خیبرپختونخوا: منتخب 5 آزاد سینیٹرز کی پی ٹی آئی میں شمولیت
اشاعت کی تاریخ: 26th, July 2025 GMT
ویب ڈیسک:خیبر پختونخوا سے منتخب 5 آزاد سینیٹرز نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) میں شمولیت اختیار کر لی۔
تفصیلات کے مطابق خیبر پختونخوا سے منتخب 5 آزاد سینیٹرز نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) میں شمولیت اختیار کر لی،مرزا آفریدی، اعظم سواتی، فیصل جاوید، نورالحق قادری اور روبینہ ناز نے ڈیکلریشن پارٹی چیئرمین کو جمع کروا دئیے۔چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی ڈیکلریشن الیکشن کمیشن میں جمع کروائیں گے۔
مرغی کی قیمت نے شہریوں کے ہوش اڑا دئیے
واضح رہے کہ خیبر پختونخوا کے سینیٹ الیکشن میں حکومت اور اپوزیشن کا اتحاد تمام نشتیں جیت گیا تھا، حکومت کے حصے میں 6 اور اپوزیشن کے حصے میں 5 نشستیں آئی تھیں۔
7 جنرل نشستوں میں سے 4 پر پی ٹی آئی اور 3 پر اپوزیشن کامیاب ہوئی تھی جبکہ خواتین کی 2 نشستوں میں سے ایک پر پی ٹی آئی دوسری پر پیپلز پارٹی کامیاب ہوئی تھی۔
ٹیکنوکریٹس نشستوں پر ایک پر تحریک انصاف اور دوسری پر جمعیت علماء اسلام کامیاب ہوئی تھی۔
محکمہ سوشل ویلفیئر میں 15 ڈاکٹروں کی بھرتیوں کی منظوری
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: پی ٹی آئی
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔