شاہ محمود قریشی کا بری ہونا کوئی اچنبھے کی بات نہیں،جس کسی نے ان پر 9مئی کا کیس بنایا ہے وہ کوئی بیوقوف آدمی تھا،حامد میرکا تبصرہ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, July 2025 GMT
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)معروف صحافی و سینئر تجزیہ کار حامد میر نے 9مئی مقدمات میں شاہ محمود قریشی کی بریت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ شاہ محمود قریشی پر اور بھی مقدمات ہیں،میں نے آپ کو پہلے بھی کہا ہے،شاہ محمود قریشی کا بری ہونا ہےوہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے،ان پر تو کیس بنتا ہی نہیں تھا،وہ تو ایسا لگتا ہے کہ جس کسی نےان پر کیس بنایا ہے،وہ کوئی بیوقوف آدمی تھا،کہ ایک آدمی جو 9مئی کے دن کراچی میں بیٹھا ہوا ہے، اپنی بیوی کی تیمار داری کررہا ہےاس پر آپ نے کیس بنا دیا۔
سینئر تجزیہ کار کاکہناتھا کہ اس کیس سے تووہ بری ہو گئے ہیں،لیکن اس کا قطعاً مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ جیل سے باہر آ کرتحریک انصاف کو سنبھال لیں گے،مجھے فی الحال ایسی کوئی بات نہیں لگتی،ان پر اور بھی مقدمات ہیں،ان پر ایک اور کیس ہے جو سنگین نوعیت کاہے،وہ ملک سے غداری کا مقدمہ ہے،جس میں آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کابھی الزام ہے،میرا خیال ہے ابھی ان کے لئے مشکلات ختم نہیں ہوئی ہیں۔
ملک بھر کے ہوائی اڈوں پر وی آئی پی لین کی سیکیورٹی ذمہ داری اے ایس ایف کے سپرد
حامد میرنے کہاکہ شاہ محمود قریشی کی اس وقت صورتحال یہ ہے کہ ان کے برخودار زین قریشی وہ بھی ایم این اے ہیں،ان کی بیٹی بھی سیاست میں بڑی متحرک ہیں،ان ساروں کا جو موقف ہے اس کی وجہ سے مجھے نہیں لگتا کہ شاہ محمود قریشی کی مشکلات فوری طور پر ختم ہوں گی،مجھے لگتا ہے تحریک انصاف کیلئے مشکلات مزید بڑھنے والی ہیں۔
شاہ محمود قریشی کا بری ہونا کوئی اچھنبے کی بات نہیں، جو بندہ اپنی بیوی کی تمارداری کر رہا تھا ان کو بھی ملوث کیا گیا ہے۔ شاہ محمود قریشی پر اور بھی کیسز ہیں، فوری پر مشکلات ختم نہیں ہوں گی، حامد میر pic.
مزید :
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: شاہ محمود قریشی بات نہیں
پڑھیں:
پشاور: حیات میڈیکل کمپلیکس میں ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال دوسرے روز بھی جاری، مریض مشکلات سے دوچار
پشاور:حیات میڈیکل کمپلیکس پشاور میں ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال دوسرے روز بھی جاری ہے جس کے باعث مریضوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔
ینگ ڈاکٹرز کی جانب سے او پی ڈیز اور آپریشنز کا مکمل بائیکاٹ کیا گیا جبکہ احتجاج کرنے والے ڈاکٹروں نے او پی ڈی کمروں کو تالے بھی لگا دیے۔ ہڑتال کے باعث اسپتال میں مختلف طبی سروسز کی فراہمی معطل ہو کر رہ گئی۔
اس صورتحال کے نتیجے میں علاج کی غرض سے آنے والے مریضوں اور ان کے اہل خانہ کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر اسفندیار نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا اپنے وعدے کے مطابق کرپشن کی شفاف تحقیقات کروائیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے اس حوالے سے فوری اقدامات نہ کیے تو صوبے بھر کے تمام اسپتال بند کر دیے جائیں گے۔