بلوچستان میں کوئی محفوظ نہیں، مارچ پلان کے مطابق کریں گے، لیاقت بلوچ
اشاعت کی تاریخ: 30th, July 2025 GMT
صوبائی دارالحکومت لاہور کے منصورہ مرکز میں نائب امیر جماعت اسلامی کا پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ہمیں اسلام آباد جانے دیا جائے، حکومت اگر گرفتار کرتی ہے تو کرلے، یہاں چاروں اطراف پولیس کی بھاری نفری موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ 25 جولائی کو بلوچستان سے اپنے حقوق کے لیے نکلے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچستان میں کوئی محفوظ نہیں، مارچ پلان کے مطابق کریں گے۔ صوبائی دارالحکومت لاہور کے منصورہ مرکز میں لیاقت بلوچ کا پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ہمیں اسلام آباد جانے دیا جائے، حکومت اگر گرفتار کرتی ہے تو کرلے، یہاں چاروں اطراف پولیس کی بھاری نفری موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ 25 جولائی کو بلوچستان سے اپنے حقوق کے لیے نکلے تھے، بلوچستان میں کوئی بھی محفوظ نہیں، وزیر اعلیٰ پنجاب نے بھی فون پر بات کی، مریم نواز نے کہا کہ وفاق کی سطح پر اعلیٰ سطح کی کمیٹی بنائی جائے گی۔
نائب امیر جماعت اسلامی کا مزید کہنا تھا کہ انشااللہ لانگ مارچ طے شدہ پلان کے مطابق آگے بڑھے گا، ہمیں ملک میں سیاسی بحران کا حل تلاش کرنا چاہیے۔ قبل ازیں جماعت اسلامی اور حکومت کے درمیان مذاکرات میں حکومت کی جانب سے سینئر وزیر مریم اورنگزیب، وزیر قانون صہیب بھرت اور سلمان رفیق شریک تھے جب کہ جماعت اسلامی کی طرف سے لیاقت بلوچ، امیرالعظیم اور ہدایت الرحمان بلوچ شریک ہوئے، لیکن تاحال مذاکرات کامیاب نہیں ہوئے اور جماعت اسلامی منصورہ سے" حق دو بلوچستان مارچ " نکالنے کے مطالبے پرڈٹ گئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی لیاقت بلوچ نے کہا
پڑھیں:
سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک
سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں کرتے ہوئےفتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے 17 دہشتگردوں کو ہلاک کردیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 24 مئی کو پیش آنے والے ٹرین واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے اضلاع مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ میں انٹیلی جنس بنیادوں پر متعدد آپریشنز کیے۔
مزید پڑھیں: بلوچستان میں دہشتگردی کرنے والے پاکستان کے دشمن، ان کی کوئی ناراضی نہیں، رانا ثنااللہ
آئی ایس پی آر کے مطابق ان کارروائیوں کے دوران سیکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کے متعدد ٹھکانوں کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا۔ شدید اور سخت فائرنگ کے تبادلے کے بعد بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الہندستان سے تعلق رکھنے والے 17 دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے، جس سے ان علاقوں میں سرگرم دہشتگرد نیٹ ورکس کو بڑا دھچکا پہنچا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ مارے گئے دہشتگرد علاقے میں متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں سرگرم رہے تھے۔
ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود، بڑی مقدار میں دھماکا خیز مواد اور تیار شدہ دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈیز) بھی برآمد کیے گئے ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ان علاقوں سے دہشتگردوں کے مکمل خاتمے کے لیے کلیئرنس اور سرچ آپریشنز بدستور جاری ہیں۔
مزید پڑھیں: علما کرام کی جانب سے بلوچستان میں دہشتگردی کی مذمت، امن اور مکالمے پر زور
بیان میں کہا گیا ہے کہ قومی ایکشن پلان کے تحت وفاقی ایپکس کمیٹی سے منظور شدہ وژن ’عزمِ استحکام‘ کے مطابق پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی انسداد دہشت گردی مہم پوری رفتار سے جاری رہے گی تاکہ ملک سے بیرونی سرپرستی اور حمایت یافتہ دہشتگردی کے ناسور کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews آئی ایس پی آر بلوچستان دہشتگرد ہلاک سیکیورٹی فورسز وی نیوز