فوی طور پر سیلاب متاثرین کے بلوں پر ٹیکس معاف کیے جائیں گے، رانا تنویر حسین
اشاعت کی تاریخ: 9th, September 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) وفاقی وزیر غذائی تحفظ رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ فوی طور پر سیلاب متاثرین کے بلوں پر ٹیکس معاف کیے جائیں گے۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر رانا تنویر نے کہا کہ سیلاب متاثرین کے بجلی کے بلوں پر ٹیکس ختم کرنے کیلئے کام کیا جارہا ہے، بجلی کے بلوں میں ریلیف وفاقی حکومت دے گی، لینڈ ریونیو صوبائی حکومت معاف کرے گی۔
رانا تنویر نے کہا ہے کہ سیلاب زدہ علاقوں میں بجلی کے اضافی بلوں کا نوٹس لیں گے، سیلاب متاثرہ علاقوں میں یہ وہ بل ہیں جو پہلے ہی پرنٹ ہو چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ سیلاب متاثرین کو ریلیف دینے کے لیے جو ہوسکا کیا جائے گا، سیلاب متاثرہ علاقوں کا سروے مکمل ہوتے ہی کسان پیکج کا اعلان کریں گے۔
وفاقی وزیر نے کہا ہے کہ رواں ماہ کے وسط تک سیلاب متاثرہ علاقوں کا سروے مکمل کرلیا جائے گا، سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں فصلوں کے نقصانات کا ابتدائی ڈیٹا مرتب کرلیا گیا ہے، سیلاب میں ہر فصل کا ایک سے تین فیصد تک نقصان ہوچکا ہے۔
ان کا مزید کہنا ہے کہ سب سے زیادہ گوجرانوالہ ڈویژن میں فصلوں کا 18 فیصد تک نقصان ہوچکا، سیلاب کے دوران دھان کی فصل کا سب سے زیادہ نقصان ہوا ہے۔
Post Views: 6.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سیلاب متاثرین متاثرہ علاقوں رانا تنویر کے بلوں نے کہا
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔