ان کو پتہ ہو گا کہ سلمان صفدر ملک سے باہر ہیں تو 24 گھنٹے کے اندر کیس لگا دیا: علیمہ خان
اشاعت کی تاریخ: 29th, July 2025 GMT
—فائل فوٹو
بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے کہا ہے کہ سلمان صفدر ملک سے باہر ہیں تو 24 گھنٹے کے اندر کیس لگا دیا، یہ سوچ رہے تھے کہ وکیل پیش نہیں ہوسکیں گے لیکن سلمان اکرم راجہ پیش ہوئے۔
سپریم کورٹ کے باہر جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 30 سیکنڈ کے لیے کیس سنا، 12 تاریخ دے دی گئی کہ اس کے درمیان کوئی ٹائم نہیں ہے۔
علیمہ خان کا کہنا تھا کہ آج بانی سے اہلخانہ کی ملاقات کا دن ہے اور ہم نے عدالت سے بھی حکم نامہ لیا ہوا ہے، آج توشہ خانہ کیس کی سماعت بھی ہے۔ گزشتہ سماعت پر پراسیکیوشن کے 12 وکلاء اور عملہ ملا کر 20 کے قریب افراد جاتے تھے، ہماری جانب سے جیل انتظامیہ صرف ایک وکیل کو جانے دیتی ہے۔
بانیٔ پی ٹی آئی کی منظوری کے بغیر خیبر پختونخوا اسمبلی سے بجٹ منظور ہونے پر علیمہ خان کا ردِعمل سامنے آ گیا۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے وکلاء کی ٹیم کو اڈیالہ جیل کے اندر نہیں جانے دیا جاتا اور نہ ہی فیملی کو، یہ اوپن ٹرائل ہے ہی نہیں اور یہ ٹرائل کے تقاضے بھی پورے نہیں کر رہے ہیں، ہم یہی چاہتے ہیں کہ فیئر ٹرائل کے تقاضے پورے کیے جائیں۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جج نے کہا کہ اہل خانہ اور وکلاء کو بلائیں لیکن جیل انتظامیہ حکم نہیں مان رہی تھی، اڈیالہ جیل کی انتظامیہ ملاقاتوں اور کیس کے حوالے سے جج کی نہیں سنی جا رہی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔