وفاقی حکومت کا سیلاب متاثرین کے لیے بجلی بلوں میں ریلیف کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 9th, September 2025 GMT
اسلام آباد: وفاقی حکومت نے سیلاب متاثرین کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے بجلی کے بلوں پر ٹیکسز اور مختلف سرچارجز ختم کرنے پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بجلی کے بلوں پر جنرل سیلز ٹیکس، ایف سی سرچارج اور فکسڈ چارجز ختم کرنے کا امکان رکھتی ہے۔ اسی طرح فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ پر جی ایس ٹی اور ایکسائز ڈیوٹی کے خاتمے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بجلی کے بلوں سے انکم ٹیکس، فاضل ٹیکس اور ریٹیلر سیلز ٹیکس ختم کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ حالیہ سیلاب نے پنجاب سمیت ملک کے کئی حصوں میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے، لاکھوں افراد بے گھر ہو گئے جبکہ وسیع زرعی اراضی بھی متاثر ہوئی ہے۔
گزشتہ روز پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی حکومت سے زرعی ایمرجنسی نافذ کرنے اور کسانوں کے بجلی کے بل معاف کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: بجلی کے
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔