نوازشریف کو پٹھوں میں درد کا سامنا ، پنجاب انسٹیٹیوٹ آف نیورو سائنسز میں طبی معائنہ
اشاعت کی تاریخ: 7th, September 2025 GMT
نوازشریف کو پٹھوں میں درد کا سامنا ، پنجاب انسٹیٹیوٹ آف نیورو سائنسز میں طبی معائنہ WhatsAppFacebookTwitter 0 7 September, 2025 سب نیوز
لاہور (سب نیوز)صدر مسلم لیگ (ن)میاں نواز شریف پنجاب انسٹیٹیوٹ آف نیور و سائنسز پہنچ گئے،ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر آصف بشیر نے نواز شریف کا طبی معائنہ کیا۔
نوازشریف نے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف نیورو سائنسز سے ایم آرآئی کرائی، اس موقع پر ایم ایس ڈاکٹرعمر اسحاق بھی موجود تھے۔ نواز شریف نے پروفیسر ڈاکٹر آصف بشیرکی زیرنگرانی ایم آرآئی کرائی۔ نوازشریف کا طبی معائنہ نیورو وارڈ میں کیا گیا۔نواز شریف نے گردن اور سرکی ایم آرائی کرائی ۔ نواز شریف کو پٹھوں میں درد کا سامنا ہے۔ نوازشریف کو اینجیو ڈیپارٹمنٹ میں ڈی سی آر کے لیے بھی لیجایا گیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاکستان سمیت دنیا کے مختلف حصوں میں رواں سال کے دوسرے مکمل چاند گرہن کا آغاز پاکستان سمیت دنیا کے مختلف حصوں میں رواں سال کے دوسرے مکمل چاند گرہن کا آغاز مون سون سیزن میں اب تک 910افراد جاں بحق اور 1044زخمی ہوئے، این ڈی ایم اے وزیراعلی گنڈا پور کا بانی پی ٹی آئی کی ہدایت پر پشاور میں جلسے کا اعلان بند ٹوٹنے کا خطرہ، جلالپور پیر والا شہر کو خالی کرنے کا حکم دیدیاگیا وزیراعظم کی پیٹرولیم مصنوعات کی ترسیل بلارکاوٹ جاری رکھنے کی ہدایت دریا کے قریب قائم نجی سوسائٹیز سے نمٹنے کیلئے حکمت عملی تیار کررہے ہیں، رانا تنویرCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
بلوچستان کی ترقی قومی ترجیح، وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے تاریخی فیصلے کیے، وزیراعظم شہباز شریف
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ بلوچستان پاکستان کا رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا اور انتہائی اہم صوبہ ہے، جس کے عوام نے قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک ملک کی ترقی اور استحکام میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت بلوچستان کی ترقی، خوشحالی اور عوام کی فلاح کو قومی ترجیح سمجھتی ہے اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے ماضی میں بھی اہم فیصلے کیے گئے، جنہیں آئندہ بھی جاری رکھا جائے گا۔
بلوچستان نیشنل ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ 1947 میں بلوچستان کی مختلف ریاستوں نے منظم انداز میں پاکستان میں شمولیت اختیار کی، جبکہ 1948 میں بلوچ اور پشتون قبائلی و سیاسی قیادت نے قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان کا حصہ بننے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی مخلص قیادت نے ذاتی مفادات پر قومی مفاد کو ترجیح دی، جس کے نتیجے میں صوبہ ملک کی تعمیر و ترقی کے سفر میں شریک ہوا۔
وزیراعظم نے کہا کہ اگرچہ آبادی کے لحاظ سے بلوچستان ملک کا سب سے چھوٹا صوبہ ہے، تاہم جغرافیائی اعتبار سے یہ سب سے بڑا صوبہ ہے، جہاں شہر، قصبے اور دیہات ایک دوسرے سے طویل فاصلے پر واقع ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر اور دیگر بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے لیے نسبتاً زیادہ وسائل درکار ہوتے ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ 2010 کے قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ میں بلوچستان کے مالی حقوق کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے حصے میں نمایاں اضافہ کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ دیگر صوبوں، خصوصاً پنجاب نے رضاکارانہ طور پر بلوچستان کے حق میں فیصلہ کیا، جبکہ پنجاب نے سالانہ 11 ارب روپے اضافی حصہ دینے کی ذمہ داری قبول کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ یہ کسی قسم کا احسان یا رعایت نہیں تھی بلکہ ایک خاندان کی طرح بھائی چارے اور قومی یکجہتی کے جذبے کے تحت کیا گیا فیصلہ تھا۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب 2010 سے اب تک بلوچستان کے لیے تقریباً 150 ارب روپے کا اضافی حصہ فراہم کر چکا ہے، جو وفاق اور صوبوں کے درمیان تعاون اور یکجہتی کی بہترین مثال ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بلوچستان کی پائیدار ترقی، عوام کی خوشحالی اور صوبے میں ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے لیے وفاقی حکومت ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں