اسلام آباد(نیوز ڈیسک) وفاقی وزیر غذائی تحفظ رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ فوی طور پر سیلاب متاثرین کے بلوں پر ٹیکس معاف کیے جائیں گے۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر رانا تنویر نے کہا کہ سیلاب متاثرین کے بجلی کے بلوں پر ٹیکس ختم کرنے کیلئے کام کیا جارہا ہے، بجلی کے بلوں میں ریلیف وفاقی حکومت دے گی، لینڈ ریونیو صوبائی حکومت معاف کرے گی۔

رانا تنویر نے کہا ہے کہ سیلاب زدہ علاقوں میں بجلی کے اضافی بلوں کا نوٹس لیں گے، سیلاب متاثرہ علاقوں میں یہ وہ بل ہیں جو پہلے ہی پرنٹ ہو چکے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ سیلاب متاثرین کو ریلیف دینے کے لیے جو ہوسکا کیا جائے گا، سیلاب متاثرہ علاقوں کا سروے مکمل ہوتے ہی کسان پیکج کا اعلان کریں گے۔

وفاقی وزیر نے کہا ہے کہ رواں ماہ کے وسط تک سیلاب متاثرہ علاقوں کا سروے مکمل کرلیا جائے گا، سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں فصلوں کے نقصانات کا ابتدائی ڈیٹا مرتب کرلیا گیا ہے، سیلاب میں ہر فصل کا ایک سے تین فیصد تک نقصان ہوچکا ہے۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ سب سے زیادہ گوجرانوالہ ڈویژن میں فصلوں کا 18 فیصد تک نقصان ہوچکا، سیلاب کے دوران دھان کی فصل کا سب سے زیادہ نقصان ہوا ہے۔

Post Views: 6.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: سیلاب متاثرین متاثرہ علاقوں رانا تنویر کے بلوں نے کہا

پڑھیں:

شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن

کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔

متعلقہ مضامین

  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان
  • قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، ہولونگ درخت کے ’ہیلی کاپٹر پھلوں‘ کی حسین اڑان