حکومت صحت کے نظام کو مضبوط بنانے کے لئے پرعزم ہے،سید مصطفی کمال
اشاعت کی تاریخ: 17th, September 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 17 ستمبر2025ء)وفاقی وزیر قومی صحت سید مصطفی کمال نے عالمی شراکت داری اور ورک فورس ڈویلپمنٹ کو فروغ دینے کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت صحت کے نظام کو مضبوط بنانے کے لئے پرعزم ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو ہیلتھ سروسز اکیڈمی اسلام آباد کے دورے کے موقع پر گفتگوکرتے ہوئے کیا۔
(جاری ہے)
ہیلتھ سروسز اکیڈمی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر شہزاد علی خان نے وزیر صحت کو اکیڈمی کی کامیابیوں، اقدامات اور آئندہ حکمتِ عملیوں پر بریفنگ دی۔انہوں نے عوامی صحت کی تعلیم میں جدت اور تحقیقاتی تعاون بڑھانے پر زور دیا۔ اس دوران شواہد پر مبنی پالیسی سازی اور افرادی قوت کی تیاری پر بھی گفتگو کی گئی۔وفاقی وزیر نے ہیلتھ سروس اکیڈیمی کی پیشرفت کو سراہا۔ایچ ایس اے نے وزیر صحت کے دورے اور تعاون پر شکریہ ادا کیا۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے
پڑھیں:
دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن(Establishment Division) نے دفتری نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ ماحول کو بہتر بنانے کے لیے نیا سرکلر جاری کرتے ہوئے تمام افسران اور اہلکاروں کو مقررہ دفتری اوقات، بائیومیٹرک حاضری اور لباس کے ضوابط پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔
جاری کردہ سرکلر کے مطابق تمام ملازمین کے لیے صبح 8 بجے سے شام 4 بجے تک کے سرکاری اوقاتِ کار پر مکمل عمل درآمد لازمی ہوگا، جبکہ مقررہ وقت پر دفاتر میں حاضری یقینی بنانے کے لیے بائیومیٹرک حاضری کے نظام پر سختی سے عمل کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
سرکلر میں سرکاری ملازمین کے لیے ڈریس کوڈ بھی واضح کیا گیا ہے۔ ہدایات کے مطابق افسران اور اہلکار یا تو لاؤنج سوٹ پہنیں یا پھر شلوار قمیض کے ساتھ ویسٹ کوٹ زیب تن کریں تاکہ دفاتر میں پیشہ ورانہ اور باوقار ماحول برقرار رکھا جا سکے۔
مزیدپڑھیں:آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے دفتری ماحول کو بہتر بنانے کے لیے راہداریوں میں شور شرابے اور بلند آواز میں گفتگو سے بھی گریز کرنے کی ہدایت کی ہے، تاکہ سرکاری امور کی انجام دہی کے دوران پرسکون اور منظم ماحول برقرار رہے۔
سرکلر میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ تمام ہدایات فوری طور پر نافذ العمل ہیں اور متعلقہ افسران کو ان پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔