ٹرمپ نے فلسطین کو تسلیم کرنے کی مخالفت کر دی
اشاعت کی تاریخ: 30th, July 2025 GMT
واشنگٹن:
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فلسطینی ریاست کے قیام کی مخالفت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ برطانوی وزیر اعظم سے دو ریاستی حل پر کوئی بات نہیں ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ فلسطین کو تسلیم کرنا حماس کو ریلیف دینے کے مترادف ہوگا۔
وائٹ ہاؤس میں میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ہم نے برطانوی وزیر اعظم سے دو ریاستی حل پر کوئی بات نہیں کی اور نہ ہی فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے پر کوئی تبادلہ خیال ہوا ہے۔
صدر ٹرمپ نے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا، دراصل حماس کو انعام دینے جیسا ہے، اور میں سمجھتا ہوں کہ حماس کو کسی قسم کا ریلیف نہیں ملنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جو بھی عقل رکھتا ہے، وہ غزہ کی تباہی کو صاف دیکھ سکتا ہے ایسے میں کسی شدت پسند گروہ کو سیاسی فائدہ دینا غیر ذمہ دارانہ ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر شدید ردعمل دیا ہے جس میں انہوں نے بحری جہازوں کو ہونے والے ممکنہ نقصانات کا ازالہ ایرانی اثاثوں سے کرنے کی بات کی تھی۔ ایران نے اس مؤقف کو بین الاقوامی قوانین کے لیے ایک خطرناک اور اشتعال انگیز نظیر قرار دیا ہے۔
عباس عراقچی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ کسی ملک کے اثاثوں کو مستقبل کے غیر متعلقہ دعووں کی بنیاد پر ضبط کرنا ایک ایسا اقدام ہے جو عالمی مالیاتی نظام اور بین الاقوامی قوانین کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی دوسرے ملک کے اثاثے مستقبل کے غیر متعلقہ نقصانات کی ادائیگی کے لیے ضبط کرنا ایک اشتعال انگیز نظیر ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ جو ممالک یا ادارے اس طرح کے ضبط شدہ اثاثوں سے فائدہ اٹھانے یا اس اقدام کی حمایت کرنے کی کوشش کریں گے، انہیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اگر حکومتیں اس طرز عمل کو معمول بنا لیں تو پھر دنیا میں کسی بھی ملک کے اثاثے محفوظ نہیں رہیں گے۔
عباس عراقچی کے مطابق اس طرح کے اقدامات عالمی مالیاتی نظام میں بے یقینی، افراتفری اور قانونی تنازعات کو جنم دے سکتے ہیں، جن کے نتائج نہ صرف غیر خوشگوار بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوں گے۔
ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور آبنائے ہرمز میں بحری جہاز رانی، اقتصادی پابندیوں اور سفارتی تعلقات کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ جاری ہے۔
Seizing another nation's assets to pay for unrelated future claims is an incendiary precedent.
Those who celebrate or profit from such funds should remember: once governments normalize confiscation, no one's assets are safe. Ensuing chaos will not be pretty or peaceful.
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اثاثوں کی ضبطی جیسے اقدامات عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو اس سے عالمی سرمایہ کاری، بین الاقوامی تجارت اور ممالک کے درمیان مالیاتی اعتماد پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔