UrduPoint:
2026-07-24@11:05:11 GMT

مشرق وسطیٰ: اقوام متحدہ کی کانفرنس دو ریاستی حل کی حامی

اشاعت کی تاریخ: 30th, July 2025 GMT

مشرق وسطیٰ: اقوام متحدہ کی کانفرنس دو ریاستی حل کی حامی

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 30 جولائی 2025ء) اس اعلیٰ سطحی اجلاس میں شریک ممالک کے نمائندوں نے منگل کے روز مشرق وسطیٰ کے دیرینہ تنازعے کے خاتمے کے لیے ’نیویارک اعلامیہ‘ جاری کیا، جس میں دو ریاستی حل کی ’’غیر متزلزل حمایت‘‘ کی گئی ہے اور اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے پرعزم ہو۔

اس سے دنیا کے طویل ترین تنازعات میں سے ایک کو ختم کرنے کے عالمی عزائم کا اشارہ ملتا ہے۔

’نیویارک اعلامیہ‘ ایک مرحلہ وار منصوبہ پیش کرتا ہے، جس کا مقصد تقریباً 80 سال پرانے اسرائیل-فلسطین تنازعے اور غزہ کی موجودہ جنگ کا خاتمہ ہے۔ اس منصوبے کے تحت ایک آزاد، غیر مسلح فلسطین کو اسرائیل کے ساتھ پرامن بقائے باہمی کے ساتھ رہنے کے لیے قائم کیا جائے گا، اور وہ بالآخر مشرقِ وسطیٰ کے وسیع تر خطے کا حصہ بھی ہو گا۔

(جاری ہے)

منگل کو ختم ہونے والا یہ دو روزہ بین الاقوامی اجلاس ایسے وقت پر منعقد ہوا، جب غزہ پٹی میں شدید انسانی بحران، بھوک اور قحط کی خبریں آ رہی ہیں، اور دنیا بھر میں اس پر شدید غصہ ہے کہ اسرائیلی پالیسیوں کے باعث فلسطینیوں تک امداد نہیں پہنچ رہی۔

اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو دو ریاستی حل کی مخالفت کرتے ہیں اور اس اجلاس کو قوم پرستانہ اور سکیورٹی بنیادوں پر مسترد کر چکے ہیں۔

اسرائیل کے قریبی اتحادی ملک امریکہ نے بھی اس اجلاس کا بائیکاٹ کیا، اور اسے ''غیر مفید اور وقت کے لحاظ سے نامناسب‘‘ قرار دیا۔ ’نیویارک اعلامیہ‘ میں اور کیا کہا گیا ہے؟

اس کانفرنس میں، جسے جون سے مؤخر کیا گیا تھا اور عالمی رہنماؤں کے بجائے وزارتی سطح پر منعقد کیا گیا، پہلی بار آٹھ اعلیٰ سطحی ورکنگ گروپ بھی قائم کیے گئے، جو دو ریاستی حل سے متعلق مختلف موضوعات پر تجاویز دیں گے۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ کانفرنس کے شریک صدور ممالک فرانس اور سعودی عرب، یورپی یونین، عرب لیگ اور 15 دیگر ممالک نے ''غزہ میں جنگ کے خاتمے کے لیے اجتماعی اقدام کرنے پر اتفاق کیا ہے۔‘‘

سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے اقوام متحدہ کے 193 رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ ستمبر کے وسط میں جنرل اسمبلی کے 80 ویں اجلاس سے قبل اس دستاویز کی حمایت کریں۔

اعلامیے میں 7 اکتوبر 2023 کو جنوبی اسرائیل میں حماس کی جانب سے عام شہریوں پر کیے گئے حملوں کی مذمت کی گئی ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ عرب ممالک نے کھل کر حماس کی مذمت کی ہے۔

ان حملوں میں تقریباً 1200 افراد، جن میں زیادہ تر اسرائیلی شہری تھے، ہلاک ہوئے تھے اور تقریباً 250 افراد کو یرغمال بنا لیا گیا تھا، جن میں سے لگ بھگ 50 اب بھی حماس کی قید میں ہیں۔

اعلامیے میں اسرائیل کی جانب سے غزہ پٹی میں عام شہریوں اور بنیادی ڈھانچے پر حملوں کی بھی مذمت کی گئی ہے، اور کہا گیا ہے کہ غزہ پٹی کے ''محاصرے اور بھوک نے ایک تباہ کن انسانی المیے اور تحفظ کے بحران کو جنم دیا ہے۔‘‘

غزہ پٹی کی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی کارروائیوں میں اب تک 60,000 سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔

یہ اعداد و شمار مارے جانے والے فلسطینی شہریوں اور جنگجوؤں کے درمیان فرق نہیں کرتے۔ یہ کانفرنس اہم کیوں؟

اس کانفرنس کے منصوبے کے تحت فلسطینی اتھارٹی کو تمام فلسطینی علاقوں کی حکومت سنبھالنے کا اختیار حاصل ہو گا، اور جنگ بندی کے بعد فوری طور پر ایک عبوری انتظامی کمیٹی قائم کی جائے گی۔

اس منصوبے میں اقوام متحدہ کے تحت ایک عارضی بین الاقوامی استحکام مشن کی تعیناتی کی بھی حمایت کی گئی ہے، جو فلسطینی شہریوں کے تحفظ، سکیورٹی کی منتقلی، جنگ بندی کی نگرانی، اور مستقبل کے امن معاہدے کی ضمانت دے گا۔

نیو یارک اعلامیے میں تمام ممالک سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کریں، اور کہا گیا ہے کہ یہ ''دو ریاستی حل کے حصول کا ایک لازمی اور ناگزیر جزو‘‘ ہے۔ اگرچہ اسرائیل کا نام نہیں لیا گیا، تاہم اعلامیے میں کہا گیا ہے، ''غیر قانونی یکطرفہ اقدامات، فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے وجودی خطرہ بن چکے ہیں۔

‘‘

فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں نے اس اجلاس سے قبل اعلان کیا تھا کہ ان کا ملک ستمبر کے آخر میں اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے اجلاس میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کر لے گا۔

منگل کو فرانسیسی وزارت خارجہ نے اسرائیلی دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین کو تسلیم کرنا ''حماس کے لیے انعام‘‘ نہیں بلکہ اس کے برعکس یہ اقدام ’’حماس کو عالمی سطح پر تنہا کرنے میں مدد دے گا۔

‘‘

اسی دوران برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے بھی منگل کے روز اعلان کیا کہ برطانیہ ستمبر کے اجلاس سے قبل فلسطینی ریاست کو تسلیم کر لے گا، دوسری صورت میں اسرائیل کو اگلے آٹھ ہفتوں میں جنگ بندی اور طویل المدتی امن عمل پر رضامند ہونا پڑے گا۔

فرانس اور برطانیہ اب دو ایسے بڑے مغربی ممالک اور جی سیون کے اب تک کے ایسےصرف دو صنعتی ممالک ہیں، جنہوں نے ایسے وعدے کیے ہیں۔

ادارت: صلاح الدین زین، مقبول ملک

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے فلسطینی ریاست دو ریاستی حل اعلامیے میں اقوام متحدہ کو تسلیم کر کہا گیا ہے گیا ہے کہ کی گئی ہے غزہ پٹی کیا گیا کے لیے

پڑھیں:

اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام

پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ بڑھتے ہوئے مسلح تنازعات کے تناظر میں سفارتکاری، مذاکرات اور ثالثی کو مضبوط بنایا جائے.

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تنازعات کے پرامن حل سے متعلق کھلے مباحثے کے دوران پاکستان نے بھارت پر عالمی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی ایک اور بڑی سفارتی کامیابی، سلامتی کونسل میں امن دستوں کے تحفظ کی قرارداد متفقہ طور پر منظور

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہر نیا بحران یہ ثابت کرتا ہے کہ انصاف پر مبنی اور دیرپا امن کا کوئی فوجی متبادل موجود نہیں، اس لیے عالمی برادری کو تنازعات کی روک تھام، مکالمے، ثالثی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق پرامن تصفیے پر نئی توجہ دینا ہوگی۔

Today, the imperative of peaceful settlement is more urgent than ever before. At a time when armed conflicts are growing across regions, the costs of delayed diplomacy are becoming more evident. Every new crisis underscores a simple truth: there is no military substitute for a… pic.twitter.com/ITgheZpBLd

— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 23, 2026

انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان کی سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران متفقہ طور پر منظور کی جانے والی قرارداد 2788 نے اس اصول کی توثیق کی تھی کہ سفارت کاری کو اس وقت استعمال نہیں کرنا چاہیے جب امن ناکام ہو جائے، بلکہ اسے ایسے حالات پیدا ہونے سے پہلے ہی فعال ہونا چاہیے۔

دوسری جانب اجلاس میں بھارتی مندوب کے بیان کے جواب میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حقِ جواب استعمال کرتے ہوئے کہا کہ جب رکن ممالک تنازعات کے پرامن حل کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے پر گفتگو کر رہے تھے، بھارت نے حقائق کو مسخ کرنے اور بے بنیاد الزامات لگانے کی کوشش کی۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل بریفنگ: پاکستان نے مستقل جنگ بندی اور آزاد فلسطینی ریاست کا مطالبہ دہرا دیا

انہوں نے کہا کہ بھارت ایک طرف امن کی بات کرتا ہے جبکہ دوسری جانب بین الاقوامی قانون، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

ان کے مطابق جموں و کشمیر نہ تو بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی اس کا داخلی معاملہ، بلکہ یہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع خطہ ہے، جس کے بارے میں سلامتی کونسل کی قراردادیں آج بھی مؤثر ہیں۔

صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارتی زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی صورتحال میں واضح فرق ہے۔

It is ironic to hear India preaching peace while breaching international law and Security Council resolutions, and practising aggression against its neighbours, repression in Indian-occupied Jammu and Kashmir, persecution of minorities, and perpetrating State-sponsored terrorism… pic.twitter.com/oPfkrOvSJ5

— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 24, 2026

ان کے مطابق آزاد کشمیر میں عوام سیاسی عمل میں حصہ لیتے اور آزادی سے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں، جبکہ بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں گرفتاریوں، ماورائے عدالت ہلاکتوں، جبری گمشدگیوں، آبادی کے تناسب میں تبدیلی اور حقِ خودارادیت سے محرومی جیسے اقدامات جاری ہیں۔

انہوں نے بھارت کے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے فیصلے کو یکطرفہ اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے تقریباً 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، اسے جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل میں اصلاحات ناگزیر، مستقل رکنیت کا نظام فرسودہ ہو چکا ہے، پاکستان

پاکستانی مندوب نے مزید الزام عائد کیا کہ بھارت ریاستی سرپرستی میں دہشتگردی میں ملوث ہے اور پاکستان میں دہشتگرد تنظیموں کی معاونت کرتا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تقریباً ایک لاکھ شہریوں کی جانوں کی قربانی دے چکا ہے۔

انہوں نے بھارت میں مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں اور دلتوں کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اشتعال انگیزی کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پرامن حل کو ترجیح دی۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل کی بلوچستان حملوں کی شدید مذمت، عالمی برادری سے پاکستان کیساتھ تعاون پر زور

صائمہ سلیم نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا راستہ بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر، سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد اور مسئلہ جموں و کشمیر کے پرامن حل سے ہو کر گزرتا ہے۔

انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے بین الاقوامی معاہدوں کا احترام کرے اور کشمیر تنازع کے حل کے لیے سنجیدہ مذاکرات کی راہ اختیار کرے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اقوام متحدہ امتیازی سلوک بھارت پاکستان جموں و کشمیر چارٹر دریائے سندھ دہشتگردی سلامتی کونسل سندھ طاس معاہدے صائمہ سلیم عاصم افتخار احمد مستقل مندوب

متعلقہ مضامین

  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی کے اثرات، اسٹاک ایکسچینج میں 1,200 سے زائد پوائنٹس کی کمی
  • اقوام متحدہ کی قیادت کس کے ہاتھ آئے گی؟ 4 خواتین اور 2 مرد دوڑ میں شامل
  • نام نہاد جنگ بندی بے اثر، غزہ میں شہریوں کی ہلاکتیں جاری: انتونیو گوتریس
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار