ایک اور یورپی ملک نے فلسطین کو تسلیم کرلیا، اسرائیل پر دباؤ بڑھ گیا
اشاعت کی تاریخ: 30th, July 2025 GMT
یورپی ملک مالٹا نے اعلان کیا ہے کہ وہ فلسطین کو ایک آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کرے گا۔ یہ اعلان وزیراعظم رابرٹ ابیلا نے منگل کی شام اپنے فیس بک پیغام میں کیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ اقدام اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں ستمبر میں کیا جائے گا۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہماری پوزیشن مشرق وسطیٰ میں مستقل امن کے لیے ہمارے عزم کو ظاہر کرتی ہے۔
مالٹا کی حکومت پر اپنی جماعت کے اندر سے فلسطین کو تسلیم کرنے کا دباؤ بڑھ رہا تھا، جب کہ سینٹر رائٹ اپوزیشن نے بھی جولائی کے وسط میں فوری طور پر تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
یاد رہے کہ برطانیہ کے وزیراعظم کیئر اسٹارمر اور فرانس بھی حالیہ دنوں میں فلسطین کو تسلیم کرنے کا اعلان کر چکے ہیں۔ اس سے قبل آئرلینڈ، ناروے اور اسپین نے بھی مئی میں فلسطینی ریاست کو باقاعدہ تسلیم کیا تھا۔
مالٹا کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جو طویل عرصے سے دو ریاستی حل کے حامی رہے ہیں اور فلسطینی عوام کی حمایت کرتے آئے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: فلسطین کو
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔