Express News:
2026-06-03@01:38:49 GMT

بہادر مگر تنہا!

اشاعت کی تاریخ: 29th, July 2025 GMT

’’یہ تو بہادر ہے، سمجھ دار ہے، اسے کسی سہارے کی ضرورت نہیں‘‘

یہ جملہ بہ ظاہر تعریف لگتا ہے، لیکن دراصل یہ ایک تلخ حقیقت کی علامت ہے۔ ایک ایسی حقیقت، جو ہمارے معاشرے کی سوچ کو بے نقاب کرتی ہے، جہاں کسی عورت کا بہادر اور خودمختار ہونا اس کے لیے سزا بن جاتا ہے۔ اسے سراہنے کے بہ جائے اُسے سہارا دینے سے انکار کر دیا جاتا ہے، جیسے بہادری کے ساتھ اس کا انسان ہونا ختم ہو جاتا ہو اور یہی بہادری کبھی کبھی ان کی موت کا پروانہ بن جاتی ہے۔

معاشرے کی وہ ’بہادر عورت‘ جو ہر دن ایک جنگ لڑتی ہے، کسی کی ماں، بہن، بیٹی یا بیوی ہوتی ہے، مگر اس کی بہادری ہی اس کے لیے تنہائی کا سبب بھی بن جاتی ہے۔ ہر کوئی سمجھتا ہے کہ اسے تو کسی مدد کی ضرورت ہی نہیں۔ مگر کیا بہادری، درد کو مٹا دیتی ہے؟ کیا سمجھ داری، آنکھوں سے بہتے آنسوؤں کو روک لیتی ہے؟ کیا خودمختاری، دل کی تنہائی کو ختم کر دیتی ہے؟ نہیں! مگر افسوس کہ ہمارے معاشرے میں یہ عورت صرف ایک ’کردار‘ بن جاتی ہے، جو ہر وقت مضبوط دکھائی دیتی ہے، کیوں کہ کمزور ہونا اس کے کردار کے خلاف سمجھا جاتا ہے۔

یہی بہادر عورت جب اندر سے ٹوٹنے لگتی ہے، تو کوئی اس کے اَشک نہیں دیکھتا، نہ ہی اس کی سسکیوں کو سنتا ہے۔ کیوں کہ وہ تو ’بہادر‘ ہے۔ وہ دن رات کام کرتی ہے، گھر بھی سنبھالتی ہے، بچوں کی تعلیم و تربیت بھی، اور اگر نوکری کرتی ہے، تو سوسائٹی کی طنزیہ نظروں کا بھی سامنا کرتی ہے۔ اس کی ہر کام یابی پر سوال اٹھتا ہے ’اس نے کیا کیا ہوگا؟ اس کے پاس کس کا سہارا ہے؟ اس نے اتنی ترقی کیسے کر لی؟‘ مگر کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ وہ اپنی نیند، اپنی خوشیاں، اپنے خواب اور اپنا سکون قربان کر کے وہاں تک پہنچی ہے اور پھر ایک دن، وہ تھک جاتی ہے!

یہ تھکن صرف جسمانی نہیں ہوتی، یہ ذہنی، جذباتی اور روحانی تھکن ہوتی ہے۔ وہ تھکن جو اس کی ہڈیوں تک میں بس جاتی ہے، اس کی آنکھوں سے جھلکتی ہے، مگر سامنے والوں کو شاید نظر نہیں آتی۔ کیوں کہ وہ سب کے لیے ’مضبوط عورت‘ ہے، ’بہادر عورت‘ ہے، ’پراعتماد عورت‘ ہے۔

اس ’بہادر عورت‘ کی مثالیں ہمارے اردگرد بکھری ہوئی ہیں، اور حالیہ دنوں میں ’سوشل میڈیا‘ پر جو خواتین کے خلاف دل دہلا دینے والے واقعات سامنے آئے ہیں، وہ اسی تنہا بہادری کا نوحہ ہیں۔

گذشتہ دنوں کراچی میں ماڈل حمیرا اصغر کی موت ہوئی، وہ ایک خودمختارعورت تھیں۔ اپنے خواب پورے کرنے کے لیے نہ صرف تنہائی کو گلے لگایا، بلکہ گھروالوں کی طرف سے اپنے بائیکاٹ بھی برداشت کیا۔ اور یہ ہی اکیلا پن اور تنہائی اس کے لیے جان لیوا ثابت ہوئی۔ وہ لڑکی جو سالوں سے تنِ تنہا زندگی کی تلخیوں کا سامنا کر رہی تھی، ایک دن خاموشی سے چلی گئی۔ نہ کوئی شور، نہ کوئی فریاد بس ایک اور خودمختار عورت، خاموشی سے معاشرتی بے حسی اور سرد مہری کا شکار ہو گئی۔

ایک اور واقعہ بلوچستان میں پیش آیا جہاں بانو بی بی غیرت کے نام پر مار دی گئی۔ غیرت، جس کا مفہوم ہمارے مردوں نے اپنی مرضی کے مطابق متعین کر لیا ہے۔ یہ ہمارے معاشرے میں ہونے والا پہلا واقعہ نہیں اور بدقسمتی یہ ے کہ نہ ہی یہ آخری ہوگا۔

 ہم سب جانتے ہیں پاکستان میں ہر سال سینکڑوں لڑکیاں اس نام نہاد ’ناموسی قتل‘ کے بھینٹ چڑھ جاتی ہیں۔ پاکستان میں غیرت کے نام پر قتل ایک پرانی اور جاہلانہ روایت ہے، جو بدقسمتی سے آج بھی نہ صرف قبائل میں بلکہ پاکستان کے کئی علاقوں میں زندہ ہے۔ اس عمل کو مختلف ثقافتی و علاقائی نام دیے گئے ہیں۔ سندھ میں اسے ’کاروکاری‘، پنجاب میں ’کالا کالی‘، خیبر پختونخوا میں ’طور طورہ‘ اور بلوچستان میں ’سیاہ کاری‘ کہا جاتا ہے۔ بنیادی طور پر اس عمل کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی عورت پر بے وفائی یا بدچلنی کا شبہ ہو، تو اسے اور اس کے ساتھ مبیّنہ طور پر ملوث مرد کو قتل کر دینا ’غیرت‘ کے نام پر جائز سمجھا جاتا ہے۔

یہ افسوس ناک روایت صرف شک یا الزام کی بنیاد پر انسانی جانیں لینے کا بہانہ بن چکی ہے۔ اکثر اوقات، یہ ’غیرت‘ محض ایک آڑ ہوتا ہے، جس کے پیچھے ذاتی دشمنیاں، جائیداد کے جھگڑے یا خاندان کی مرضی کے خلاف شادی جیسے عوامل چھپے ہوئے ہوتے ہیں۔ بہت سے واقعات میں دشمنی نبھانے کے لیے مخالف شخص کو قتل کر دیا جاتا ہے، اور پھر الزام سے بچنے کے لیے خاندان کی کسی عورت کو، چاہے وہ معمر ہو یا کم عمر بچی ہو ، اُسے بھی قتل کر کے دونوں لاشوں کو ایک جگہ پھینک دیتے ہیں۔ ان مقتولین پر جو جی میں آتا ہے الزام لگا دیا جاتا ہیِ، خود ہی مدعیِ، خود ہی منصف اور خود ہی جلاد بن جاتے ہیں۔

کہیں بیٹے کی پیدائش نہ ہونے پر بنت حوّا زندگی سے محروم کردی جاتی ہے، مگر معاشرہ خاموش بہادری کو نہیں سمجھتا۔ وہ عورت جو چیخ کر مدد مانگے، جو آنسو بہائے، جو کمزور دکھائی دے، اسے تو سب دلاسا دیتے ہیں، مگر جو اپنے آنسو چھپا لے، جو ہنستے چہرے کے پیچھے اپنے درد چھپائے، اس کے لیے سب سمجھتے ہیں کہ ’یہ تو سنبھال لے گی خود ہی!‘ اور یہی وہ لمحہ ہوتا ہے، جب وہ عورت خود کو اندر سے کھو دیتی ہے۔

اب وقت آ چکا ہے کہ ہم ان ’خاموش بہادر عورتوں‘ کو پہچانیں، ان کا ہاتھ تھامیں، انھیں احساس دلائیں کہ وہ اکیلی نہیں ہیں۔ معاشرتی کرداروں سے ہٹ کر انھیں بھی جینے کا حق ہے۔ وہ بھی محبت، عزت، اور تحفظ کی مستحق ہیں۔ اب ہمیں خود سے بھی یہ سوال کرنا ہو گا کہ آخر کیوں ہر خودمختار عورت کو ’مشکوک‘ نظروں سے دیکھا جاتا ہے؟ کیوں کسی تنہا عورت کی کام یابی ہمیں تکلیف دیتی ہے؟ کیوں بہادری کو سزا دی جاتی ہے؟ کیوں عورت کی خودمختاری مردوں کے لیے ’خطرہ‘ بن جاتی ہے؟

اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ان سوالوں کے جواب تلاش کریں، اور معاشرتی سوچ کو بدلیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی بہادر عورتوں کا سہارا بنیں، ان کے ساتھ کھڑے ہوں، بغیر ان سے یہ کہے کہ ’تم تو سب کچھ خود کر لیتی ہو!‘

شاید انھیں بھی کسی مددگار کندھے کی ضرورت ہو، ایک ایسا کندھا جس پر وہ بھی کبھی سر رکھ کر تھوڑا سا سکون حاصل کر سکیں۔ ورنہ وہ دن دور نہیں جب ہر بہادر عورت تھک جائے گی، ٹوٹ جائے گی، اور ہم سب صرف ایک اور ’خبری شہ سرخی‘ پڑھ کر آگے بڑھ جائیں گے۔ یاد رکھیں ہر کام یاب اور بہادر عورت کے پیچھے ایک ادھوری کہانی ہوتی ہے، جسے وہ دنیا سے چھپاتی ہے۔ آئیے، ہم اس کہانی کو مکمل ہونے دیں، بغیر کسی المیے کے!

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: بہادر عورت بن جاتی ہے اس کے لیے کرتی ہے جاتا ہے دیتی ہے خود ہی

پڑھیں:

عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی

بین الاقوامی سیاست کے افق پر بعض لمحات ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک معنی خیز موڑ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی نوع کی بے یقینی، اضطراب اور کشمکش سے دوچار ہے۔

ایک طرف جنگ کے بادل ہیں جو لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر حساس مقامات پر مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، دوسری طرف سفارت کاری کی وہ نحیف مگر روشن کرن بھی موجود ہے جو انسانیت کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی نہ صرف قومی سفارت کاری کی کامیابی کا اعتراف ہے بلکہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا بظاہر ایک بیان ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کے الفاظ اکثر مفادات کے پردے میں لپٹے ہوتے ہیں، لیکن جب کسی ملک کی ثالثی کی صلاحیت، اس کی قائدانہ بصیرت اور امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا اعتراف مختلف بین الاقوامی حلقوں سے ہونے لگے تو یہ محض سفارتی آداب نہیں رہتے بلکہ ایک نئی حقیقت کا اظہار بن جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ نصف صدی سے عالمی سیاست کے حساس ترین موضوعات میں شمار ہوتی رہی ہے۔

ان دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان نے متعدد مواقع پر دونوں فریقوں کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے محض رسمی تعریف کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔

ماضی میں عسکری قوت کو ریاستی برتری کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ مستقل اثر و رسوخ صرف وہی ریاست حاصل کر سکتی ہے جو تنازعات کے حل میں معاون ثابت ہو، جو پل تعمیر کرے، دیواریں نہیں؛ جو رابطے پیدا کرے، فاصلے نہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی نئے تصور قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ روابط کی راہیں ہموار کرنا، مختلف سطحوں پر اعتماد سازی کے عمل کو زندہ رکھنا اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کرنا درحقیقت ایک ایسی ذمے داری ہے جس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔

اسرائیلی حملوں، حزب اللہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ لبنان ایک ایسا معاشرہ ہے جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور سماجی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں مسلسل عسکری کارروائیاں نہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطہ اور بیروت میں ممکنہ کارروائی کو روکنے کی کوشش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی اس بحران کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان ہمیشہ ایک وسیع فاصلہ موجود رہا ہے۔ ایک جانب جنگ بندی کے اعلانات ہوتے ہیں، دوسری جانب گولہ باری، فضائی حملے اور عسکری پیش قدمی جاری رہتی ہے۔ یہی تضاد عالمی سفارت کاری کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور متحارب فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔

 نیتن یاہو کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلانات دراصل اسی پیچیدہ حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر عسکری اقدامات کو ناگزیر قرار دیتا ہے، جب کہ لبنان اور خطے کی دیگر قوتیں انھیں جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع اور دوسرے کے عمل کو جارحیت قرار دینے لگے تو پھر امن کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بین الاقوامی اداروں اور ثالث ریاستوں کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔

 لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار محض شماریاتی معلومات نہیں بلکہ انسانی المیوں کی ایک طویل داستان ہیں۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع اور لاکھوں انسانوں کی بے یقینی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کبھی بھی صرف فوجیوں کے درمیان نہیں ہوتی، اس کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ عام شہریوں کے کندھوں پر آتا ہے۔ ایک ماں کی آغوش اجڑتی ہے، ایک بچے کا مستقبل تاریک ہوتا ہے، ایک خاندان اپنے سہارے سے محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر انسانی دکھ کو جغرافیائی مفادات کے شور میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

 ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو معطل کرنے کی اطلاعات اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی قیادت کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ لبنان میں جاری کارروائیاں اعتماد کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔

سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذاکرات طاقت کے استعمال کا متبادل ہوتے ہیں، لیکن جب میدانِ جنگ مسلسل گرم رہے تو مذاکراتی میز پر سنجیدہ پیش رفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے، اگر ایک معاہدہ صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے اور دوسرے مقامات پر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو اس کی حیثیت ایک عارضی سیاسی انتظام سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس پورے بحران نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس، تشویش کے بیانات اور قراردادوں کے مسودے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی ادارے اکثر طاقتور ریاستوں کے سیاسی مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔

بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا تصور اسی وقت معتبر رہ سکتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، اگر بعض ریاستوں کے لیے ایک معیار اور دوسروں کے لیے دوسرا معیار اختیار کیا جائے تو عالمی نظام کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں اختیار کیا گیا مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لبنان کی صورتحال کو ایک انسانی بحران قرار دینا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنگوں کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی حقوق کی پاسداری اور شہری آبادی کا امن ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہونا چاہیے۔

پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی مؤقف آج خطے کی ضرورت بھی ہے اور عالمی امن کا تقاضا بھی۔ اس پوری صورتحال کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل عسکری تصادم، انتقامی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی نفرت کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ مکالمے، مفاہمت اور سیاسی حل کی جانب لے جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ زیادہ شور پیدا کرتا ہے جب کہ امن کی کوششیں خاموشی سے آگے بڑھتی ہیں۔ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بمباری کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، مگر سفارت کاری کی خاموش محنت اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکراتی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ کوئی بھی تنازع مستقل طور پر بارود کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکا۔ انسانی تہذیب کی بقا، اقتصادی ترقی اور عالمی استحکام کا انحصار بالآخر مکالمے پر ہی ہوتا ہے۔ آج لبنان، ایران، امریکا اور اسرائیل کے گرد گھومتا بحران اسی ابدی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے، اگر عالمی قیادت نے دانش کا راستہ اختیار کیا تو یہ خطہ ایک اور بڑے سانحے سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں پاکستان کی آواز، جو جنگ کے شور میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے، محض ایک سفارتی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت اور بین الاقوامی ذمے داری کی علامت بن چکی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تباہی کے اندھیروں سے نکل کر امن، استحکام اور مشترکہ انسانی مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، ہولونگ درخت کے ’ہیلی کاپٹر پھلوں‘ کی حسین اڑان