ملتان، سیلاب سے بچاؤ کا پلان تیار، شیرشاہ بند پر کڑی نگرانی جاری
اشاعت کی تاریخ: 9th, September 2025 GMT
ملتان:
ملتان میں سیلابی صورتحال کے پیش نظر انتظامیہ نے شیرشاہ فلڈ بند کے حوالے سے ممکنہ بریچنگ پلان جاری کر دیا ہے۔
کمشنر ملتان ڈویژن عرفان علی کاٹھیا کا کہنا ہے کہ پانی کی سطح جب خطرناک حد یعنی 394 گیج تک پہنچے گی تب ہی بند کو توڑا جائے گا۔
عرفان کاٹھیا کے مطابق شیرشاہ کے مقام پر فلڈ بند کو بریچ کرنے کا فیصلہ بریچنگ کمیٹی کی مشاورت سے کیا جائے گا۔ فی الحال فلڈ بند میں شگاف ڈالنے کی ضرورت نہیں ہے تاہم تمام تر انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔
انتظامیہ نے شیرشاہ سے ملحقہ آبادیوں میں رہنے والے افراد کو متنبہ کیا ہے کہ وہ ممکنہ خطرے کے پیش نظر محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں۔
ضلعی انتظامیہ، ریسکیو ادارے اور فلڈ ریلیف ٹیمیں الرٹ ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
گلگت میں نئے منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا: نواز شریف
گلگت (نوائے وقت رپورٹ) مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے جہاں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا۔ انہوں نے گلگت تک موٹر وے بنانے‘ ائرپورٹ کی توسیع اور الیکٹرک بسیں چلانے کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ گلگت سی پیک کا مرکز ہے، پوچھنا چاہتا ہوں گلگت کو نظرانداز کیوں کیا گیا۔ ٹوٹی سڑکیں دیکھ کر دکھ ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا، ووٹ دیں یا نہیں، یہاں کے مسائل کے حل کے لیے شہباز شریف سے بات کروں گا۔ طلبہ کو سکالرشپس دی جائیں گی، مزید لیپ ٹاپ دیے جائیں گے، میں وہ نوازشریف ہوں جو کسی پر تنقید کر کے کسی کی برائی کر کے ووٹ نہیں مانگتا ہم اپنی کارکردگی کی بنا پر ووٹ مانگتے ہیں۔ نواز شریف نے کہا کہ یہاں 20 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہوتی ہے، یہ ہمیں منظور نہیں ہے، کسی اور کو منظور ہو تو ہو، یہ مجھے منظور نہیں ہے، میں جاکر شہباز شریف سے بات کروں گا، انہوں نے کہا کہ مجھے آپ نے کئی دفعہ دیس نکالا کیا ہے، مجھ سے گلہ نہیں کرو، یہ گلہ میں سننے کو تیار نہیں ہوں، یہ قصور آپ کا بھی ہے کہ مجھ جیسے بندے کو دیس نکالا کیوں ہونے دیا۔ نواز شریف نے کہا کہ کیوں مجھے جیلوں میں ڈالا گیا، کیوں مجھے دیس چھوڑ کر جانا پڑا، یہ بھی سوچنے والی ہے، میں اس پر بات نہیں کرنا چاہتا لیکن یہ بھی حقیقت ہے، ہم تمام سٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر اس مسئلے کو حل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں ہمارے علاوہ کسی جماعت نے ادھر کام نہیں کیا، یہاں کی سڑکوں کا حال دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے۔ میں کسی جماعت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، لیکن پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیوں چیزوں کونظر انداز کیا۔ میرا دل روتا ہے کہ آپ لوگوں کی سہولتوں کے لیے کیوں پیسا نہیں لگایاگیا، وہ پیسا کہاں گیا؟ یہاں ہسپتال بنایا تو ہم نے بنایا، ہائیڈل پاور پلانٹس ہم نے لگائے، نگر کا منصوبہ ہم نے مکمل کیا، مجھے بتائیں کسی اور پارٹی نے کوئی کام کیا ہو۔