مسلم حکمران زبانی بیانات کے بجائے اسرائیل کے خلاف عملی اقدامات اور فوجی کارروائی کریں ، منعم ظفر خان
اشاعت کی تاریخ: 17th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی:۔ امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے جمعرات 18ستمبرکے “کراچی چلڈرن غزہ مارچ” کی تیاریوں، انتظامات اور دیگر بلدیاتی مسائل کے حوالے سے ادارہ نورحق میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ جماعت اسلامی کے تحت شاہراہ قائدین پر “کراچی چلڈرن غزہ مارچ” کی تیاریاں و انتظامات مکمل اور ایک ہزار سے زائد اسکولز مارچ میں شرکت کی یقین دہانی کراچکے ہیں۔ کراچی کے بچے اس مارچ کے ذریعے دنیا کو پیغام دیں گے کہ وہ اپنے مظلوم فلسطینی بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔مارچ سے امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن خصوصی خطاب کریں گے۔
اسرائیل کی جانب سے غزہ میں معصوم بچوں کا قتلِ عام جاری ہے، ہر 45منٹ میں ایک بچہ شہید ہورہا ہے اور گزشتہ 700دنوں میں 20 ہزار سے زائد بچے شہید ہوچکے ہیں۔ مسلم دنیا کے حکمران زبانی بیانات کے بجائے اسرائیل کے خلاف عملی اقدامات اور فوجی کارروائی کریں۔ پاکستان، ترکی، ملائشیا، سعودی عرب، ایران اور قطر کو اہل فلسطین کی عملی مدد کے لیے متحد ہونا ہوگا۔ جماعت اسلامی اہل غزہ کے لیے مسلسل آواز بلند کررہی ہے، ظلم کا یہ دور ضرور ختم اور اہل فلسطین آزادی حاصل کریں گے۔
منعم ظفر خان نے کہا کہ صوبائی حکومت و قابض میئر کراچی کے مسائل حل کرنے میں مسلسل ناکام ثابت ہورہے ہیں، شہر کراچی اس وقت کھنڈر کا منظر پیش کررہا ہے۔ یونیورسٹی روڈ پر 3دن سے گٹر ابل رہے ہیں، پانی کی لائن ٹوٹ گئی ہے، لوگ راستے بدل بدل کر سفر کرنے پر مجبور ہیں اور کاروبار متاثر ہوچکے ہیں۔ 79 ارب روپے سے شروع ہونے والا ریڈ لائن منصوبہ اب 100ارب روپے سے تجاوز کرچکا ہے جسے 2023ءمیں مکمل ہونا تھا لیکن یہ منصوبہ 2028ءمیں بھی مکمل ہوتا نظر نہیں آرہا۔
کریم آباد انڈر پاس کو شروع ہوئے 2سال ہوگئے مگر یہ منصوبہ بھی آج تک مکمل نہیں ہوا۔ بارشوں کے بعد شہر میں جگہ جگہ گٹر ابل رہے ہیں اور سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مرتضیٰ وہاب بجلی کے بلوں میں میونسپل چارجز ٹیکس لگا کر کراچی کے شہریوں پر ڈاکہ ڈال رہے ہیں۔ کمرشل صارفین پر ٹیکس 400 روپے سے بڑھا کر 700 روپے کردیا گیا ہے، جو کہ توہین عدالت ، عدالتی فیصلے کی کھلی خلاف ورزی ہے اور اہل کراچی کی جیبوں پر ڈاکا ہے ۔ جماعت اسلامی نے اس کے خلاف عدالت میں پٹیشن دائر کی ہے۔
قابض میئر 106 سڑکوں کی بات کرتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ اتنی بھی درست نہیں کرسکے، ایک بارش میں سڑکوں کی استر کاری ضائع ہوجاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کی “حق دو کراچی تحریک” جاری ہے اور بلدیاتی نمائندے محدود وسائل کے باوجود عوام کی خدمت کررہے ہیں۔ بارشوں کے باعث کاروباری طبقے کو 16 ارب روپے کا نقصان ہوا ہے، لیکن جماعت اسلامی عزم رکھتی ہے کہ سوئی سدرن گیس کے منصوبے کے مکمل ہوتے ہی ٹا ¶نز میں سڑکوں کی تعمیر کا کام شروع کیا جائے گا۔
منعم ظفر خان نے کہاکہ غزہ کے ڈاکٹروں نے ایم آر آئی اور سی ٹی اسکین رپورٹس کے ذریعے دنیا کو دکھایا ہے کہ بارہ سال سے کم عمر بچوں کے سروں پر گولیاں ماری جارہی ہیں، لیکن اس کے باوجود امریکا اسرائیل کو مالی امداد اور اسلحہ فراہم کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حماس غزہ کی جمہوری قوت ہے جسے عوام نے 2006ءمیں منتخب کیا تھا مگر غیر قانونی طریقے سے ان کی حکومت ختم کردی گئی۔ آج اہل غزہ شدید بھوک اور غذائی قلت کا شکار ہیں، امدادی قافلوں کو بھی نشانہ بنایا جارہا ہے، اس کے باوجود دنیا بھر میں باضمیر لوگ اسرائیل کے خلاف احتجاج کررہے ہیں اور خصوصاً مغربی ممالک میں عوام اپنے حکمرانوں سے سوال کررہے ہیں کہ کہاں ہے تمہاری انسانیت؟ پریس کانفرنس میں سیکرٹری اطلاعات زاہد عسکری،سیکریٹری پبلک ایڈکمیٹی نجیب ایوبی،سیکریٹری ضلع قائدین و یوسی چیئرمین نعمان حمید،سینئر ڈپٹی سکریٹری اطلاعات صہیب احمد ودیگر بھی موجودتھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی نے کہا کہ کے خلاف
پڑھیں:
وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کا خراب کارکردگی کے حامل فیلڈ افسران کے خلاف فوری تادیبی کارروائی کا حکم
وفاقی وزیر برائے توانائی، سردار اویس احمد خان لغاری(Awais Leghari) نے ملک بھر کی تمام بجلی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کو سخت ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ اپنی حدود میں خراب کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے سب ڈویژنل افسران (SDOs) اور ایکسیئن (XENs) کے خلاف فوری طور پر تادیبی کارروائی کا آغاز کریں۔
وفاقی وزیر کی ان ہدایات پر برق رفتاری سے عمل درآمد کرتے ہوئے پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی (پیسکو) اور سکھر الیکٹرک پاور کمپنی (سیسکو) نے پہل کی ہے۔ ان دونوں کمپنیوں نے قومی ‘118 کال سینٹر سسٹم’ (CCMS PLUS) پر درج ہونے والی صارفین کی شکایات کے ازالے میں ناکامی اور غفلت برتنے پر اپنے خراب کارکردگی کے حامل افسران کو معطل کرتے ہوئے ان کے خلاف محکمانہ کارروائی شروع کر دی ہے۔
پاکستان کی دیگر تمام تقسیم کار کمپنیاں بھی اپنے اپنے دائرہ اختیار میں ایسے ہی نااہل افسران کے خلاف تادیبی اقدامات کے عمل کو حتمی شکل دے رہی ہیں۔وفاقی وزیر کی جانب سے یہ احکامات کسٹمر کمپلینٹ مینجمنٹ سسٹم (CCMS PLUS) یعنی پاکستان کے قومی 118 کال سینٹر سے حاصل کردہ ڈیٹا کے جامع اور ذاتی جائزے کے بعد جاری کیے گئے۔ یہ ڈیٹا یکم اکتوبر 2025 سے 31 مارچ 2026 تک کی مدت پر محیط ہے۔
لوڈ شیڈنگ, وولٹیج کے اتار چڑھاؤ، لائن فالٹس اور ٹرانسفارمر ٹرپنگ جیسی شکایات کے اس ریکارڈ سے افسران کی مجرمانہ غفلت کا ایک انتہائی تشویشناک رجحان سامنے آیا۔ جائزے کے دوران یہ پایا گیا کہ صارفین کی ہزاروں شکایات یا تو مقررہ وقت کے بعد حل کی گئیں یا انہیں بالکل ہی نظر انداز کر دیا گیا، جس کے نتیجے میں شہری اور دیہی علاقوں کے عوام کو طویل عرصے تک بجلی کی بندش کا عذاب جھیلنا پڑا۔
پاور ڈویژن نے شکایات کے ازالے میں سب سے زیادہ تاخیر کرنے والے افسران کی نشاندہی کر کے فہرستیں تیار کیں اور فوری محکمانہ کارروائی کے لیے انہیں تمام ڈسکوز کے چیف ایگزیکٹوز کو ارسال کر دیا۔وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے صارفین کی شکایات کا بروقت ازالہ کرنے جیسے بنیادی فرائض میں ناکامی پر نامزد افسران کے رویے پر شدید مایوسی کا اظہار کیا۔
مزیدپڑھیں:ویمنز ٹرائنگولر سیریز، پاکستان کے لیے فائنل تک رسائی مشکل
انہوں نے واضح کیا کہ 118 کال سینٹر پلیٹ فارم کا قیام بالخصوص اس لیے عمل میں لایا گیا تھا تاکہ عوام اور بجلی فراہم کرنے والے اداروں کے درمیان فاصلوں کو ختم کیا جا سکے، اور جو بھی افسر اس نظام کے ساتھ سرد مہری برت رہا ہے وہ براہِ راست عوامی فلاح و بہبود کے حکومتی عزم کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ان تمام نشاندہی شدہ افسران کے خلاف بلا تاخیر تادیبی کارروائی (بشمول معطلی) شروع کی جائے اور مروجہ سروس رولز کے تحت اسے مقررہ وقت کے اندر منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔
اس سلسلے میں پیسکو نے فرائض میں غفلت اور طے شدہ اہداف حاصل نہ کرنے پر 3 ایس ڈی اوز اور 1 ایکسیئن کو فوری طور پر معطل کر دیا ہے۔ معطل ہونے والے ایس ڈی اوز پشاور سرکل کے تحت گلبرگ، شاہی باغ اور سیٹھی ٹاؤن/دلیزاک سب ڈویژنز میں تعینات تھے، جنہیں اب روزانہ حاضری کے لیے جنرل مینیجر (آپریشنز) پیسکو ہیڈ کوارٹرز کے ساتھ منسلک کر دیا گیا ہے۔ اسی طرح مردان-I ڈویژن کے معطل ایکسیئن کو سپرنٹنڈنگ انجینئر (آپریشنز) مردان سرکل کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے۔ مزید برآں، صوابی-I ڈویژن کے ایکسیئن (آپریشنز) کو بھی بدعنوانی اور ناقص کارکردگی پر معطل کر کے سپرنٹنڈنگ انجینئر (آپریشنز) پشاور سرکل کے ماتحت کر دیا گیا ہے۔ یہ احکامات مجاز اتھارٹی/سی ای او پیسکو کی منظوری سے جاری کیے گئے ہیں۔
سیپکو نے بھی 118 کال سینٹر پر شکایات کے ازالے میں خراب کارکردگی دکھانے پر 1 ایس ڈی او اور 1 (سابقہ) ایکسیئن کو فوری طور پر معطل کر دیا ہے۔ معطل ہونے والوں میں روہڑی سب ڈویژن کے ایس ڈی او آپریشن سجاد علی میمن اور سکھر ڈویژن کے اس وقت کے ایکسیئن (آپریشنز) معراج الدین شیخ شامل ہیں، جو آج کل ایکسیئن کنسٹرکشن ڈویژن سکھر کے طور پر کام کر رہے تھے۔ ان دونوں کو حاضری کے لیے سیپکو ہیڈ کوارٹرز رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ یہ احکامات سی ای او سیپکو کی منظوری سے جاری ہوئے ہیں۔
مزیدپڑھیں:لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ، خاتون کو دوسرے شوہر کے ساتھ جانے کی اجازت
احتساب کا یہ عمل صرف پیسکو اور سیپکو تک محدود نہیں رہے گا۔ دیگر تمام ڈسکوز بشمول لیسکو، گیپکو، فیسکو، آئیسکو، میپکو، ہیزیکو، ہیسکو، کیسکو اور ٹیسکو بھی سی سی ایم ایس پلس کے ڈیٹا کی روشنی میں اپنے خراب کارکردگی والے افسران کے خلاف کارروائی کا آغاز کر رہی ہیں۔ ان تمام کمپنیوں میں مجموعی طور پر 100 سے زائد ایس ڈی اوز اور ایکسیئنز کی نشاندہی کی گئی ہے جنہیں جلد ہی شوکاز نوٹسز، معطلی اور غیر آپریشنل عہدوں پر تبادلے جیسی محکمانہ کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔
وفاقی وزیر نے تمام ڈسکوز کو مزید ہدایت کی کہ وہ سب ڈویژن اور ڈویژن کی سطح پر شکایات کے حل کی شرح پر نظر رکھنے کے لیے ہفتہ وار نگرانی کا ایک فعال نظام وضع کریں۔ جو افسران شکایات کے انتظام میں مسلسل ناکام ثابت ہوں گے، ان کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں گے جن میں معطلی، نان آپریشنل سیٹوں پر تبادلہ اور جبری ریٹائرمنٹ شامل ہیں۔ پاور ڈویژن نے یہ اعلان بھی کیا ہے کہ تمام ایس ڈی اوز اور ایکسیئنز کی کارکردگی کی رینکنگ ہر سہ ماہی کی بنیاد پر پبلک کی جائے گی تاکہ پاور سیکٹر میں شفافیت اور جوابدہی کے حکومتی عزم کو تقویت ملے۔
مزیدپڑھیں:سمندری تجارت میں بہتری، کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی
سردار اویس احمد خان لغاری نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ موجودہ حکومت پاکستان کے ہر بجلی صارف کو بروقت، قابل اعتماد اور باعزت خدمات کی فراہمی کے لیے پوری طرح کاربند ہے، جو کہ ان کا حق ہے۔ انہوں نے این بات پر زور دیا کہ فیلڈ افسران کی ناقص کارکردگی محض ایک انتظامی کوتاہی نہیں بلکہ پاکستان کے شہریوں کے ساتھ ناانصافی ہے، جسے حکومت کسی صورت برداشت نہیں کرے گی۔
انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ مسلسل غفلت کے مرتکب افسران کو سخت تادیبی سزاؤں کا سامنا کرنا پڑے گا، بشمول معطلی، غیر حساس عہدوں پر منتقلی اور ضرورت پڑنے پر جبری ریٹائرمنٹ۔ پاور ڈویژن پاکستان کے بجلی کی تقسیم کے نظام کو ایک ایسے کارکردگی اور صارف دوست نظام میں تبدیل کرنے کے لیے پرعزم ہے جہاں ہر شکایت کو ترجیح دی جائے اور صارف کے بروقت سروس کے حق کا ہر قیمت پر تحفظ کیا جائے۔
مزیدپڑھیں:دنیا بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری مختلف ممالک کیلیے وبال جان بن گئے
حکومتِ پاکستان، پاور سیکٹر میں جاری ڈیجیٹلائزیشن اور گورننس اصلاحات کے ذریعے تمام ڈسکوز کی آپریشنل کارکردگی کی کڑی نگرانی کر رہی ہے۔ 118 کسٹمر کمپلینٹ مینجمنٹ سسٹم (CCMS) کی نئے سرے سے بحالی اور اسے مضبوط بنانے کے تحت اب صارفین کی شکایات کا ایک جامع ڈیجیٹل ڈیٹا بیس برقرار رکھا جا رہا ہے، جس سے شکایات کی نوعیت، ان کے حل کی مدت اور سروس کے معیار کی حقیقی وقت میں جانچ ممکن ہو گئی ہے۔
یہ نظام خرابیوں کی تفصیلات، ان کے حل کے دورانیے اور سب ڈویژن و ڈویژن کی سطح پر شکایات سے نمٹنے میں برتی جانے والی کسی بھی قسم کی کوتاہی کا تفصیلی ریکارڈ رکھتا ہے۔ اس اصلاحاتی اقدام نے فیلڈ فارمیشنز کی کارکردگی کا غیر جانبدارانہ جائزہ لینے اور ڈسکوز میں تعینات افرادی قوت کی استعداد کار کو پرکھنے کی حکومتی صلاحیت میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔