9 مئی کیس میں بری شاہ محمود پی ٹی آئی کی قیادت سنبھال سکتے ہیں؟ سلمان اکرم کا جواب سامنے آگیا
اشاعت کی تاریخ: 23rd, July 2025 GMT
پاکستان تحریک انصاف کے جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجا نے کہا ہے کہ شاہ محمود قریشی کے خلاف ابھی بھی پانچ چھ مقدمات ہیں، یہ کہنا قابل ازوقت ہے کہ وہ پارٹی کی قیادت سنبھالیں گیے، شاہ محمود قریشی ابھی باہر نہیں آرہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم سب فسطائیت کا شکار ہیں۔اس میں کسی کے لیے کوئی استثنیٰ نہیں ہے، اسلیے کسی قسمُ کا کوئی غلط مفروضہ نہ قائم کیا جائے، منصوبہ ساز ملک عدلیہ اور نظام کےساتھ جو کررہے ہیں وہ ہمارے سامنے ہے
۔سلمان اکرم راجا نے کہا کہ یہ ایسی صورتحال ہے جس کو قبول نہیں کرنا چاہیے، یہ پی ٹی آئی کا نہیں پوری کا قوم کا مسئلہ ہے، نظام انصاف انصاف کا نظام نہیں رہا بلکہ اسکو حملوں کا نظام بنادیا گیا، یہ ساری نظام اب قوم کے لیے ایک چیلنج بن گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ زندہ قومیں ایسی صورتحال کا جواب دیا کرتی ہیں، قومیں اس صورتحال میں خاموش نہیں رہتی قومیں اسکا جواب دیتے ہیں، دیکھتے ہیں پاکستانی قوم کیا جواب دیتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ شاہ محمود قریشی کے خلاف ابھی بھی پانچ چھ مقدمات ہیں، یہ کہنا قابل ازوقت ہے کہ وہ پارٹی کی قیادت سنبھالیں گیے، شاہ محمود قریشی ابھی باہر نہیں آرہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: شاہ محمود قریشی نے کہا
پڑھیں:
توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔
دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔
اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔