نواز شریف کا جنرل اسپتال میں تفصیلی چیک اپ، مختلف ٹیسٹ کیے گئے
اشاعت کی تاریخ: 7th, September 2025 GMT
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سربراہ اور سابق وزیراعظم میاں نواز شریف طبی معائنے کے لیے جنرل اسپتال لاہور پہنچ گئے۔
یہ بھی پڑھیں:
نواز شریف نے اسپتال میں ایم آر آئی سمیت دیگر طبی ٹیسٹ کروائے۔ ان کا طبی معائنہ پروفیسر ڈاکٹر آصف بشیر کی نگرانی میں کیا گیا۔ اس دوران نواز شریف کا نیورو وارڈ میں تفصیلی چیک اپ بھی کیا گیا۔
نواز شریف نے برین اور سروائیکل ایم آر آئی کرائی، جبکہ معائنے کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ انہیں پٹھوں میں درد کی شکایت ہے۔ اسی حوالے سے انہیں اینجیو ڈیپارٹمنٹ میں ڈی سی آر کے لیے بھی لے جایا گیا۔
واضح رہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن کے سربراہ نواز شریف اس وقت پاکستان میں موجود ہیں، ماضی میں ان کی لندن سے اوپن ہارٹ سرجری ہو چکی ہے۔ اور وقتاً فوقتاً چیک اپ کے لیے لندن جاتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews پروفیسر ڈاکٹر آصف تفصیلی چیک اپ طبی معائنہ نواز شریف وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پروفیسر ڈاکٹر ا صف نواز شریف وی نیوز نواز شریف چیک اپ کے لیے
پڑھیں:
گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
ایک بیان میں قائد نون لیگ کا کہنا تھا کہ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ نون لیگ کے قائد میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ ہم نے گلگت سے سکردو کا 9 گھنٹے کا سفر 3 گھنٹے میں بدل کر عوام کے 6 گھنٹے بچائے ہیں۔ 70 سال سے لٹکے منصوبے ہم نے اربوں روپے لگا کر مکمل کیے۔ ہمیں یہ منظور نہیں کہ یہاں 20، 22 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہو۔ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ ایک بیان میں میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ میں شہباز شریف اور مریم کو بھی کہوں گا کہ وہ دونوں یہاں آئیں اور اگر اللہ کے فضل و کرم سے ہماری حکومت آتی ہے، تو میں خود ہر دوسرے تیسرے مہینے یہاں آکر شروع کیے گئے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اور نگرانی اپنی دیکھ بھال میں مکمل کرواؤں گا۔ یہاں دیس نکالے کی باتیں کرنے والے یاد رکھیں کہ 2017ء میں این ایف سی کمیٹی نواز شریف نے ہی بنائی تھی تاکہ اس مسئلے کا مستقل حل نکل سکے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ گلگت، سکردو، بلتستان اور ہنزہ سمیت پورے خطے کے عوام سے مخاطب ہوں۔ اللہ کے فضل و کرم سے اور شہباز شریف سے بات کر کے اس شاہراہ کو پورا خنجراب تک پہنچائیں گے۔ پاک چائنا ٹریڈنگ کے اس منصوبے سے یہاں ایسی خوشحالی آئے گی کہ آپ کو گھر بیٹھے روزگار اور اخراجات ملیں گے اور پورا خطہ بدل جائے گا۔ آج گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، وہ گلگت کہاں ہے جسے میں جانتا تھا؟ ہم نے مانسہرہ سے تھاکوٹ تک بہترین سڑک بنائی جسے خنجراب تک جانا تھا مگر اسے نظر انداز کر دیا گیا۔ ہم کسی کی برائی کرنے نہیں بلکہ ہمیشہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں۔ یہاں کے عوام بے تحاشہ ترقی اور روزگار کے حقدار ہیں۔