پاکستان انوائرمینٹل پروٹیکشن ایجنسی کو ختم کرنے کی تجویز پیش
اشاعت کی تاریخ: 29th, July 2025 GMT
اسلام آباد(خبرنگار)وزارت موسمیاتی تبدیلی کے زیلی ادارے پاکستان انوائرمینٹل پروٹیکشن ایجنسی (پاک ای پی اے) کو ختم کرنے کی تجویز پیش کردی گئی پی ای پی اے کی کارکردگی کو جواز بنا کر فیصلہ کیا گیا ہے 30 نومبر 2025 تک ایجنسی کو ختم کرتے ہوئے بنیادی ماحولیاتی ریگولیٹری ذمہ داریوں کو براہ راست وزارت موسمیاتی تبدیلی کو منتقل کردیاجائے دستیاب دستاویز میں پاک ای پی اے کی کارکردگی کی تصویر کشی کی گئی ہے جس میں اس کے موجودہ مینڈیٹ اور اثر و رسوخ کے حوالے سے غیر تسلی بخش قرار دیا گیا ہے اور ایک ہی اے کو "باکس ٹکنگ ایکسرسائز" کا لیبل لگایاگیا ہے انوائرمینٹل پروٹیکشن ایجنسی کے تین چار ٹیکنیکل افسران کو رکھ کر باقی سٹاف کو ختم کرکے سرپلس پول میں رکھا جائیگا ایک سو دس ملین کا سالانہ بجٹ رکھنے والا ادارے کا کام اسلام آباد ماحولیاتی بے قاعدگیوں پر نظر رکھنا اور آلودگی کو کنٹرول کرنا ہے واضح رہے کہ حکومت کیجانب سے "رائٹ سائزنگ" ایجنڈے کے تحت وزیر اعظم شہباز شریف کی اعلیٰ اختیاراتی ڈائون سائزنگ کمیٹی اس پر کام کر رہی ہے اس اقدام کا مقصد مالیاتی بوجھ کو کم کرنے اور کم کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے محکموں کو بند کرنے یا ان کوضم کرکے پبلک سیکٹر کے آپریشنز کو ہموار کرنا ہے حکومت پہلے ہی65 سے زیادہ وفاقی اداروں کو ختم کرنے یا ضم کرنے کیلئے لسٹ بنا چکی ہے اور حکومت کیجانب سے 43 وزارتوں کے ڈھانچے کا بھی جائزہ لیا جا رہاہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: کو ختم
پڑھیں:
بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم
احمد جواد، چیف آرگنائزر پاکستان بزنس فورم۔پاکستان بزنس فورم نے حکومت سے بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ فورم کے چیف آرگنائز احمد جواد نے کہا کہ انتخابات کے بعد حکومت کا تیسرا بجٹ ہے، اس بجٹ میں حکومت معاشی سمت واضح کرے۔
احمد جواد نے مزید کہا کہ اس وقت ریجن میں ہماری کاروباری لاگت 34 فیصد سے زیادہ ہے، توقع ہے آنے والا بجٹ گروتھ کی طرف ہوگا، موجودہ ٹیکسز میں کمی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت بزنس کمیونٹی مایوسی کا شکار ہے، کاروبار بند ہو رہے ہیں۔
احمد جواد نے کہا کہ کاروبار بند ہونے سے بزنس کمیونٹی کو بچا لیا جائے۔ پاکستان بزنس فورم کے چیف آرگنائزر کا کہنا تھا کہ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ بجلی اور گیس بلوں کے یونٹ کو مسابقتی ریٹ پر لایا جائے تاکہ بلز برداشت ہوسکیں۔