹرک پاس نہیں ہیں، جھوٹے مقدمے کی وجہ سے میرا خاندان شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ رات کے وقت پولیس کی جانب سے دو بار گھر پر چھاپے مارے گئے، کو ہراساں مت کیا جائے۔
انہوں نے ڈی پی او سیالکوٹ اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی کہ کیس کی شفاف اور میرٹ پر انکوائری کی جائے اور حقائق کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے۔
مزید پڑھیں۔مشرق وسطیٰ کی صورتحال، خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد اضافہ