پی ٹی آئی میں علیمہ خانم سے بڑا کوئی غدار نہیں، پارٹی کا شیرازہ بکھیر دیا. شیر افضل مروت کا الزام
اشاعت کی تاریخ: 23rd, July 2025 GMT
پشاور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2025 ) رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی میں کوئی غدار ہے تو علیمہ خانم سے بڑا کوئی غدار نہیں، انہوں نے پارٹی کا شیرازہ بکھیر دیا ایک انٹرویو میں انہوں نے انکشاف کیا کہ عمران خان علیمہ خانم سے خود نہیں ملنا چاہتے، بانی نے جیل حکام کو کہا ہے علیمہ خانم کو ملاقات کی فہرست سے نکال دیں، وہ یہ بھی کہہ چکے علیمہ خانم کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں.
(جاری ہے)
ایک سوال کے جواب میں شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ علیمہ خانم کا بیٹا شہر میں دندناتا پھر رہا ہے جبکہ دوسری بہن کا بیٹا جیل میں ہے، جو الزامات حسان نیازی پر ہیں وہی علیمہ خانم کے بیٹے پر بھی ہیں علیمہ خانم وضاحت دیں ان کابیٹا کیوں آزاد ہے اور حسان نیازی کیوں جیل میں ہے؟ علیمہ خانم نے پی ٹی آئی میں انتشار کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا، کبھی علی امین گنڈا پور تو کبھی بیرسٹر سیف پر تنقید انہوں نے کسی کو نہیں چھوڑا سب کو متنازع بنایا ہے. ایک سوال پر شیرافضل مروت نے کہا کہ عمران خان نے بیرسٹرسیف کو فائنل سینیٹ امیدواروں کی فہرست دی تھی، علیمہ خانم نے بیرسٹرسیف کو بلوا کر کہا کہ فہرست کو تبدیل کریں شیرافضل مروت کا کہنا تھا کہ بیرسٹر سیف نے واضح کیا سابق وزیراعظم نے فہرست دی ہے تبدیل نہیں کرسکتا، فہرست میں مشال یوسفزئی کا بھی نام تھا جو علیمہ خانم کو پسند نہیں تھا مشال یوسفزئی بشری بی بی کے قریب ہیں اس لیے علیمہ خانم کی دشمن ہیں، جو بھی بشری بی بی کے قریب ہوگا علیمہ خانم ان کی دشمن بن جائیں گی انہوں نے کہاکہ علیمہ خانم نے آج تک نہیں بتایاکہ2002میں26کروڑ کا گھرکیسے خریدا، علیمہ خانم کے ساتھ ایک خاتون تھی ان کے پیسے ہتھیائے وہ عدالتوں میں گئی.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے علیمہ خانم انہوں نے
پڑھیں:
5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظاتپارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکاپارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکملعمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس