Express News:
2026-06-03@02:01:57 GMT

برباد کراچی پر سیاسی الزامات

اشاعت کی تاریخ: 15th, September 2025 GMT

جولائی و اگست میں کراچی کی تباہ کن بارشوں کے بعد جو کسر رہ گئی تھی وہ ستمبر کے پہلے عشرے ہونے والی بارشوں نے پوری کردی اورکراچی کی برساتی و سیلابی تباہ حالی پر سیاسی پارٹیوں کی ایک دوسرے پر الزام تراشیوں سے یہ تو ثابت ہو گیا کہ ملک کا سب سے بڑا شہر اور اپنے ٹیکسوں سے ملک چلانے والا کراچی واقعی لاوارث ہے جس پر اقتدار میں رہنے والی اور اقتدار سے محروم سیاسی پارٹیاں ایک دوسرے پر شدید الزام تراشیوں سے اپنی سیاست چمکا رہی ہیں اور عملی طور پر وفاق و سندھ کی حکومتیں کچھ کر رہی ہیں نہ کراچی کے بلدیاتی اقتدار میں شامل پیپلز پارٹی، جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی کچھ کرنا چاہتی ہیں اور ان کی شہر سے ہمدردی صرف سیاسی الزامات تراشی تک محدود ہو کر رہ گئی ہے اور اتنا جھوٹ بولا جا رہا ہے کہ شہری کچھ سمجھ نہیں پا رہے کہ ہو کچھ نہیں رہا اور برباد و لاوارث کراچی پر صرف اور صرف سیاست ہو رہی ہے۔

 کراچی میں سندھ حکومت کی طرف سے تعمیر کرائی گئی شاہراہ بھٹو اور نیو حب کینال بہہ جانے پر کراچی سے اسمبلیوں میں نمایندگی کرنے والی ایم کیو ایم نے سندھ حکومت پر کرپشن کا الزام لگایا ہے۔ وفاق میں پیپلز پارٹی کی وجہ سے برسر اقتدار مسلم لیگ (ن) جس کے پاس سندھ میں اسمبلی کی کوئی نشست نہیں ہے صرف چند یوسی چیئرمین اور کونسلر ضرور ہیں، نے وزیر اعلیٰ سندھ پر الزام لگایا ہے کہ وہ اپنے گریبان میں جھانکیں کہ سندھ حکومت نے پی پی کے بانی کے نام کا بھی مذاق بنوا دیا ہے۔ مسلم لیگ سندھ کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت کی تعمیر کردہ شاہراہ بھٹو کا بہہ جانا کرپشن کی اعلیٰ مثال ہے۔

کراچی و سندھ کی تباہی و بربادی پیپلز پارٹی کی کارکردگی ہے۔ پی ٹی آئی سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ جن کی پارٹی کے پاس کراچی کے چند ٹاؤنزکا اقتدار ہے، نے کہا ہے کہ بارشوں سے اربن فلڈنگ میں سندھ حکومت مکمل ناکام رہی ہے اور بارشوں کے بعد وزیر اعلیٰ، صوبائی وزرا، میئر کراچی غائب اور انھوں نے کراچی کے عوام کو اس مشکل میں لاوارث چھوڑ دیا ہے۔

جماعت اسلامی جس کی اسمبلیوں میں کوئی نمایندگی نہیں اور اس کے پاس کراچی کے 9 ٹاؤنز کی سربراہی ہے کہ کراچی کے امیر منعم ظفر خان نے الزام لگایا ہے کہ پیپلز پارٹی کے قابض ٹاؤن چیئرمین کے ہاتھوں اورنگی ٹاؤن کی صورتحال بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے۔ انفرا اسٹرکچر تباہ حال جب کہ عوام کو پینے کا پانی میسر نہیں پورے شہر کی سڑکیں چلنے کے قابل نہیں۔ جے یو آئی ضلع وسطی کے امیر مولانا عبدالرشید کا کہنا ہے کہ کراچی کے عوام سندھ حکومت کی ناقص کارکردگی سے نالاں ہیں سندھ میں امن و امان تباہ اور کچے پکے ڈاکوؤں کا راج قائم ہو چکا ہے۔

ایم کیو ایم پاکستان کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کراچی پر بھی توجہ دیں اور شاہراہ بھٹو اور نیو حب کینال کی تعمیر میں بدعنوانیوں کی تحقیقات کرائیں کیونکہ سندھ حکومت کی کرپشن کے باعث بارہ ارب روپے کی لاگت سے بننے والی نیو حب کینال 12 ہفتے بھی قائم نہ رہ سکی ہے۔ روزنامہ ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق کراچی کا نکاسی آب کا نظام تباہ، جگہ جگہ گٹر ابل پڑے، شہر کے ہر علاقے میں گندا پانی جمع، واٹر کارپوریشن صورتحال پر قابو پانے میں مکمل ناکام، کھلے گٹر موت کا کنواں بن گئے اور شہریوں کا گھروں سے نکلنا اور واپس آنا مشکل ترین کام بن گیا ہے۔

ترجمان وزیر اعلیٰ سندھ نے شاہراہ بھٹو کا ایک حصہ بہہ جانے کی تردید کی ہے اور واضح کیا ہے کہ یہ ملیر سیکشن کا کچھ حصہ ہے جو بارش کے پانی میں نیچے چلا گیا ہے کام جاری ہے ابھی ٹریفک کے لیے کھلا ہی نہیں ہے۔ سندھ حکومت نے اپنے جو لاتعداد ترجمان رکھے ہوئے ہیں اور ان کا کام صرف تردیدیں کرنا اور مخالف پارٹیوں پر الزامات لگانا ہے وہ حقائق کے برخلاف بیان دینے میں مصروف ہیں کہ سڑکیں ٹریفک کے لیے بحال ہو چکیں۔ میئر کراچی متاثرہ علاقوں کا دورہ کرکے دعوے کر رہے ہیں کہ بروقت نکاسی آب سے بیشتر سڑکیں کلیئر ہیں مگر ایسا ہے نہیں۔

میئر کراچی کو کراچی کی برساتی تباہی سے زیادہ سیاسی بیانات دینے کا شوق ہے وہ اپنی کارکردگی پر توجہ دینے کے بجائے تنقید کرنے والے کو احمق قرار دیتے ہیں کبھی انھیں برساتی مینڈک بنا دیتے ہیں اور وہ مسلم لیگ (ن) کو یہ ضرور یاد دلاتے رہتے ہیں کہ (ن) لیگ کی وفاقی حکومت پی پی کی حمایت سے بنی تھی اور قائم ہے مطلب کہ (ن) لیگ سندھ و کراچی کے معاملات پر سندھ حکومت اور بلدیہ عظمیٰ کی کارکردگی پر تنقید نہ کیا کرے۔

سندھ اور کراچی کی صورت حال پر ہر چھوٹی بڑی جماعت پی پی اور سندھ حکومت پر کڑی تنقید کرتی آ رہی ہے۔ ہونا یہ چاہیے تھا کہ وزیر اعلیٰ تمام سیاسی پارٹیوں اور میئر کراچی بلدیہ کونسل میں موجود تمام پارٹیوں کے ساتھ کراچی کی تباہ حالی پر اجلاس بلا کر مشاورت کرتے جو دونوں نے نہیں کی جس کی وجہ سے سب ایک دوسرے کو موجودہ صورت حال کا ذمے دار، کرپٹ قرار دے کر کڑی سے کڑی تنقید کر رہے ہیں اور سیاست چمکانے کے لیے ایک دوسرے پر الزام تراشی کر رہے ہیں جس سے کراچی مزید برباد ہو رہا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سندھ حکومت کی پیپلز پارٹی شاہراہ بھٹو میئر کراچی وزیر اعلی ایک دوسرے پر الزام کراچی کے کراچی کی ہیں اور رہی ہے

پڑھیں:

کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے

فائل فوٹو۔

جناح اسپتال کراچی کے واش روم میں بچے کی پیدائش کے معاملے پر تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی رپورٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹرکو جمع کروا دی۔ 

جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا متاثرہ خاتون رات ساڑھے 9 بجے گائنی وارڈ میں آئی، گائنی وارڈ میں کسی نے بھی خاتون کو طبی امداد نہیں دی۔ 

جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق خاتون کا الٹرا ساؤنڈ نہیں کروایا گیا اور چہل قدمی کا مشورہ دیا گیا۔

جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق کنسلٹنٹ اور آر ایم او ڈیوٹی پر موجود نہیں تھے، مریضوں کے ساتھ آنے والے مرد گائنی وارڈ کے احاطےمیں موجود تھے۔ 

جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق میڈیکل آفسر کو محکمہ صحت بھیجنے اور ڈیوٹی پر موجود پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹرز کی 3 ماہ مزید ٹریننگ کی تجویز ہے۔ 

جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق رپورٹ میں سیکیورٹی گارڈز کی ڈیوٹی پر بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ کمیٹی کی جانب سے بنائی گئی رپورٹ سیکریٹری اور وزیر صحت کو دے دی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے