اسلام آباد: سیلاب متاثرہ علاقوں میں بجلی کی بحالی کی صورتحال
اشاعت کی تاریخ: 9th, September 2025 GMT
اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پاکستان کے مختلف علاقوں میں حالیہ سیلاب کے باعث بجلی کی سپلائی متاثر ہوئی تھی۔ پاور ڈویژن کی تازہ رپورٹ کے مطابق 9 ستمبر 2025 تک متعدد صارفین کی بجلی بحال کر دی گئی ہے جبکہ باقی صارفین کیلئے بحالی کا کام جاری ہے۔
فیسکو کے زیرِ انتظام علاقے:
متاثرہ علاقوں: ٹی ٹی سنگھ، فیصل آباد، چنیوٹ، جھنگ، سرگودھا، میانوالی، ڈی آئی خان
متاثرہ فیڈرز: 80 فیڈرز، 27 گرڈ
بحال شدہ فیڈرز: 19 مکمل، 57 جزوی
متاثرہ صارفین: 202,328 میں سے 94,742 بحال
باقی صارفین (107,586) کی بحالی پانی اترنے کے بعد 10 ستمبر تک مکمل ہونے کی توقع
لیسکو کے زیرِ انتظام علاقے:
متاثرہ علاقے: لاہور، اوکاڑہ، شیخوپورہ، قصور، ننکانہ
متاثرہ فیڈرز: 67 فیڈرز
بحال شدہ فیڈرز: 59 مکمل، 8 جزوی
متاثرہ صارفین: 73,734 میں سے 65,721 بحال
باقی 8,013 صارفین کی بحالی 9 سے 10 ستمبر تک متوقع
میپکو کے زیرِ انتظام علاقے:
متاثرہ فیڈرز: 161
بحال شدہ فیڈرز: 4 مکمل، 155 جزوی
متاثرہ صارفین: 166,724
باقی فیڈرز کی بحالی پانی اترنے کے بعد شروع ہو گی
گیپکو کے زیرِ انتظام علاقے:
متاثرہ گرڈ: 11، فیڈرز: 103
بحال شدہ فیڈرز: 96 مکمل، 7 جزوی
متاثرہ صارفین: 735,987 میں سے 733,812 بحال
باقی 2,175 صارفین کی بحالی پانی اترنے کے بعد مکمل
پیسکو کے زیرِ انتظام علاقے:
متاثرہ علاقے: سوات، بنر، شانگلہ، صوابی، ڈی آئی خان
متاثرہ فیڈرز: 91، گرڈز: 12
بحال شدہ فیڈرز: 86 مکمل، 5 جزوی
متاثرہ صارفین: 463,375 میں سے 461,049 بحال
باقی 2,326 صارفین کی بحالی 11 سے 12 ستمبر تک متوقع
ٹیسکو کے زیرِ انتظام علاقے:
متاثرہ علاقے: شمالی وزیرستان، خیبر
متاثرہ فیڈرز: 18
بحال شدہ فیڈرز: 13 مکمل، 5 جزوی
متاثرہ صارفین: 31,774 میں سے 27,378 بحال
باقی 4,396 صارفین کی بحالی تقریباً 15 ستمبر تک متوقع
ہیزیکو کے زیرِ انتظام علاقے:
متاثرہ علاقے: مانسہرہ
متاثرہ فیڈرز: 3 مکمل بحال
مجموعی صورتحال:
متاثرہ گرڈ: 50، فیڈرز: 523
بحال شدہ فیڈرز: 280 مکمل، 237 جزوی
متاثرہ صارفین: 1,697,587 میں سے 1,423,192 بحال
باقی 274,395 صارفین کیلئے بجلی کی بحالی ترجیح ہے
پاور ڈویژن کی رپورٹ کے مطابق بحالی کا عمل ترجیحی بنیادوں پر جاری ہے اور پانی اترنے کے بعد متاثرہ علاقوں میں بجلی کی مکمل بحالی یقینی بنائی جائے گی۔
Post Views: 4.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: جزوی متاثرہ صارفین پانی اترنے کے بعد صارفین کی بحالی بحال شدہ فیڈرز متاثرہ علاقے انتظام علاقے متاثرہ فیڈرز بحال باقی ستمبر تک بجلی کی کے زیر
پڑھیں:
سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
سکھر:سندھ کے مختلف اضلاع میں آنے والی شدید آندھی، مٹی کے طوفان اور موسلا دھار بارش نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔
مورو میں طوفانی ہواؤں کے باعث گھروں، دکانوں، ہوٹلوں اور سرکاری و نیم سرکاری عمارتوں کی چھتوں پر نصب سولر پلیٹیں اور سائن بورڈ اکھڑ کر دور جا گرے جبکہ متعدد مقامات پر درخت اور بجلی کی تاریں بھی زمین بوس ہوگئیں۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق مختلف حادثات میں کم از کم پانچ افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
کئی علاقوں میں شہری خوف و ہراس کا شکار رہے جبکہ طوفان کے باعث معمولات زندگی شدید متاثر ہوئے۔
دوسری جانب لاڑکانہ، شکارپور، دادو اور گرد و نواح میں خراب موسمی صورتحال کے باعث بجلی کا ترسیلی نظام بھی بری طرح متاثر ہوا۔
سیپکو حکام کے مطابق شدید آندھی اور بارش کے نتیجے میں 220 کے وی گرڈ اسٹیشن لوڈرا، شکارپور اور دادو سے آنے والی 132 کے وی مین سپلائی متاثر ہوگئی جس کے باعث لاڑکانہ سرکل کے متعدد فیڈرز بند ہوگئے۔
سیپکو کنٹرول سینٹر کے مطابق طوفانی موسم سے 220 کے وی اور 132 کے وی کی متعدد اہم ٹرانسمیشن لائنیں ٹرپ کر گئیں جبکہ کئی مقامات پر ٹاورز، پولز اور بجلی کی لائنوں کو نقصان پہنچا ہے۔
صورتحال کے باعث مجموعی طور پر 46 گرڈ اسٹیشنز متاثر ہوئے جس سے لاڑکانہ، قمبر، شہدادکوٹ، کشمور، کندھکوٹ، گھوٹکی، خیرپور، نوشہروفیروز، مورو اور دیگر علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل یا شدید متاثر ہوگئی۔
سیپکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر انجینئر اعجاز احمد چنہ کی ہدایات پر آپریشن، کنسٹرکشن، جی ایس او اور فیلڈ ٹیموں کو ہنگامی بنیادوں پر متحرک کر دیا گیا ہے۔
انجینئرز اور تکنیکی عملہ متاثرہ علاقوں میں مرمتی کاموں میں مصروف ہے اور خراب ہونے والے پولز، ٹاورز اور ٹرانسمیشن لائنوں کی بحالی کا عمل جاری ہے۔
سیپکو حکام کا کہنا ہے کہ ادارہ اپنے تمام دستیاب وسائل استعمال کرتے ہوئے بجلی کی جلد بحالی کے لیے کام کر رہا ہے تاہم شدید موسمی حالات کے باعث مرمتی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔
متاثرہ علاقوں کے صارفین سے صبر و تحمل کی اپیل کرتے ہوئے یقین دلایا گیا ہے کہ بجلی کی فراہمی جلد از جلد بحال کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔