سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل نہیں ہوسکتا، عالمی ثالثوں کی پاکستانی مؤقف کی حمایت
اشاعت کی تاریخ: 15th, September 2025 GMT
پاکستان کے اقوام متحدہ میں سفیر عاصم افتخار نے کہا کہ بین الاقوامی ثالثوں نے واضح کردیا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل نہیں ہوسکتا اور پاکستان کے مؤقف کی توثیق کردی ہے۔
نجی اخبار میں شائع رپورٹ میں بتایا گیا کہ پاکستان کے اقوام متحدہ میں سفیر کا کہنا ہے کہ پاکستان کا مؤقف کہ سندھ طاس معاہدہ (انڈس واٹر ٹریٹی) یکطرفہ طور پر معطل نہیں کیا جا سکتا، بین الاقوامی ثالثوں نے برقرار رکھا ہے، جس سے ایک بار پھر اس بات کی تصدیق ہوئی ہے کہ یہ معاہدہ مکمل طور پر قائم ہے اور دونوں ممالک کے لیے لازم ہے۔
اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر نیویارک میں مسلم امریکن لیڈرشپ الائنس (ایم اے ایل اے) کے زیراہتمام ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے عالمی برادری کو خبردار کیا کہ بھارت پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے اور یکطرفہ طور پر معاہدے کو معطل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جو جنوبی ایشیا میں امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے۔
انہوں نے یاد دلایا کہ مستقل ثالثی عدالت (پی سی اے) پہلے ہی جون اور اگست 2025 میں دو الگ الگ فیصلوں میں پاکستان کے حق میں فیصلہ دے چکی ہے اور بھارت کے اقدامات کو بین الاقوامی قانون، بین الاقوامی انسانی قانون اور انسانی حقوق کے قانون کی سنگین خلاف ورزی قرار دے چکی ہے۔
عاصم افتخار نے زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلے کسی ابہام کی گنجائش نہیں چھوڑتے، کسی بھی فریق کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ یکطرفہ طور پر اس معاہدے کو معطل یا ختم کرے، سندھ طاس معاہدہ زندہ ہے اور اس کی شقیں دونوں ممالک پر لازم ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ پانی کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کرنے کا مطلب لوگوں کو ان کے بنیادی انسانی حق سے محروم کرنا ہے اور یہ اقدام ایک ایسے خطے میں نیا تنازع کھڑا کرسکتا ہے جو پہلے ہی غیر یقینی حالات کا شکار ہے۔
قانونی پہلو
تقریب میں ماہرین قانون نے کہا کہ بھارت کا یکطرفہ فیصلہ کسی قانونی بنیاد پر قائم نہیں، آزاد ماہر ڈاکٹر کشور اُپریٹی نے کہا کہ دہشت گردی کے الزامات کو بین الاقوامی قانون کے تحت سنگین خلاف ورزی قرار نہیں دیا جا سکتا اور یاد دہانی کرائی کہ معاہدے میں کسی قسم کی اخراج کی شق شامل نہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اس معاہدے کی معطلی یا خاتمہ پورے ایشیا اور اس سے آگے تک دور رس نتائج پیدا کرے گا اور بھارت پر تنقید کی کہ اس نے معاہدے کے تحت موجود تنازع حل کرنے کے طریقہ کار کو نظرانداز کیا۔
قانونی ماہر اور ثالثی کے ماہر شاہمیر حلیپوٹھہ نے سندھ طاس معاہدے کو جنوبی ایشیا کا سب سے پائیدار تعاون کا فریم ورک قرار دیا لیکن کہا کہ اس کے تنازع حل کرنے کے نظام کو جدید بنانے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ ایک ہی ثالثی عدالت کے تحت دائرہ اختیار کو مضبوط کیا جائے تاکہ عمل تیز تر ہو اور کہا کہ ورلڈ بینک کی حالیہ خاموشی نے اس کے ضامن کے کردار کو کمزور کر دیا ہے۔
ورلڈ بینک کے سابق ماہر آبی امور ڈاکٹر مسعود احمد نے واضح کیا کہ سندھ طاس معاہدہ محض ایک سیاسی معاہدہ نہیں بلکہ ایک انجینئرنگ فریم ورک ہے جس نے پورے بیسن میں وسیع ڈھانچے کی تعمیر ممکن بنائی۔
انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ صرف ایک دستاویز نہیں ہے بلکہ یہ زمینی حقائق کی عکاسی کرتا ہے جنہیں نہ تو بدلا جا سکتا ہے اور نہ ہی معطل رکھا جا سکتا ہے۔
ڈاکٹر مسعود نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان کو معاہدے کے فوائد کو محفوظ رکھنے کے لیے بیک وقت پانی کے استعمال کی کارکردگی بہتر بنانی چاہیے، آبپاشی کے نظام کو مضبوط کرنا چاہیے اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے جھٹکوں کے خلاف لچک پیدا کرنی چاہیے۔
ماہر قانون بیرسٹر داؤد غزنوی نے کہا کہ بھارت کی جانب سے ہائیڈرولوجیکل ڈیٹا فراہم کرنے سے انکار نے پاکستان میں سیلاب، بے گھری اور بڑے پیمانے پر ہجرت کو پہلے ہی بدتر بنا دیا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ پاکستان کو زندگی کی اہم ضرورت سے محروم کرنا بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے، اس جانب اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تقریباً 45 فیصد روزگار براہِ راست سندھ طاس کے نظام پر منحصر ہے۔
داؤد غزنوی نے ورلڈ بینک اور اقوام متحدہ سے ثالثی میں اپنا کردار دوبارہ ادا کرنے پر زور دیا اور سول سوسائٹی سے معاہدے پر عمل درآمد کا مطالبہ کرنے کی اپیل کی۔
ایم اے ایل اے کی چیئرپرسن ماہا خان نے انسانی ہمدردی کی نوعیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پانی کی سلامتی اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف کا مرکزی ستون ہے۔
انہوں نے اس بحران کو روزگار، استحکام اور انسانی وقار کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا اور مزید بگاڑ کو روکنے کے لیے عالمی سطح پر فوری کارروائی کی اپیل کی۔
Post Views: 2.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر خبردار کیا کہ بین الاقوامی اقوام متحدہ کہ پاکستان پاکستان کے نے کہا کہ انہوں نے جا سکتا ہے اور کے لیے
پڑھیں:
عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔
ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔