کچے کے ڈاکو اگر ہتھیار ڈالنا چاہیں تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے، وزیر داخلہ سندھ
اشاعت کی تاریخ: 8th, September 2025 GMT
سندھ کے وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار نے کہا ہے کہ کچے اور ساحلی علاقوں میں حالیہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر اگر کوئی ڈاکو یا جرائم پیشہ گروہ ہتھیار ڈالنا چاہے تو ان کے ساتھ قانون کے دائرے میں رہ کر نمٹا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہتھیار ڈالنے یا خود کو قانون کے حوالے کرنے سے متعلق ضابطے واضح ہیں، اور ہر عمل قانون کے مطابق ہوگا۔
یہ بات انہوں نے کراچی میں کچے کے علاقوں کی مانیٹرنگ کمیٹی کے پہلے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں کچے کے علاقوں کی موجودہ صورتحال، جاری پولیس آپریشنز اور مستقبل کی حکمت عملی پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اجلاس کے دوران اے آئی جی آپریشنز نے پولیس کی ضروریات پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ڈاکوؤں کے خلاف کامیابی کے لیے فورس کو جدید ہتھیار، تربیت یافتہ عملہ، محفوظ گاڑیاں اور بہتر سہولتوں کی اشد ضرورت ہے، خاص طور پر چیک پوسٹوں پر سہولیات کو مزید بہتر بنانا ہوگا۔
وزیر داخلہ ضیا لنجار نے اعتراف کیا کہ جرائم کے خلاف کارروائی میں تاخیر ایک بڑی وجہ رہی جس کی وجہ سے ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن ابھی تک مکمل نہیں ہو سکا۔ تاہم، ان کا کہنا تھا کہ اب حکومت پرعزم ہے کہ ان عناصر کے خلاف آپریشن کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ سات ماہ میں کچے کے علاقوں میں جاری کارروائیاں مؤثر رہی ہیں، اور متعدد علاقوں جیسے دادو، مورو، لاڑکانہ اور خیرپور میں پلوں کی تعمیر سے جرائم میں خاطر خواہ کمی آئی ہے۔ انہوں نے حکام کو ہدایت کی کہ گھوٹکی-کشمور پل کی تعمیر کا کام جلد از جلد مکمل کیا جائے، کیونکہ اس اہم روٹ پر بھی پل بننے سے جرائم کی روک تھام میں نمایاں بہتری آئے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: قانون کے کے خلاف کچے کے
پڑھیں:
خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ ترمیمی ایکٹ 2026 کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا، جس کے بعد صوے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا۔
نوٹیفکیشن میں بتایا کہ صوبے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا، نئے قانون کے تحت ہرویلج اور نیبرہڈ کونسل کی آبادی 30 ہزار سے 40 ہزار ہوگی۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ ویلج کونسل عملی طور پر یونین کونسل کی حیثیت اختیار کر جائے گی اور نئی حدبندی ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کی بنیاد پر ہوگی۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ آبادی میں 10 فیصد تک کمی بیشی کی اجازت ہوگی۔
ترمیمی ایکٹ کے مطابق خصوصی حالات میں الیکشن کمیشن صوبائی حکومت سے مشاورت کے بعد اس شرط سے استثنیٰ دے سکے گا۔