سرکاری گاڑی کی نمبر پلیٹ کا پرائیوٹ گاڑی میں استعمال، سندھ گورنمنٹ اسپتال سعود آباد کے ایم ایس معطل
اشاعت کی تاریخ: 23rd, July 2025 GMT
کراچی:
سندھ گورنمںٹ سعود آباد اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر آغا عامر کو سرکاری گاڑی کی نمبر پلیٹ اتار کر پرائیوٹ گاڑی پر لگانے پر معطل کردیا گیا۔
محکمہ صحت کے ذمے دار ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ معطل ہوئے ڈاکٹر آغا عامر نے سندھ گورنمنٹ سعود آباد اسپتال کی سرکاری گاڑی کلٹس کی نمبر پلیٹ اتار کر اپنی پرائیویٹ کار میں لگا رکھی تھی، اوریجنل نمبر پلیٹ کا کلر یلو تھا جسے گرین کلر کرکے نمبر پلیٹ میں ٹیمپرنگ بھی کردی گئی تھی۔ وہ پرائیویٹ کار کوئی اورشخص چلاتا تھا۔
منگل کو ایم ایس کے قریبی دوست کی سعود آباد اسپتال کی سرکاری گاڑی کلٹس جی ایس۔ 6751 جب شاہراہ بھٹو کے ٹول پلازا پہنچی تو وہاں موجود عملے نے ٹول ٹیکس طلب کیا جس پر گاڑی میں موجود شخص نے ٹول ٹیکس دینے سے انکار کیا اور کہا کہ سرکاری گاڑی ہے اور میں سندھ گورنمنٹ سعود آباد اسپتال کا ایم ایس ہوں۔
اس پر ٹول ٹیکس والوں کو شبہ ہوا اور انھوں نے گاڑی کی تصاویر بناکر متعلقہ حکام کو بھیج دیں جس پر چیف سیکرٹری سندھ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے سندھ گورنمنٹ سعود آباد اسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر آغا عامر کو فوری طور پر معطل کرتے ہوئے انہیں محکمہ صحت کو رپورٹ کرنے کے تحریری احکامات جاری کردئیے۔
واضح رہے کہ صوبائی محکمہ صحت نے 20 دسمبر 2024ء کو سندھ گورنمنٹ اسپتال سعودآباد کے ایم ایس ڈاکٹر پیر غلام نبی شاہ جیلانی گریڈ 20 کا تبادلہ کرکے گریڈ 19 کے ڈاکٹر آغا عامر کو ایم ایس مقرر کیا تھا۔ ڈاکٹر پیر غلام نبی شاہ جیلانی گریڈ20 کی سینیارٹی لسٹ میں 5 ویں نمبر پر ہیں اور ڈاکٹر آغا عامر گریڈ 19 کی سینیارٹی لسٹ میں 140 ویں نمبر پر تھے لیکن حکومت سندھ نے سیاسی اثر و رسوخ رکھنے والے ڈاکٹر آغا عامر کو قواعد کے برخلاف تقرری کے احکامات جاری کیے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ڈاکٹر ا غا عامر کو سعود ا باد اسپتال سندھ گورنمنٹ سرکاری گاڑی نمبر پلیٹ ایم ایس
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔