خیبرپختونخوا کے بلدیاتی نمائندوں نے مسائل حل نہ ہونے پر ایک بار پھر حکومت کے خلاف سڑکوں پر آنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ترجمان لوکل کونسلز ایسوسی ایشن و تحصیل چئیرمین سرائے نورنگ لکی مروت عزیز اللہ مروت نے اپنے حالیہ بیان مٰں کہا کہ پی ٹی آئی کی موجودہ و گزشتہ صوبائی حکومتوں نے خیبر پختونخوا لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 میں خیبر پختونخوا لوکل گورنمنٹ ترمیمی ایکٹ 2019 کے ذریعے ترامیم کرکے ایکٹ کا حلیہ بگاڑ کر مقامی حکومتوں کے سر ضلعی حکومتوں کو کاٹ دیا پھر انتخابات کے بعد خیبر پختونخوا لوکل گورنمنٹ ترمیمی ایکٹ 2022 کے ذریعے ترامیم کرکے فنڈز اور اختیارات سے بھی محروم کردیا۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ ساڑھے تین سالوں سے صوبائی حکومت نے مقامی حکومتوں کو ایک پیسہ ترقیاتی فنڈ جاری نہیں کیا ہے جوکہ عوام کے ساتھ ظلم مذاق ہے اورمقامی حکومتوں کے منتخب نمائندوں کی تذلیل ہے جبکہ آئین و قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ رولز آف بزنس میں ترامیم کرکے مقامی حکومتوں کو عملی طور پر مفلوج کردیا گیا ہے جبکہ مقامی حکومتوں سے لینڈ یوز ، بلڈنگ کنٹرول اور واٹر سپلائی و سینیٹیشن کے اختیارات کے مکمل و جُزوی طور صوبائی حکومت نے اپنے اختیار میں لے لئے ۔ 

ترجمان نے کہا کہ مقامی حکومتوں کو منتقل کردہ دفاتر کیلئے تحصیل کی سطح پر ایک بھی دفتر قائم نہیں کیا گیا ، جبکہ اختیارات بھی عبوری انتظام کے تحت ڈپٹی کمشنرز کو تفویض کئے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کیطرف سے کردہ ان اقدامات کیوجہ سے اج خیبرپختونخوا میں مقامی حکومتیں مفلوج ہیں اور عوام کو گھروں کی دہلیز پر میونسپل و سماجی خدمات کی فراہمی شدید متاثر ہو رہی ہیں۔ 

لوکل کونسلز ایسوسی ایشن خیبرپختونخوا نے صوبائی حکومت کیطرف سے کئے گئے وعدوں کا بہت انتظار کیا مگر صوبائی حکومت کسی وعدے کو پورا نہیں کرسکی اس لیے 10 ستمبر کے اجلاس میں آیندہ لائحہ عمل کا اعلان کرینگے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: مقامی حکومتوں صوبائی حکومت حکومتوں کو کہا کہ

پڑھیں:

طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کے لیے ایک اہم اقدام کرتے ہوئے آئندہ مالی سال میں 50ہزار الیکٹرک بائیکس اور 5 ہزار الیکٹرک ٹیکسیاں بلاسود فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق الیکٹرک بائیکس اور ای ٹیکسیوں کی بلاسود فراہمی کی تجویز کو آئندہ بجٹ میں شامل کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔

اس اقدام کا مقصد نوجوانوں کو سستی اور ماحول دوست سفری سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔وزیر ٹرانسپورٹ پنجاب بلال اکبر خان کے مطابق ای ٹیکسی اسکیم کے تحت مستحق افراد کو آسان اقساط اور بلاسود فنانسنگ کی سہولت فراہم کی جائے گی جبکہ رجسٹریشن سمیت مختلف مراعات بھی دی جائیں گی۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور انہیں معاشی سرگرمیوں میں شامل کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔

بلال اکبر خان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے سے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے اور الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے فروغ سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے میں بھی مدد ملے گی۔حکومت کی جانب سے اس اسکیم کی مزید تفصیلات اور اہلیت کے معیار آئندہ بجٹ اور پالیسی دستاویزات میں جاری کیے جانے کا امکان ہے۔

متعلقہ مضامین

  • لاہور، کرایہ داری ایکٹ کی خلاف ورزی پر رواں سال اب تک4727 ملزمان گرفتار
  • کرایہ داری ایکٹ کی خلاف ورزی پر کریک ڈاؤن تیز، 5600 سے زائد ملزمان گرفتار
  • گلگت بلتستان انتخابات: پی ٹی آئی پر مقامی سیاسی عمل کو متاثر کرنے اور افراتفری پھیلانے کا الزام
  • ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ ہونے والے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوبارہ انعقاد کا فیصلہ
  • بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ