اسرائیلی فوج کا غزہ سے ڈھائی لاکھ فلسطینوں کی نقل مکانی کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 15th, September 2025 GMT
یروشلم: اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ غزہ شہر سے اب تک ڈھائی لاکھ سے زائد افراد نقل مکانی کر چکے ہیں جب کہ فلسطینی حکام کے مطابق اصل تعداد اس سے کہیں کم ہے کیونکہ زیادہ تر لوگ جنوبی علاقوں میں ہجوم کی وجہ سے منتقل نہیں ہو سکے۔
اقوام متحدہ نے اگست کے آخر میں اندازہ لگایا تھا کہ غزہ کے سب سے بڑے شہری مرکز اور اس کے اردگرد تقریباً دس لاکھ فلسطینی رہائش پذیر ہیں، جہاں کئی ماہ سے جاری محاصرے اور بمباری کے بعد قحط کی صورتحال پیدا ہو رہی ہے۔
فوجی ترجمان اویخائے ادرعی نے بتایا کہ "ڈھائی لاکھ سے زیادہ افراد اپنی حفاظت کے لیے شہر چھوڑ چکے ہیں۔" تاہم غزہ کی سول ڈیفنس ایجنسی نے دعویٰ کیا کہ اب تک صرف 70 ہزار کے قریب افراد ہی نکل سکے ہیں۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا کہ حماس کی قیادت کو ختم کیے بغیر غزہ میں امن ممکن نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ "قطر میں رہنے والے حماس کے سربراہان عوام کی پرواہ نہیں کرتے، وہ مسلسل جنگ کو طول دینے کے لیے فائر بندی کی کوششوں کو ناکام بناتے رہے ہیں۔"
ادھر امریکی سینیئر سفارتکار مارکو روبیو نے کہا کہ قطر میں اسرائیلی حملے سے امریکا اور اسرائیل کے تعلقات متاثر نہیں ہوں گے، تاہم اس کے اثرات پر بات ضرور کی جائے گی تاکہ غزہ میں جنگ بندی کی کوششیں جاری رہ سکیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
فرانس میں جنگلاتی آگ نے 43 ہزار افراد کو انخلا پر مجبور کردیا
جنوب مغربی فرانس میں جنگلاتی آگ کے پھیلنے کے باعث 43,000 سے زائد رہائشیوں اور سیاحوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق آرکاچون بے اور جزیرہ نما کیپ فیرٹ کے قریب سب سے بڑی آگ نے 8,700 ایکڑسے زیادہ رقبے کو جلا دیا ہے۔
رات بھر آگ لگنے کے بعد حکام نے پورے جزیرہ نما کیپ فیرٹ کو خالی کرنے کا حکم دیا۔
مقامی حکام کے مطابق ہمسایہ خطوں میں بسکاروس کے قریب ایک علیحدہ جنگلاتی آگ نے 2,500 ایکڑ سے زیادہ رقبہ کو جلا دیا ہے جس سے 23,000 سے زائد افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے جن میں رہائشی، کیمپرز اور چھٹیاں منانے آئے سیاح شامل ہیں۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے امریکی سوشل میڈیا کمپنی ایکس پر کہا کہ فرانس نے یورپی یونین کے شہری تحفظ کے طریقہ کار کو فعال کر دیا ہے۔