بلدیاتی نمائندوں کا مسائل حل نہ ہونے پر خیبرپختونخوا حکومت کے خلاف سڑکوں پر آنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 8th, September 2025 GMT
خیبرپختونخوا کے بلدیاتی نمائندوں نے مسائل حل نہ ہونے پر ایک بار پھر حکومت کے خلاف سڑکوں پر آنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ترجمان لوکل کونسلز ایسوسی ایشن و تحصیل چئیرمین سرائے نورنگ لکی مروت عزیز اللہ مروت نے اپنے حالیہ بیان مٰں کہا کہ پی ٹی آئی کی موجودہ و گزشتہ صوبائی حکومتوں نے خیبر پختونخوا لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 میں خیبر پختونخوا لوکل گورنمنٹ ترمیمی ایکٹ 2019 کے ذریعے ترامیم کرکے ایکٹ کا حلیہ بگاڑ کر مقامی حکومتوں کے سر ضلعی حکومتوں کو کاٹ دیا پھر انتخابات کے بعد خیبر پختونخوا لوکل گورنمنٹ ترمیمی ایکٹ 2022 کے ذریعے ترامیم کرکے فنڈز اور اختیارات سے بھی محروم کردیا۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ ساڑھے تین سالوں سے صوبائی حکومت نے مقامی حکومتوں کو ایک پیسہ ترقیاتی فنڈ جاری نہیں کیا ہے جوکہ عوام کے ساتھ ظلم مذاق ہے اورمقامی حکومتوں کے منتخب نمائندوں کی تذلیل ہے جبکہ آئین و قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ رولز آف بزنس میں ترامیم کرکے مقامی حکومتوں کو عملی طور پر مفلوج کردیا گیا ہے جبکہ مقامی حکومتوں سے لینڈ یوز ، بلڈنگ کنٹرول اور واٹر سپلائی و سینیٹیشن کے اختیارات کے مکمل و جُزوی طور صوبائی حکومت نے اپنے اختیار میں لے لئے ۔
ترجمان نے کہا کہ مقامی حکومتوں کو منتقل کردہ دفاتر کیلئے تحصیل کی سطح پر ایک بھی دفتر قائم نہیں کیا گیا ، جبکہ اختیارات بھی عبوری انتظام کے تحت ڈپٹی کمشنرز کو تفویض کئے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کیطرف سے کردہ ان اقدامات کیوجہ سے اج خیبرپختونخوا میں مقامی حکومتیں مفلوج ہیں اور عوام کو گھروں کی دہلیز پر میونسپل و سماجی خدمات کی فراہمی شدید متاثر ہو رہی ہیں۔
لوکل کونسلز ایسوسی ایشن خیبرپختونخوا نے صوبائی حکومت کیطرف سے کئے گئے وعدوں کا بہت انتظار کیا مگر صوبائی حکومت کسی وعدے کو پورا نہیں کرسکی اس لیے 10 ستمبر کے اجلاس میں آیندہ لائحہ عمل کا اعلان کرینگے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مقامی حکومتوں صوبائی حکومت حکومتوں کو کہا کہ
پڑھیں:
سہیل آفریدی کے خلاف درخواستیں سماعت کے لیے مقرر، فریقین کو نوٹس جاری
وفاقی آئینی عدالت نے سہیل آفریدی کے خلاف دائر مختلف درخواستیں سماعت کے لیے مقرر کردی ہیں، جبکہ عمران خان رہائی فورس کے خلاف دائر درخواست اور خیبرپختونخوا میں 9 مئی کے مقدمات واپس لینے کے خلاف اپیل پر 29 جولائی کو سماعت ہوگی۔
چیف جسٹس جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں آئینی عدالت کا 3 رکنی بینچ ان درخواستوں کی سماعت کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے وارنٹ گرفتاری، کیا مقدمات کے باعث ان کی کرسی خطرے میں ہے؟
عدالت نے خیبرپختونخوا حکومت سمیت تمام متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کر دیے ہیں، آئینی عدالت اس سے قبل 9 مئی کے مقدمات کی واپسی کے حکومتی فیصلے پر حکم امتناع بھی جاری کرچکی ہے۔
ریڈیو پاکستان کی جانب سے پشاورمیں ریڈیو پاکستان پر حملے سے متعلق مقدمہ واپس لینے کے خیبرپختونخوا حکومت کے فیصلے کو آئینی عدالت میں چیلنج کیا گیا تھا۔
مزید پڑھیں: ریاستی اداروں پر گمراہ کن الزامات لگانے کا کیس: سہیل آفریدی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری
درخواست میں ریڈیو پاکستان نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ مقدمہ خیبرپختونخوا سے کسی دوسرے صوبے منتقل کیا جائے، جس کی استدعا بھی عدالت کے سامنے زیر غور آئے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
9 مئی جسٹس امین الدین خان چیف جسٹس حکم امتناع خیبر پختونخوا رہائی فورس ریڈیو پاکستان سہیل آفریدی عمران خان وزیر اعلی وفاقی آئینی عدالت