عافیہ صدیقی۔۔ پائی ہے کس جرم میں سزا، یاد نہیں
اشاعت کی تاریخ: 29th, July 2025 GMT
آواز
ایم سرور صدیقی
پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈارکا جس جس نے بھی بیان پڑھا یا سنا وہ سن ہوگیاکہ وہ ایسا کیسے کرسکتے ہیں لیکن حقیقت تو حقیقت ہے ۔امریکی تھنک ٹینک اٹلانٹک کونسل میں اسحاق ڈار نے کہا تھا کہ پاکستان میں منصفانہ قانونی عمل اس وقت بھی جاری ہے، اس کیس کو سیاسی رنگ نہ دیا جائے، جس طرح عافیہ صدیقی کئی عشروں سے امریکا میں قید ہیں، نہ جانے کب تک رہیں گی، اگر آپ کا قانونی نظام اس نتیجے پر پہنچا ہو تو اس پر یہ کہنا مناسب نہیں ہوگا اور یہی عمل سب پر لاگو ہوتا ہے۔ اس کا صاف صاف مطلب ہے عافیہ صدیقی کے ساتھ جو ہوا وہ درست ہے ۔۔ جس نے بھی ان کے خیالات سنے اسے شدید شاک لگا کہ ایسے ناعاقبت اندیش حکمران پاکستان کا موقف کس بھونڈے انداز میں پیش کررہے ہیں کہ الحفیظ و الامان ۔یقینا اسے چاپلوسی اور خوشامد کی انتہا ہی کہاجاسکتاہے ۔ موصوف نے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے متعلق سوال پر کہا جب کوئی ریاست کے مقابل ہتھیار اٹھائے گا اور وہ سب کچھ کرے گا جو9 مئی کو کیا گیا تو قانون اپنا راستہ لے گا۔قوم کی بیٹی عافیہ صدیقی کا جرم کیا تھا؟ انہیں کس جرم کی سزا دی جارہی ہے؟ پاکستان کے حکمران اپنے ہی شہری کے ساتھ ایسا سلوک کیوں کررہے ہیں اور 50سے زائد مسلم حکمرانوں نے ان کی رہائی کے لئے کیا کیاہے؟ یہ ایسے سوالات ہیں جن کا کوئی جواب نہیں یا کوئی جواب دینا ہی نہیںچاہتا ۔اس صورت ِ حال کو اجتماعی بے حسی سے بھی تعبیر کیا جاسکتاہے۔ ماضی میں سابقہ وزیر ِ اعظم عمران خان نے کہا تھا کہ عافیہ صدیقی کے بدلے جاسوس شکیل آفریدی کوامریکہ کے حوالے کیا جاسکتاہے ۔پھرانہوں نے بھی اس سلسلہ میں کچھ نہیں کیا ۔علامہ خادم حسین رضوی نے ان کی رہائی کے لئے موثرآواز اٹھائی تھی ان کا کہناہے کہ جیل میں امریکی انہیں روزانہ طعنے دیتے ہیں کہ تمہیں رہائی دلانے محمدبن قاسم ابھی تک کیوں نہیں آیا۔
ڈاکٹر عافیہ صدیقی کون ہے اور امریکہ نے اسے 86سال قید کی سزا کیوں سنائی ہے یہ سب کچھ جاننے کیلئے ہمیں ماضی کو کھنگالناہوگا ۔ ڈاکٹر عافیہ صد یقی پاکستان سے تعلق رکھنے والی معروف سائنس دان ہیں جسے امریکی حکومت نے 2003ء میں اغوا کر کے غیر قانونی طور پر قید کیا ہوا ہے۔ڈاکٹر عافیہ صدیقی 2 مارچ، 1972ء کو کراچی میں پیدا ہوئی۔ 8 سال کی عمر تک زیمبیا میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد کراچی میں ابتدائی اور ثانوی تعلیم مکمل کی۔ اس کے بعد بوسٹن ٹیکساس میں جامعہ ٹیکساس میں کچھ عرصہ رہیں پھر وہاں سے میساچوسٹس ادارہ ٹیکنالوجی (MIT) چلی آئیں اور اس ادارہ سے وراثیات میں(PHD) کی سند حاصل کی۔ وہ 2002ء میں پاکستان واپس آئیں مگر ملازمت نہ ملنے کی وجہ سے ملازمت کی تلاش میں امریکہ چلی گئیں اس دوران انہوں نے میریلینڈ میں ڈاک وصول کرنے کے لئے پوسٹ بکس نمبر کرائے پر لیا ایک سال بعد وہ کراچی واپس آ گئیں۔ایف بی آئی نے شک ظاہر کیا کہ یہ پوسٹ بکس نمبر دراصل القاعدہ سے تعلق رکھنے والے کسی شخص کیلئے کرائے پر لیا گیا تھا جس پر امریکی میڈیامیں عافیہ صدیقی کی بطور دہشت گرد تشہیر کی گئی۔ یہ دیکھ کر عافیہ ڈرکے مارے کراچی میں روپوش ہو گئی۔ وہ 30 مارچ، 2003ء کو اپنے تین بچوں سمیت راولپنڈی جانے کے لئے ٹیکسی میں ائیرپورٹ کی طرف روانہ ہوئی مگر راستے سے غائب ہو گئیں بعدمیں خبریں آئیں کہ ان کو امریکن نے اغوا کر لیا ہے۔ اس وقت ان کی عمر 30 سال تھی اور بڑے بچہ کی عمر چار سال اور سب سے چھوٹے کی ایک ماہ تھی۔ مقامی اخباروں میں عافیہ کی گرفتاری کی خبر شائع ہوئی مگر بعد میں وزیروں نے لاعلمی کا اظہار کیا اور ان کی والدہ کو دھمکیاں دی گئیں۔
عالمی اداروں نے خیال ظاہر کیا کہ افغانستان میں امریکی جیل بگرام میں قیدی نمبر 650 شاید عافیہ صدیقی ہی ہے جو وہاں بے حد بری حالت میں قید تھی۔ پاکستانی اخبارات میں شور مچنے کے بعد امریکیوں نے اچانک اعلان کیا کہ عافیہ کو 27 جولائی، 2008ء کو افغانستان سے گرفتار کر کے نیویارک پہنچا دیا گیا ہے تاکہ ان پر دہشت گردی کے حوالہ سے مقدمہ چلایا جا سکے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے امریکی کہانی کو ناقابلِ یقین قرار دیدیا۔ افغانستان میں امریکی فوجیوں نے دوران گرفتاری عافیہ کو گولیوں کا نشانہ بنا کر شدید زخمی کر دیا، تب امریکی فوجی معالجین نے عافیہ کی طبی حالت کو گلاسگو غشی میزان پر 3 (یعنی مرنے کے قریب) بتایا۔ تاہم امریکیوں نے الزام لگایا کہ عافیہ نے امریکی فوجی کی بندوق اٹھانے کی کوشش کی تھی جس پر انھوں نے اس پر گولیاں چلا دیں۔ اس اثناء میں اسلام آباد کی ایک عدالت میں ان کے لواحقین نے ایک درخواست میں الزام لگایا کہ پرویز مشرف دور میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو ڈالروں کے عوض امریکیوں کے ہاتھ فروخت کیا گیا ۔اگست 2009ء میں اس وقت کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے بتایا کہ حکومت 2 ملین ڈالر3 امریکی وکیلوں کو دے گی جو عافیہ صدیقی کے لیے "امریکی عدالت” میں پیشی کرینگے۔خیال رہے کہ لاہور کی عدالت اعلیٰ نے حکومت کو یہ رقم جاری کرنے سے منع کیا تھا کیونکہ خدشہ تھا کہ رقم خُرد برد کر لی جائے گی۔ عدالت میں درخواست گزار نے کہا تھا کہ امریکی عدالت سے انصاف کی توقع نہیں، اس لیے یہ پیسے عالمی عدالت انصاف میں مقدمہ دائر کر کے خرچ کئے جائیں ۔دسمبر 2009ء میں بالآخر کراچی پولیس نے عافیہ صدیقی اور ان کے بچوں کے 2003ء میں اغوا کا مقدمہ نامعلوم افراد کے خلاف درج کر لیا۔ ستمبر 2010ء میں پاکستانی حکومت نے دعوی کیا کہ اس نے امریکی حکام سے عافیہ صدیقی کو باعزت وطن واپس بھیجنے کا مطالبہ بذریعہ خط کیا ہے۔ 23 ستمبر، 2010ء میں نیویارک امریکی عدالت نے عافیہ صدیقی کو 86 سال قید کی سزا سنائی۔ جون 2013ء میں امریکی فوجی زنداں فورٹ ورتھ میں عافیہ پر حملہ کیا گیا جس سے وہ دو دن بیہوش رہی۔ بالاخر وکیل کی مداخلت پر اسے طبی امداد دی گئی۔ عافیہ صدیقی نے دو شادیاں کیں1995ء میں پاکستان نژادامجد محمد خان سے نکاح ہوا۔ 1996ء میں ایک لڑکا محمد احمد اور 1998ء میں ایک لڑکی مریم پیدا ہوئی۔ 2002ء میں امجد خان نے انہیں طلاق دے دی۔ پھر 2003ء میں عمار بلوچی سے نکاح ہوا۔ اپریل 2010ء میں گیارہ سالہ لڑکی جس کے بارے میں خیال ہے کہ وہ عافیہ کے ساتھ لاپتہ ہونے والی ایک بیٹی ہے کو نامعلوم افراد کراچی میں عافیہ کی بہن فوزیہ صدیقی کے گھر چھوڑ گئے۔ حالات وواقعات کے تناظر میں یہی کہا جاسکتاہے کہ برس ہابرس سے امریکی قید میں صعوبتیں برداشت کرنے والی عافیہ صدیقی کا واحد جرم ان کا مسلمان ہوناہے ۔وہ ایک بے حس مسلم معاشرے کی فردہیں جہاں کے لوگوںکی ڈراموں اور فلموںمیں ظلم دیکھ کر آنکھیں بھر آتی ہیں لیکن حقیقی مظلوم کرداروںپر ذرا ترس نہیں آتا۔ اس تناظرمیں اسحاق ڈارکے خیالات کوئی نئی بات نہیں ۔حکمران شاید اس سے آگے بھی جانے کے لئے تیار ہیں۔ بس رائے عامہ کی نفرت کا ڈرہے۔ اسی لئے جھٹ پٹ بیان بدل لینا ان کا پراناوطیرہ ہے۔ امریکہ میں ان کے ساتھ جو کل ہوا وہ ابھی ایک ٹریلرہے۔ قومی حمیت اور عوام کی امنگوں کے خلاف جوبھی کوئی اقدام کرنا چاہے گا اسی ضرور عوامی نفرت اور غیض و غضب کا شکار ہوناپڑے گا ۔شاید اسی ڈر سے نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے فٹافٹ یہ وضاحت پیش کردی ہے مسلم لیگ (ن) کی حکومتوں کے ادوار میں ہم ہمیشہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کیلئے تمام تر سفارتی اور عدالتی معاونت فراہم کرتے رہے ہیں اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے جب تک کہ رہائی کا معاملہ حل نہ ہو جائے۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے معاملے پر ہماری حکومت کا موقف دو ٹوک اور واضح ہے۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے کیس سے متعلق میرے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر لیا جا رہا ہے ۔ اب عوام کی مرضی ہے وہ ایسی وضاحت پر یقین کرے نہ کرے۔ بہرحال ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لئے تمام مسلم حکمرانوںکو اپنے وسائل بروئے کار لانا ہونگے تاکہ ایک بے گناہ کی داد رسی ہو سکے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: ڈاکٹر عافیہ صدیقی عافیہ صدیقی کو عافیہ صدیقی کے عافیہ صدیقی کی کی رہائی کے میں امریکی کراچی میں میں عافیہ کی عدالت کے ساتھ تھا کہ کیا کہ کے لئے
پڑھیں:
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں اضافے پر اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مزید حملے نہ صرف خطے میں کشیدگی بڑھا سکتے ہیں بلکہ اسرائیل کو عالمی سطح پر مزید تنہائی کا شکار بھی کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پیر کو دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو خاصی کشیدہ رہی جس میں ٹرمپ نے لبنان میں جاری اسرائیلی کارروائیوں اور بیروت میں ممکنہ حملوں کے منصوبوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
امریکی صدر نے نیتن یاہو کو باور کرایا کہ بیروت پر حملہ خطے میں حالات کو مزید خراب کر سکتا ہے، اسرائیل کی بین الاقوامی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور ایران کے ساتھ جاری سفارتی مذاکرات کو بھی پیچیدگیوں سے دوچار کر سکتا ہے۔
یہ گفتگو ایسے وقت میں ہوئی جب ایران نے لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات سے دستبرداری کا عندیہ دیا ہے۔ ٹرمپ کے قریبی ذرائع کے مطابق امریکی صدر کو خدشہ ہے کہ اگر تنازع مزید پھیلا تو خطے میں استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششیں متاثر ہو سکتی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق ٹرمپ نے اسرائیل کے دفاع کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ کی جانب سے حملوں کا جواب دینا اسرائیل کا حق ہے تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ موجودہ فوجی ردعمل ضرورت سے زیادہ ہے اور اس کے نتیجے میں شہری ہلاکتوں اور تباہی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
مزید پڑھیے: امریکا کی 250ویں سالگرہ کی تقریبات تنازع کا شکار، فنکاروں کی علیحدگی پر صدر ٹرمپ برہم
رپورٹس کے مطابق امریکی صدر نے خاص طور پر ان کارروائیوں پر اعتراض کیا جن میں حزب اللہ کے کمانڈروں کو نشانہ بنانے کے لیے رہائشی عمارتوں پر وسیع بمباری کی جاتی ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ اس طرزِ عمل سے اسرائیل کے خلاف عالمی تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔
حکام کے مطابق گفتگو کے دوران ٹرمپ نے نیتن یاہو کو خبردار کیا کہ بیروت پر حملے کی منظوری اسرائیل کو مزید عالمی تنہائی کی طرف دھکیل سکتی ہے اور اتحادی ممالک میں بھی تشویش پیدا کر سکتی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سخت مؤقف کے بعد اسرائیل نے بیروت میں بعض اہداف پر مجوزہ حملوں کا منصوبہ مؤخر کر دیا۔ بعد ازاں ایک اسرائیلی عہدیدار نے بھی اشارہ دیا کہ فی الحال بیروت پر حملے کا کوئی فوری منصوبہ نہیں تاہم جنوبی لبنان میں فوجی کارروائیاں جاری رہیں گی۔
ٹرمپ سے گفتگو کے بعد جاری بیان میں نیتن یاہو نے کہا کہ اگر حزب اللہ کی جانب سے حملے جاری رہے تو بیروت میں اہداف کو نشانہ بنانے کا آپشن بدستور موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اپنی سلامتی کے خلاف خطرات کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گا۔
مزید پڑھیں: امریکی صدر ٹرمپ کا طبی معائنہ: کام کے لیے ِفٹ قرار، صحت بہترین، وزن کم کرنے کا مشورہ
تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ ٹرمپ اور نیتن یاہو ایران سمیت کئی علاقائی معاملات پر قریبی رابطے میں رہے ہیں تاہم لبنان کے معاملے پر حالیہ اختلافات دونوں رہنماؤں کے درمیان بڑھتے ہوئے مؤقف کے فرق کی نشاندہی کرتے ہیں۔
صدر ٹرمپ کی تشویش کی ایک بڑی وجہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات ہیں جنہیں امریکی انتظامیہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ سمجھتی ہے۔
ٹیلیفونک گفتگو کے کچھ ہی دیر بعد ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں تاہم امریکی حکام کا ماننا ہے کہ لبنان کی صورتحال ان مذاکرات کے مستقبل پر براہِ راست اثر انداز ہو سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ صورتحال امریکا کے لیے ایک نازک توازن کی عکاسی کرتی ہے جہاں ایک جانب واشنگٹن اسرائیل کی سلامتی کی حمایت جاری رکھنا چاہتا ہے جبکہ دوسری جانب وہ خطے میں وسیع جنگ کے خدشات کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کو بھی آگے بڑھا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: امریکا ایران ممکنہ معاہدہ: نیتن یاہو کی برسوں پر محیط ایران پالیسی کو بڑا دھچکا لگنے کا خدشہ
جنوبی لبنان میں جاری کشیدگی اور ایران کے ساتھ مذاکرات کے تناظر میں آنے والے ہفتے مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی اور علاقائی سفارت کاری کے لیے انتہائی اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ٹرمپ نیتن یاہو پر برہم لبنان پر اسرائیل کے حملے لبنان جنگ