بلوچستان میں کوئی محفوظ نہیں، مارچ پلان کے مطابق کریں گے، لیاقت بلوچ
اشاعت کی تاریخ: 29th, July 2025 GMT
صوبائی دارالحکومت لاہور کے منصورہ مرکز میں نائب امیر جماعت اسلامی کا پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ہمیں اسلام آباد جانے دیا جائے، حکومت اگر گرفتار کرتی ہے تو کرلے، یہاں چاروں اطراف پولیس کی بھاری نفری موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ 25 جولائی کو بلوچستان سے اپنے حقوق کے لیے نکلے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچستان میں کوئی محفوظ نہیں، مارچ پلان کے مطابق کریں گے۔ صوبائی دارالحکومت لاہور کے منصورہ مرکز میں لیاقت بلوچ کا پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ہمیں اسلام آباد جانے دیا جائے، حکومت اگر گرفتار کرتی ہے تو کرلے، یہاں چاروں اطراف پولیس کی بھاری نفری موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ 25 جولائی کو بلوچستان سے اپنے حقوق کے لیے نکلے تھے، بلوچستان میں کوئی بھی محفوظ نہیں، وزیر اعلیٰ پنجاب نے بھی فون پر بات کی، مریم نواز نے کہا کہ وفاق کی سطح پر اعلیٰ سطح کی کمیٹی بنائی جائے گی۔
نائب امیر جماعت اسلامی کا مزید کہنا تھا کہ انشااللہ لانگ مارچ طے شدہ پلان کے مطابق آگے بڑھے گا، ہمیں ملک میں سیاسی بحران کا حل تلاش کرنا چاہیے۔ قبل ازیں جماعت اسلامی اور حکومت کے درمیان مذاکرات میں حکومت کی جانب سے سینئر وزیر مریم اورنگزیب، وزیر قانون صہیب بھرت اور سلمان رفیق شریک تھے جب کہ جماعت اسلامی کی طرف سے لیاقت بلوچ، امیرالعظیم اور ہدایت الرحمان بلوچ شریک ہوئے، لیکن تاحال مذاکرات کامیاب نہیں ہوئے اور جماعت اسلامی منصورہ سے" حق دو بلوچستان مارچ " نکالنے کے مطالبے پرڈٹ گئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی لیاقت بلوچ نے کہا
پڑھیں:
مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
ویب ڈیسک : مستونگ میں ہونے والے قاتلانہ حملے میں سیشن جج مستونگ عبدالحکیم کاکڑ اور گن مین شہید ہو گئے جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری شدید زخمی ہوئے۔
حکومت بلوچستان نے مستونگ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا حکم دے دیاہے۔ معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان شاہد رند کا کہنا ہے کہ سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین کی شہادت انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان شاہد رند کے مطابق وکلاء اور ججز کو نشانہ بنانا ایک گہری سازش کا حصہ ہے،دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو کسی صورت نہیں چھوڑا جائے گا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے مستونگ حملے میں زخمی ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سے رابطہ کرکے ان کی خیریت دریافت کی اوران کی مکمل صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیاہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے زخمی ایڈیشنل سیشن جج سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ قانون کے محافظوں پر حملہ ناقابل برداشت ہے، ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا،حکومت عدلیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ ہر قدم پر کھڑی ہے۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ