کراچی کے اختیارت پر کسی کو ناگ بن کر بیٹھنے نہیں دیں گے، حافظ نعیم الرحمٰن
اشاعت کی تاریخ: 29th, July 2025 GMT
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعتِ اسلامی پاکستان نے کہا کہ جماعت اسلامی اس شہر کے حقوق سے دستبردار نہیں ہوگی، ان بچوں کو بہترین تعلیم دینی ہے، ان کو منشیات کا عادی نہیں بلکہ بہترین انسان بنانا ہے، ہم اپنے بچوں کے مستقبل کو سنواریں گے، ہر ٹاؤن میں انتظامیہ نے 5 اسکولوں پر کام کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعتِ اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن کا کہنا ہے کہ کراچی کے اختیارت پر کسی کو ناگ بن کر بیٹھنے نہیں دیں گے۔ کراچی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کراچی کو اس کے جائز حق اور میئر سے محروم کردیا گیا، اب تو گاڑی کی نمبر پلیٹس ہم سے دوبارہ بنوائی جا رہی ہیں۔ امیر جماعتِ اسلامی کا کہنا ہے کہ سرکاری اسکولوں کا معیار بہتر کیا جائے، تعلیم کے لیے 631 ارب روپے کا بجٹ ہے، پاکستان میں 2 کروڑ 62 لاکھ بچے اسکول سے باہر ہیں، جس میں سے صرف سندھ میں 1 کروڑ بچے اسکول سے باہر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ گلبرگ میں تعلیمی کارڈ کا آغاز کیا گیا ہے جو بہت اچھا اقدام ہے، اس کارڈ کو پورے کراچی میں پھیلانے کے لیے اقدامات کریں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جماعت اسلامی اس شہر کے حقوق سے دستبردار نہیں ہوگی، ان بچوں کو بہترین تعلیم دینی ہے، ان کو منشیات کا عادی نہیں بلکہ بہترین انسان بنانا ہے، ہم اپنے بچوں کے مستقبل کو سنواریں گے، ہر ٹاؤن میں انتظامیہ نے 5 اسکولوں پر کام کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔