جسٹس طارق جہانگیری کو عدالتی کام سے روکنے کے بعد نیا روسٹر جاری، وکلا کی جزوی ہڑتال
اشاعت کی تاریخ: 17th, September 2025 GMT
اسلام آباد ہائیکورٹ نے جسٹس طارق محمود جہانگیری کو عدالتی کام سے روکنے کے بعد ججز کا نیا ڈیوٹی روسٹر جاری کر دیا ہے، جس میں ان کا نام شامل نہیں ہے۔
نئے روسٹر کے اجرا کے بعد جسٹس ثمن رفعت امتیاز ہائیکورٹ کی تیسرے نمبر پر سینیئر ترین جج بن گئی ہیں۔
عدالتی ذرائع کے مطابق چیف جسٹس کی کاز لسٹ بھی منسوخ کر دی گئی ہے جبکہ جسٹس ثمن رفعت امتیاز تاحال عدالت میں نہیں پہنچیں۔
یہ بھی پڑھیں:
جسٹس بابر ستار اور جسٹس سردار اعجاز اسحاق کا ڈویژن بینچ بھی وقت پر عدالتی کارروائیوں کا آغاز نہیں کرسکا، جبکہ جسٹس ارباب محمد طاہر پہلے ہی رخصت پر ہیں۔
دوسری اسلام آباد بار کونسل کی کال پر ہائیکورٹ میں وکلا کی جزوی ہڑتال جاری ہے، بیستر وکلا عدالتوں میں پیش نہیں ہو رہے، تاہم کچھ وکلا ارجنٹ کیسز میں پیش ہو رہے ہیں۔
ہائیکورٹ کے احاطے میں موجود اسلام آباد بار کونسل کے سیکریٹری منظور ججہ نے وکلا سے آج عدالتوں میں پیش نہ ہونے کی اپیل کی ہے۔
مزید پڑھیں:
ہائیکورٹ کی طرح دارالحکومت کی ضلعی عدالتوں میں بھی جسٹس طارق محمودجہانگیری کو عدالتی کام سے روکنے کے فیصلے کے خلاف وکلا کی جزوی ہڑتال دیکھنے میں آئی۔
بیشتر وکلا عدالتوں میں پیش نہیں ہوئے جس کے باعث سائلین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
اسلام آباد بار ایسوسی ایشن نے آج اجلاس طلب کر رکھا ہے جس میں جسٹس طارق محمود جہانگیری کو جوڈیشل ورک سے روکنے کے فیصلے کے خلاف آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسلام اباد جسٹس ارباب محمد طاہر جسٹس ثمن رفعت امتیاز جسٹس طارق جہانگیری ڈیوٹی روسٹر ہائیکورٹ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسلام اباد جسٹس ارباب محمد طاہر جسٹس ثمن رفعت امتیاز جسٹس طارق جہانگیری ڈیوٹی روسٹر ہائیکورٹ جہانگیری کو عدالتوں میں سے روکنے کے میں پیش
پڑھیں:
امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
امریکا کے ریپبلکن اکثریتی ایوان نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں روکنے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کر لی جسے کانگریس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے لیے ایک اور علامتی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر حملہ ہوا تو ایران کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کردیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی
قرارداد 214 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظور ہوئی جبکہ چار ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے اس کی حمایت کی۔
یہ قرارداد واشنگٹن سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال نے پیش کی جس میں صدر ٹرمپ کو ہدایت دی گئی ہے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف امریکی مسلح افواج کی کارروائیاں بند کی جائیں۔
تاہم ماہرین کے مطابق اس قرارداد کی حیثیت زیادہ تر علامتی ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں بھی کانگریس اس نوعیت کی متعدد قراردادیں منظور کر چکی ہے مگر ان کے نتیجے میں جنگی کارروائیاں نہیں رک سکیں۔
مزید پڑھیے: ایران مذاکرات کے لیے بے تاب، لیکن بامعنی بات چیت ہی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ
قرارداد کی حمایت کرنے والے چار ریپبلکن ارکان میں ٹام بیریٹ (مشی گن)، برائن فٹزپیٹرک (پنسلوانیا)، وارن ڈیوڈسن (اوہائیو) اور تھامس میسی (کینٹکی) شامل ہیں۔
Today, the House PASSED my bipartisan War Powers Resolution to end the war in Iran by a vote of 214-208.
This is a big victory for the vast majority of Americans who want President Trump to end this illegal war and focus on their lives right here at home. pic.twitter.com/ZaE3NtTJdP
— Rep. Pramila Jayapal (@RepJayapal) July 23, 2026
اگرچہ ریپبلکن پارٹی کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں معمولی برتری حاصل ہے تاہم اس قرارداد کی منظوری کو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر اپنی ہی جماعت کے بعض ارکان کے تحفظات کی علامت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
ادھر امریکی سینیٹ میں بھی ایران سے متعلق ایک علیحدہ مگر ملتی جلتی قرارداد پر ووٹنگ متوقع تھی۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مزید شدت لانے کا اعلان کیا ہے اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی بھی تصدیق کی ہے۔
مزید پڑھیں: ایران کو ایک امریکی فوجی کے قتل کی کئی گنا زیادہ قیمت چکانی پڑےگی، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ
صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ایران اور اس کے اتحادی یمنی حوثی گروپ کو بڑی فوجی سزا دینے کا عندیہ دیا۔ دوسری جانب، عارضی جنگ بندی کے مؤثر طور پر ختم ہونے کے 2 ہفتے بعد امریکی فوج نے ایران پر ایک اور رات فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے پڑوسی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا امریکی ایوان نمائندگان ایران امریکا کشیدگی ٹرمپ کو جنگ روکنے کی ہدایت ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز