Express News:
2026-07-24@05:22:01 GMT

مقامی حکومتوں کو نظرانداز کرنے کی پالیسی کیوں ؟

اشاعت کی تاریخ: 9th, September 2025 GMT

پاکستان میں نئے صوبوں کی نئی بحث کے ساتھ ہی اس ملک کی طاقت ور سیاسی اشرافیہ کی جانب سے اچانک مقامی حکومتوںکی اہمیت پر زور دیا جارہا ہے۔ ان کے بقول نئے صوبے نہیں بلکہ ہماری ضرورت مضبوط مقامی حکومتوں کا نظام ہے۔حال ہی میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے پارلیمنٹ میں صوبوں کی جانب سے مقامی حکومتوں کو نظر انداز کرنے کی پالیسی پر شدید تنقید کی ہے۔

حالانکہ وہ خود حکومت میںہیں اور موجودہ حکمرانوں کے قریب ترین فرد سمجھے جاتے ہیں لیکن حکومت میں ہوتے ہوئے حکومت سے گلہ خود ان کی اور ان کی جماعت کی سیاسی ناکامی کے طورپر دیکھا جانا چاہیے۔ پاکستان اچھی حکمرانی کے نظام سے عملًا محروم ہے۔اس محرومی کے عمل میں مقامی حکومتوں کو نظر انداز کرنے کی پالیسی یا اس نظام کی عدم موجودگی یا کمزور مقامی نظام حکومت حکمران طبقات کی جہاں ناکامی ہے وہیںان کی نااہلی اور سیاسی عدم ترجیحات کا حصہ بھی ہے۔

پاکستان میں سیاسی اور جمہوری قوتیں بالخصوص بڑی حکمران جماعتیں اختیارات کی نچلی سطح پر سیاسی، انتظامی اور مالی تقسیم کے خلاف ہیں اور اس سوچ کو اپنے سیاسی مفادات کے لیے ایک بڑے خطرے کے طور پر دیکھتی ہیں۔18ویں ترمیم کے باوجود یہاں پر ہماری صوبائی حکومتوں نے تمام تر اختیارات کو اپنی حد تک محدود کرکے صوبائی سطح پر اپنی مرکزیت کا نظام قائم کیا ہوا ہے۔

یعنی کوئی بھی سیاسی قوت مقامی حکومتوں کے نظام کو نہ توخودمختاری دینا چاہتی ہے اور نہ ہی وہ اس مقامی نظام کو آئین میں دی گئی شرط یعنی اس کو وفاقی ، صوبائی حکومت کے بعد تیسری حکومت دینے کی سوچ رکھتی ہے۔پاکستان کے آئین میں دی گئی شقوں آرٹیکل 7،32اور خاص طور پر آرٹیکل 140-Aکو سیاسی جماعتوں نے بری طرح سے ان شقوں کو نظرانداز کرکے اس مقامی حکومتوں کے نظام کا بڑے پیمانے پر سیاسی استحصال کیا ہے۔یہ استحصال آج بھی ہماری سیاسی اور جمہوری سیاست میں سیاست دانوں اور سیاسی جماعتوں کی جانب سے بڑی سیاسی ڈھٹائی کے ساتھ جاری ہے اور وہ بھی اس جرائم پر ذمے دار نہیں ہیں۔

سیاسی جماعتوں اور ان کی حکمران قیادت نے پاکستان میں مقامی حکومتوں کے نظام کو ایک ایسی تجربہ گاہ بنادیا ہے جس کی وجہ سے یہ نظام نہ تو اس سیاسی نظام میں کوئی مستقل حیثیت حاصل کرسکا اور نہ اس نظام کی کوئی ساکھ قائم کی جاسکی۔صوبائی حکومتوں نے اقتدار میں آکر جو بھی مقامی حکومتوں کا نظام موجود تھا۔

اس میں اپنی مرضی کی ترامیم یا نئے قانو ن کو بنیاد بنا کر اس نظام کا حلیہ ہی بگاڑ دیا ہے۔یہ ہی وجہ ہے کہ اس ملک میں مقامی حکومتوںکا کوئی مستقل اور مربوط نظام قائم نہیں ہوسکا۔کیونکہ پاکستان میں مقامی حکومتوں کا نظام صوبائی حکومتوں کے دائرہ کار میں آتا ہے اس لیے مقامی حکومتوںکا عدم موجودگی میں صوبائی سطح کی حکومتوں کا کردار سب سے زیادہ ہے۔

یہ جو پاکستان میں عام آدمی کے مسائل ہیں یا ان میںبنیادی حقوق کے حصول میں موجود محرومی ، یا معاشی بدحالی یا سیاسی،سماجی، معاشی اور قانونی عدم انصاف یا تفریق کے پہلو ہیں ان کا حل ہی ایک مضبوط اور خود مختار مقامی حکومتوں کے نظام سے جڑا ہوا ہے۔

یعنی جتنی زیادہ سیاسی ، انتظامی اور مالی یا وسائل کی تقسیم منصفانہ ہوگی یا مقامی لوگوں کی مقامی فیصلہ سازی میں شراکت ہوگی اتنے ہی لوگوںکے مسائل بھی حل ہونگے اور لوگوں کا حکومت اور نظام پر اعتماد بھی بڑھے گا۔مقامی سطح کی قیادت ہی مقامی فیصلوں کی مدد سے اپنے مسائل حل کرسکتی ہیں اور اس کے لیے مقامی لوگوں پر اعتماد کرنا ہوگا۔ایک طرف روائتی سیاسی قوتیں ہیں تو دوسری طرف یہ مضبوط بیوروکریسی کا انتظامی ڈھانچہ ہے جو اس نظام کے خلاف ہے۔

اس لیے اگر ہم نے واقعی جدید دنیا سے سیکھ کر اپنے حکمرانی کے نظام کو شفاف بنانا ہے اور لوگوں کو بااختیار کرکے ان کے مسائل حل کرنے ہیں تو یہ کام موجودہ روائتی سیاسی نظام  میں ممکن نہیں۔مقامی حکومتوں کے نظام کے حوالے سے جو اس وقت بدترین غیر معمولی حالات ہیں اس کو بہتر کرنے کے لیے بھی ہمیں اجتماعی طور پر غیر معمولی اقدامات اور سخت کڑوے فیصلے کرنے ہونگے۔

یہ جو صوبائی حکومتوں کے ہاتھوں میں ہم نے پورے مقامی  حکومتوں کے نظام کا بوجھ ڈال دیا ہے یا یہ کسی بھی سطح پر جوابدہ نہیں اسے تبدیل کرنا ہوگا۔مضبوط اور خود مختارمقامی حکومتوں کا نظام بہت سی آئینی،قانونی اور سیاسی تبدیلیاں چاہتا ہے اور جب تک اس مقامی حکومتوں کے نظام کو ممکن بنانے کے لیے بھارت کی طرز پر آئین میں باقاعدہ ایک باب شامل نہیں کیا جاتا اور اسے مکمل طور پر آئینی اور قانونی تحفظ نہیں دیا جاتا تو اس نظام کا کوئی مستقبل نہیں ہوگا۔

مقامی لوگ بنیادی طور پر اس موجودہ نظام سے پریشان ہیں اور اپنے مسائل کے حل میں خود کو بے بس محسوس کرتے ہیں ۔یہ ہی وجہ ہے کہ ہم مقامی سطح پر نظام حکومت کے خلاف بغاوت یا سخت تحفظات دیکھ رہے ہیں۔اسی بنیاد پر مقامی لوگ صوبائی خود مختاری کے نام پر نئے صوبوں کی تشکیل کی بات کررہے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ نئے صوبوں کی تشکیل کے بغیر ہمارے مسائل حل نہیں ہوسکیں گے۔

یہ جو ہمیں تعلیم،صحت یا مقامی سطح پر روزگار، سیوریج ، صفائی ،صاف پانی ،مقامی ترقی اور مقامی مسائل کا سامنا ہے، ان سب کا حل مقامی مضبوط حکومتوں کی صورت میں ہی نظر آتا ہے۔ اچھی گورننس کا حل ہی خود مختارمقامی حکومتوںکے نظام سے جڑا ہوا ہے ۔بلاوجہ کی سیاسی ناکامی پر مبنی تجربات سے نکل کر ہمیں مضبوط مقامی حکومتوں کے نظام پر ہی زور دینا چاہیے اور یہ ہی ہماری ترجیح بھی ہونی چاہیے۔

یہ جو ہماری ترقی ملک کے چند بڑے شہروں تک محدود نظر آتی ہے یا وسائل کی مالیاتی تقسیم یا سیاسی ترجیحات میں بھی بڑے شہروں کو اہمیت دے کر چھوٹے شہروں یا دیہاتوں کو نظر انداز کرنے کی پالیسی نے پورے ملک کے سیاسی،انتظامی اور مالیاتی نظام کو بگاڑ کر رکھ دیا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ پس ماندہ یا کمزور طبقات ہماری حکومتی پالیسی کی ترجیحات کا حصہ نہیں ۔اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ لوگوں کا حکومت سے رشتہ کمزور ہوتاہے۔

ہمیں دنیا کے جدید ملکوں سے یہ سبق سیکھنا چاہیے کہ انھوں نے اپنی حکمرانی کے نظام میں بہتری کے لیے کیا اصلاحات اور طریقہ کار اختیار کیا اور اسی کی بنیاد پر خود کو آگے بڑھانے کی پالیسی اختیار کرنا ہوگی۔مقامی حکومتوں کے نظام کے بغیر انتظامی ڈھانچوں یا صوبائی یا ضلعی اتھارٹیوں کی مدد سے نظام میں شفافیت نہیں لائی جاسکتی ۔

لیکن اس کے لیے ہمیں اپنی حکومت یا ادارہ جاتی سطح پر ترجیحات کا تعین اور ایک مضبوط سیاسی کمٹمنٹ کی ضرورت ہے۔ بغیر کسی الجھاؤ اور تضادات کے ساتھ چلنے کی روش کو خیر آباد کہنا ہوگا اور حکمرانی کے نظام میں جدید تقاضوں کو بنیاد بنا کر آگے بڑھنے کا عمل ہی ہماری مضبوط ترقی اور سماج میں موجود مختلف نوعیت کی تفریق کے پہلوؤں کو ختم کرکے سب میں برابری کی بنیاد پر نظام کی ساکھ کو قائم کرسکتا ہے اور یہ ہی ہمارے ریاستی اور عوامی مفاد میں ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: مقامی حکومتوں کا نظام مقامی حکومتوں کے نظام میں مقامی حکومتوں حکمرانی کے نظام صوبائی حکومتوں کرنے کی پالیسی صوبائی حکومت پاکستان میں کے نظام کو صوبوں کی نظام کا ہیں اور دیا ہے ہے اور کے لیے کو نظر اور اس

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • حکومت کا مسلسل تین دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات مہنگی کرنے کا نیا ریکارڈ
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ