اگر ہمارا پانی روکا گیا یا اس کا رخ موڑ ا گیا تو اسے اعلان جنگ سمجھا جائے گا: نائب وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 29th, July 2025 GMT
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں، اگر ہمارا پانی روکا گیا یا اس کا رخ موڑ ا گیا تو اسے اعلان جنگ سمجھا جائے گا۔نیویارک میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کو کوئی بھی یکطرفہ طور پر ختم نہیں کر سکتا، تین دریاؤں پر ہمارا حق ہے، بھارت کے ساتھ دنیا میں کہیں بھی مذاکرات کیلئے تیار ہیں، اب بھارت سے مذاکرات ہوئے تو جامع ہونگے۔اسحاق ڈار کاکہنا تھا کہ مسئلہ جموں و کشمیر کے حل کے بغیر امن قائم نہیں ہو سکتا، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاک فوج امن کیلئے کوشاں ہے۔نائب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کیخلاف کیسز عدالتی معاملہ ہے، اسرائیل کو تسلیم کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے تجارت اور ٹیرف پر بھی بات کی، ٹیرف پر معاہدے کیلئے وزیر خزانہ امریکا پہنچ رہے ہیں، اگلے دو سے تین دن میں ٹیرف پر معاہدہ طے پا جائے گا۔واضح رہے کہ اسحاق ڈار نے فلسطین کے دو ریاستی حل سے متعلق اقوام متحدہ کی کانفرنس سے بھی خطاب کرتے ہوئے غزہ میں مستقل جنگ بندی اور خوراک کی فراہمی کا مطالبہ کیا تھا۔انہوں نے کہا تھا کہ آج کا غزہ انسانی حقوق کے قوانین کا قبرستان بن چکا، غزہ میں جنگی جرائم پر قرار واقعی سزا یقینی بنائی جائے، انسانیت کے خلاف جرائم کا سلسلہ بند کیا جائے، اب وقت آگیا ہے کہ فلسطینی ریاست کو اقوام متحدہ کی مکمل رکنیت دی جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: اسحاق ڈار
پڑھیں:
پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
لاہور : پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا۔رانا سکندر حیات نے ستمبر کے پہلے ہفتے سے انگلش اور کیمسٹری سمیت دیگر مضامین کی تدریس کا اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ لاہور میں ستمبر کے پہلے ہفتے سے کلاس کو پڑھاناشروع کروں گا، انگلش اور کیمسٹری میرے پسندیدہ مضمون ہیں لہٰذا ان ہی مضامین سے شروع کروں گا۔وزیر تعلیم نے کہنا ہےکہ پرائمری اسکولوں میں انگلش اور ہائی اسکولوں میں کیمسٹری سے آغاز کروں گا جب کہ انگلش اور کیمسٹری کے علاؤہ دیگرمضامین کی بھی تدریس کروں گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہر ہفتے کسی ایک اسکول میں بغیر پیشگی اطلاع پڑھانے جاؤں گا، اساتذہ کی عزت کرتا ہوں، استاد بن کر فخر محسوس کروں گا۔ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے تعلیمی معیار کو جانچ کر تدریسی کمزوریاں دور کرنے میں مدد ملے گی۔