1984 سکھ نسل کشی: کمال ناتھ کی موجودگی چھپانے پر دہلی حکومت کی بازپرس کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, July 2025 GMT
دہلی کے وزیر اور اکالی دل کے رہنما منجندر سنگھ سرسا نے سابق وزیراعلیٰ مدھیہ پردیش کمال ناتھ کی 1984 کے سکھ مخالف فسادات میں مبینہ موجودگی سے متعلق پولیس رپورٹ عدالت میں پیش نہ کیے جانے پر دہلی ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا ہے۔
درخواست میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ عدالت حکومت کو ہدایت دے کہ وہ 1 نومبر 1984 کو گوردوارہ رکاب گنج صاحب میں ہونے والے سانحے کی رپورٹ عدالت میں پیش کرے، جس میں سابق اے سی پی گوتم کول نے اس وقت کے پولیس کمشنر کو کمال ناتھ کی جائے وقوعہ پر موجودگی کے بارے میں رپورٹ دی تھی۔
مزید پڑھیں: گولڈن ٹیمپل پر آپریشن بلیو اسٹار کو 41 برس مکمل، بھارتی سکھوں کے زخم آج بھی تازہ
درخواست گزار کے وکیل، سینئر ایڈووکیٹ ایچ ایس پھولکا نے عدالت میں مؤقف اپنایا کہ کمال ناتھ کی موقع پر موجودگی پولیس ریکارڈ اور متعدد اخبارات میں دستاویزی طور پر درج ہے، لیکن حکومت نے جنوری 2022 میں جمع کرائی گئی اپنی اسٹیٹس رپورٹ میں ان شواہد کو شامل نہیں کیا۔
واضح رہے کہ دہلی ہائیکورٹ نے 27 جنوری 2022 کو حکومت کو معاملے میں اسٹیٹس رپورٹ داخل کرنے کی ہدایت کی تھی، جس پر مرکز نے حلف نامہ جمع کرایا، تاہم اس میں کمال ناتھ کے کردار پر کوئی بات شامل نہیں تھی۔
مزید پڑھیں: ہیوسٹن میں سکھوں اور کشمیریوں کا بھارت کے خلاف مظاہرہ
درخواست کے مطابق یکم نومبر 1984 کو گوردوارہ رکاب گنج صاحب کے احاطے میں دو سکھ، اندر جیت سنگھ اور منموہن سنگھ، کو ایک مشتعل ہجوم نے زندہ جلا دیا، جس کی قیادت مبینہ طور پر کمال ناتھ کر رہے تھے۔
اس واقعے میں 5 افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی، تاہم کمال ناتھ کو نامزد نہیں کیا گیا۔ بعد ازاں ٹرائل کورٹ نے یہ قرار دے کر تمام ملزمان کو بری کر دیا کہ وہ موقع پر موجود ہی نہیں تھے۔ عدالت نے اس درخواست کی سماعت کے لیے 18 نومبر کی تاریخ مقرر کر دی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
1984 کے سکھ مخالف فسادات سابق وزیراعلیٰ مدھیہ پردیش کمال ناتھ منجندر سنگھ سرسا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: کمال ناتھ منجندر سنگھ سرسا کمال ناتھ کی
پڑھیں:
مانچسٹر، پاکستانی قونصل خانہ کے اوقات میں اضافہ
—تصویر بشکریہ سوشل میڈیاقونصلیٹ جنرل آف پاکستان مانچسٹر نے پاکستانی کمیونٹی کی سہولت کے لیے سرکاری اوقات میں اضافہ کر دیا ہے۔
ہائی کمشنر آف پاکستان ٹیپو عثمان کی ہدایت پر اب قونصل خانہ کمیونٹی خدمات کے لئے روزانہ صبح 8:00 بجے کام کا آغاز کرے گا۔
قونصل جنرل امتیاز فیروز گوندل کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق نئے اوقات کار سے کمیونٹی کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں گی، جبکہ روزانہ اپوائنٹمنٹ کی تعداد بھی بڑھا دی جائے گی۔
تمام درخواست گزاروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ قونصل خانے کی آن لائن اپوائنٹمنٹ پورٹل کے ذریعے وقت لینا ہوگا۔
یہ اپوائنٹمنٹ ہر ہفتہ کے روز صبح 10:00 بجے جاری کی جائیں گی۔درخواست گزار اپوائنٹمنٹ بک کرتے وقت اپنی ذاتی معلومات استعمال کریں اور مقررہ وقت پر پہنچیں۔
30 منٹ سے زیادہ تاخیر سے آنے والے درخواست گزاروں کو نئی اپوائنٹمنٹ لینا ہوگی۔
قونصل جنرل امتیاز فیروز گوندل نے کہا کہ یہ اقدامات کمیونٹی کو مؤثر، شفاف اور بہتر خدمات فراہم کرنے میں مدد گار ثابت ہوں گے۔