وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کی قیادت میں خیبرپختونخوا حکومت نے ڈیجیٹل گورننس کی جانب ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے سرکاری امور کو پیپر لیس بنانے کی جانب نمایاں پیشرفت کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:گورنر خیبر پختونخوا کی آئینی قیادت پر نو منتخب اراکین صوبائی اسمبلی کا اعتماد

وزیر اعلیٰ نے پہلی باضابطہ ای-سمری پر ڈیجیٹل دستخط کر کے اس نظام کا باقاعدہ آغاز کر دیا۔

ترجمان کے مطابق پہلی ای-سمری اتوار کے روز آن لائن سسٹم کے ذریعے وزیر اعلیٰ کو موصول ہوئی، جس پر انہوں نے فوری طور پر ڈیجیٹل دستخط ثبت کیے۔

اس اقدام کو دفتری نظام میں شفافیت، وقت کی بچت اور وسائل کے ضیاع سے بچاؤ کی سمت ایک بڑی پیشرفت قرار دیا گیا ہے۔

وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کا کہنا ہے کہ اگلے مرحلے میں ڈیجیٹل نوٹ پارٹ کا بھی اجرا کیا جائے گا، جبکہ سرکاری مراسلے، اعلامیے، حکم نامے اور کابینہ اجلاسوں کے ورکنگ پیپرز سمیت تمام دفتری امور کو ای-سسٹم پر منتقل کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ اقدام تاخیری حربوں کے خاتمے، محکموں کی استعداد کار بڑھانے اور عوامی خدمات کو مؤثر انداز میں پہنچانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:خیبر پختونخوا: دہشتگردوں کے مقابلے میں پولیس کی اینٹی ڈرون جیمنگ ٹیکنالوجی کیسے کام کرے گی؟

حکومت عمران خان کے وژن کے مطابق صوبے کو مکمل طور پر ’ڈیجیٹل خیبرپختونخوا‘ بنانے کے لیے ڈیجیٹل گورننس روڈ میپ کے تحت ٹھوس اقدامات کر رہی ہے۔

ترجمان کے مطابق متعدد عوامی خدمات پہلے ہی ڈیجیٹائز کی جا چکی ہیں، اور حکومت اسی رفتار سے مزید سروسز کو آن لائن نظام میں لانے کے لیے کوشاں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

خیبر پختونخوا ڈیجیٹل گورننس علی امین گنڈاپور.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: خیبر پختونخوا ڈیجیٹل گورننس علی امین گنڈاپور ڈیجیٹل گورننس وزیر اعلی کے لیے

پڑھیں:

مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔

یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔

دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔

راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔

انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔

واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن