گرین لائن کی وفاقی سے سندھ حکومت کو منتقلی کے بعد یومیہ رائیڈر شپ میں نمایاں اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 30th, July 2025 GMT
کراچی:
وفاق سے سندھ حکومت کو گرین لائن بی آر ٹی کی منتقلی کے بعد اس کی یومیہ رائیڈر شپ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور گرین لائن کی رائیڈر شپ گزشتہ چھ ماہ میں 52 ہزار سے بڑھ کر 72 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔
اس حوالے سے سینیئر وزیر شرجیل انعام میمن کی زیر صدارت ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کے 15ویں بورڈ اجلاس سندھ سیکریٹریٹ میں سینیئر وزیر کے دفتر میں ہوا۔ اجلاس میں گرین لائن بی آر ٹی کی رائیڈرشپ کو روزانہ ڈیڑھ لاکھ مسافروں تک پہنچانے کے لیے جامع اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
اجلاس میں میئر سکھر ارسلان اسلام شیخ، سیکریٹری ٹرانسپورٹ اسد ضامن، ایم ڈی ایس ایم ٹی اے کمال دایو اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران ایم ڈی ایس ایم ٹی اے نے ادارے کی کارکردگی اور شہری ٹرانسپورٹ کے جاری منصوبوں پر بریفنگ دی جبکہ ایس ایم ٹی اے بورڈ نے سال 2025-26 کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کے پورٹ فولیو کی توثیق کرتے ہوئے ان منصوبوں کی فوری تکمیل کے احکامات جاری کیے۔
بورڈ نے گرین اور اورنج لائن بس منصوبوں کے پراپرٹی مینجمنٹ کے لیے نان فیئر ریونیو فرم کی خدمات حاصل کرنے کی منظوری بھی دی۔
اس موقع پر بات کرتے ہوئے وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا کہ وفاق سے گرین لائن کی حوالگی کے بعد سندھ حکومت نے اس نظام کو بہتر انداز میں چلانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے ہیں، جن کے مثبت نتائج رائیڈرشپ میں مسلسل اضافے کی صورت میں سامنے آئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گرین لائن اور اورنج لائن کو آپس میں منسلک کرنے سے عوام کو سہولت ملی ہے اور ان کے روزمرہ سفر میں نمایاں بہتری آئی ہے۔
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ حکومت سندھ نان فیئر ریونیو ماڈلز کو بروئے کار لا کر ان منصوبوں کو مالی طور پر خود کفیل بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔
سینیئر وزیر کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت شہریوں کو جدید، معیاری اور ماحول دوست سفری سہولیات فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہے، اور شہری ٹرانسپورٹ کے شعبے میں انقلابی تبدیلی کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات جاری رکھے گی۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان سندھ حکومت گرین لائن کے لیے
پڑھیں:
وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا
ویب ڈیسک :وفاقی بجٹ پانچ جون کو پیش نہیں کیا جائے گا، قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس بھی مؤخر کر دیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال کا وفاقی بجٹ اب پانچ جون کو پیش نہیں کیا جائے گا، وفاقی بجٹ 8 یا 12 جون کو پیش کیے جانے کا امکان ہے، حتمی تاریخ کا تعین ابھی نہیں ہو سکا۔
آئی ایم ایف کے ساتھ پی ایس ڈی پی اور بجٹ مذاکرات ابھی جاری ہیں جس کی وجہ سے بجٹ پیش کرنے کی تاریخ میں تبدیلی کی جا رہی ہے۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
ذرائع کے مطابق کل وزیراعظم کی زیر صدارت ہونے والا قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس بھی مؤخر کر دیا گیا ہے جس میں وفاقی اور صوبائی ترقیاتی بجٹ کی منظوری دی جانا تھی۔
قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں چاروں وزرائے اعلیٰ اور وزرائے خزانہ کی شرکت متوقع تھی، وزیراعظم آزادکشمیر نے بھی اجلاس میں شرکت کرنا تھی۔
وزیراعظم کی ہدایت پر پی ایس ڈی پی میں 200 ارب روپے کا اضافہ بھی کیا جارہا ہے، ترقیاتی بجٹ میں 200 ارب کے اضافے پر آئی ایم ایف کو بھی آگاہ کیا جائے گا، مختلف مالیاتی اقدامات کے ذریعے200 ارب کی ایڈجسٹمنٹ کی کوشش کی جائے گی۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
قومی اقتصادی کونسل میں 4715 ارب کا ترقیاتی بجٹ پیش کئے جانے کا امکان ہے، وفاقی ترقیاتی بجٹ 1126کے بجائے 1326 ارب روپے ہونے کا امکان ہے۔
اجلاس میں صوبوں کیلئے 3138 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ بھی پیش کیا جائے گا، قومی اقتصادی کونسل میں پنجاب کا 1450 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ پیش ہوگا، سندھ کیلئے 816، خیبرپختونخوا کیلئے 564 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ پیش ہوگا، بلوچستان کیلئے 308 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ پیش ہوگا۔
نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ