پشاور، باجوڑ کے کلیئر شدہ علاقوں میں متاثرہ خاندانوں کی واپسی کا آغاز شروع
اشاعت کی تاریخ: 9th, September 2025 GMT
پشاور:
باجوڑ کے تحصیل ماموند کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائیوں کے بعد ریاستی عملداری بحال کر دی گئی ہے، جس کے بعد متاثرہ خاندانوں کی واپسی کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ نے اس حوالے سے باضابطہ اعلامیہ جاری کر دیا ہے۔
اعلامیے کے مطابق لرکلان، برکلان، غنم شاہ، چمیار جوڑ اور چوترہ واڑہ ماموند کے علاقوں کو مکمل طور پر کلیئر کر دیا گیا ہے اور ان علاقوں میں ریاست کی رٹ بحال ہو چکی ہے۔
سیکیورٹی فورسز نے کامیابی کے ساتھ آپریشن مکمل کر کے ان علاقوں کو محفوظ قرار دیا ہے۔
ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ان علاقوں کے متاثرہ خاندان اب اپنے گھروں کو واپس جا سکتے ہیں۔ انتظامیہ نے متاثرین کو پوری سیکیورٹی، سہولیات اور باعزت واپسی کی یقین دہانی کرائی ہے۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ باقی علاقوں کے متاثرہ خاندانوں کو مرحلہ وار واپس بھیجا جائے گا۔ اس سلسلے میں مکمل منصوبہ بندی کی جا چکی ہے اور تمام تر حفاظتی اقدامات کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔
ضلعی انتظامیہ نے باجوڑ کے عوام کے صبر، قربانی اور ریاست پر اعتماد کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ متاثرہ خاندانوں کی واپسی ایک باعزت اور منظم طریقے سے کی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: متاثرہ خاندانوں
پڑھیں:
سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
فائل فوٹوسپریم کورٹ نے اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ درخواست 25 دن تاخیر سے دائر کی گئی۔
پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر توہین عدالت کی درخواست شہداء کےلواحقین کی جانب سے دائر کی گئی تھی، پشاور ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی درخواست خارج کردی تھی۔
درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ شہداء کے لواحقین کو اعلان کردہ پیکیج نہیں ملا۔
جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر کوئی پیکیج ملا ہے تو سب کو دیں، وفاقی حکومت بتائے کہ پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر عملدرآمد ہوا یا نہیں۔
کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی۔