وزیر اعظم کی زیر صدارت کیش لیس و ڈیجیٹل اکانومی کے حوالے سے جائزہ اجلاس
اشاعت کی تاریخ: 28th, July 2025 GMT
اویس کیانی: وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت کیش لیس و ڈیجیٹل اکانومی کے حوالے سے اقدامات پر ہفتہ وار جائزہ اجلاس ہوا۔
کیش لیس و ڈیجیٹل اکانومی کے حوالے سے اقدامات پر ہفتہ وار جائزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہبازشریف نے کہاکہ معیشت کی ڈیجیٹائزیشن سے شفافیت کے فروغ میں مدد ملے گی،وفاقی حکومت کی ڈیجیٹائزیشن ٹرانسفاریشن پلان کی بنیادی اساس عوام کو بغیر اضافی اخراجات کے سہولت بہم پہنچانا ہے ، حکومت پالیسی اقدامات سے ڈیجیٹل ادائیگیوں اور رقوم کی ڈیجیٹل منتقلی کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے،تمام سٹیک ہولڈرز سے بامعنی مشاورت کو اس پلان کا مستقل حصہ بنایا جائے۔
اے سی شالیمار اور پیرافورس پرمسلح لینڈمافیاکاحملہ ؛ پولیس نے دو ملزم گرفتار کرلیے
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ وفاقی حکومت ڈیجیٹائزیشن ٹرانسفارمیشن پلان پر مؤثر اور جامع عملدرآمد کے لیے صوبائی حکومتوں سے بامعنی مشاورت کرے ،معیشت کی ڈیجیٹایزیشن اور کیش لیس اکانومی کے حوالے سے تمام صوبائی حکومتیں، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کی حکومتیں وفاقی حکومت سے بھرپور تعاون کریں۔
وزیراعظم نے کہاکہ صوبائی حکومت اور صوبائی اداروں کے تعاون سےوفاقی حکومت کے ڈیجیٹائزیشن ٹرانسفارمیشن پلان کو مزید مستعد بنایا جائے تاکہ اہداف مقررہ وقت میں حاصل کیے جا سکیں۔
اجلاس کو معیشت کی ڈیجیٹائزیشن کے حوالے سے پیشرفت پر بریفنگ دی گئی جس میں بتایاگیاکہ نیشنل ڈیجیٹل کمیشن اور پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا جا چکا ہے اور ضروری رولز بنائے جا چکے ہیں،پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی کے چیئرپرسن اور ممبران کی تعیناتی کا عمل آخری مراحل میں ہے،ڈیجیٹل کے حوالے سے مرچنٹ آن بورڈنگ فریم ورک کا اجراء 25 جولائی 2025 کو کر دیا گیا ہے ۔
چیٹ جی پی ٹی سے احتیاط ؛ اوپن اے آئی کے چیف ایگزیکٹو سام آلٹمین نے اہم مشورہ دے دیا
اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب ، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ ، وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام شزا فاطمہ ، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی، چاروں صوبوں، گلگت بلتستان ، آزاد جموں و کشمیر کے چیف سیکریٹریز ، اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری کے چیف کمشنر اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی ۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: اکانومی کے حوالے سے وفاقی حکومت کیش لیس
پڑھیں:
وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کیلئے حکومت اور پی پی پی کے مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہوسکے
اسلام آباد: وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کے لیے وزارت خزانہ میں حکومت اور پیپلز پارٹی کے مذاکرات نتیجہ خیزنہ ہوسکے۔ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کو گلہ ہے کہ بجٹ پر انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کے لیے وزارت خزانہ میں حکومتی ٹیم اور پیپلز پارٹی کے درمیان اجلاس ختم ہوگیا۔اجلاس میں کوئی آئینی ترمیم زیر بحث نہیں۔ این ایف سی میں تبدیلی پر بھی کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں پیپلزپارٹی کے خدشات دور نہ کیے جاسکے۔ پیپلزپارٹی اور حکومتی ٹیم کا اجلاس آج دوبارہ ہوگا۔اس سے پہلے5 جون کو ہونے والا بجٹ اجلاس مؤخر کردیا گیا تھا،نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا تھا۔پارلیمانی ذرائع کا کہنا تھا حکومت بجٹ سے پہلے اہم قانون سازی کرنا چاہتی ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان نے بھی کامران ٹیسوری کی بطور گورنر سندھ تعیناتی کو بجٹ منظوری سے مشروط کیا تھا۔