Express News:
2026-07-24@04:20:19 GMT

برباد کراچی پر سیاسی الزامات

اشاعت کی تاریخ: 15th, September 2025 GMT

جولائی و اگست میں کراچی کی تباہ کن بارشوں کے بعد جو کسر رہ گئی تھی وہ ستمبر کے پہلے عشرے ہونے والی بارشوں نے پوری کردی اورکراچی کی برساتی و سیلابی تباہ حالی پر سیاسی پارٹیوں کی ایک دوسرے پر الزام تراشیوں سے یہ تو ثابت ہو گیا کہ ملک کا سب سے بڑا شہر اور اپنے ٹیکسوں سے ملک چلانے والا کراچی واقعی لاوارث ہے جس پر اقتدار میں رہنے والی اور اقتدار سے محروم سیاسی پارٹیاں ایک دوسرے پر شدید الزام تراشیوں سے اپنی سیاست چمکا رہی ہیں اور عملی طور پر وفاق و سندھ کی حکومتیں کچھ کر رہی ہیں نہ کراچی کے بلدیاتی اقتدار میں شامل پیپلز پارٹی، جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی کچھ کرنا چاہتی ہیں اور ان کی شہر سے ہمدردی صرف سیاسی الزامات تراشی تک محدود ہو کر رہ گئی ہے اور اتنا جھوٹ بولا جا رہا ہے کہ شہری کچھ سمجھ نہیں پا رہے کہ ہو کچھ نہیں رہا اور برباد و لاوارث کراچی پر صرف اور صرف سیاست ہو رہی ہے۔

 کراچی میں سندھ حکومت کی طرف سے تعمیر کرائی گئی شاہراہ بھٹو اور نیو حب کینال بہہ جانے پر کراچی سے اسمبلیوں میں نمایندگی کرنے والی ایم کیو ایم نے سندھ حکومت پر کرپشن کا الزام لگایا ہے۔ وفاق میں پیپلز پارٹی کی وجہ سے برسر اقتدار مسلم لیگ (ن) جس کے پاس سندھ میں اسمبلی کی کوئی نشست نہیں ہے صرف چند یوسی چیئرمین اور کونسلر ضرور ہیں، نے وزیر اعلیٰ سندھ پر الزام لگایا ہے کہ وہ اپنے گریبان میں جھانکیں کہ سندھ حکومت نے پی پی کے بانی کے نام کا بھی مذاق بنوا دیا ہے۔ مسلم لیگ سندھ کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت کی تعمیر کردہ شاہراہ بھٹو کا بہہ جانا کرپشن کی اعلیٰ مثال ہے۔

کراچی و سندھ کی تباہی و بربادی پیپلز پارٹی کی کارکردگی ہے۔ پی ٹی آئی سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ جن کی پارٹی کے پاس کراچی کے چند ٹاؤنزکا اقتدار ہے، نے کہا ہے کہ بارشوں سے اربن فلڈنگ میں سندھ حکومت مکمل ناکام رہی ہے اور بارشوں کے بعد وزیر اعلیٰ، صوبائی وزرا، میئر کراچی غائب اور انھوں نے کراچی کے عوام کو اس مشکل میں لاوارث چھوڑ دیا ہے۔

جماعت اسلامی جس کی اسمبلیوں میں کوئی نمایندگی نہیں اور اس کے پاس کراچی کے 9 ٹاؤنز کی سربراہی ہے کہ کراچی کے امیر منعم ظفر خان نے الزام لگایا ہے کہ پیپلز پارٹی کے قابض ٹاؤن چیئرمین کے ہاتھوں اورنگی ٹاؤن کی صورتحال بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے۔ انفرا اسٹرکچر تباہ حال جب کہ عوام کو پینے کا پانی میسر نہیں پورے شہر کی سڑکیں چلنے کے قابل نہیں۔ جے یو آئی ضلع وسطی کے امیر مولانا عبدالرشید کا کہنا ہے کہ کراچی کے عوام سندھ حکومت کی ناقص کارکردگی سے نالاں ہیں سندھ میں امن و امان تباہ اور کچے پکے ڈاکوؤں کا راج قائم ہو چکا ہے۔

ایم کیو ایم پاکستان کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کراچی پر بھی توجہ دیں اور شاہراہ بھٹو اور نیو حب کینال کی تعمیر میں بدعنوانیوں کی تحقیقات کرائیں کیونکہ سندھ حکومت کی کرپشن کے باعث بارہ ارب روپے کی لاگت سے بننے والی نیو حب کینال 12 ہفتے بھی قائم نہ رہ سکی ہے۔ روزنامہ ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق کراچی کا نکاسی آب کا نظام تباہ، جگہ جگہ گٹر ابل پڑے، شہر کے ہر علاقے میں گندا پانی جمع، واٹر کارپوریشن صورتحال پر قابو پانے میں مکمل ناکام، کھلے گٹر موت کا کنواں بن گئے اور شہریوں کا گھروں سے نکلنا اور واپس آنا مشکل ترین کام بن گیا ہے۔

ترجمان وزیر اعلیٰ سندھ نے شاہراہ بھٹو کا ایک حصہ بہہ جانے کی تردید کی ہے اور واضح کیا ہے کہ یہ ملیر سیکشن کا کچھ حصہ ہے جو بارش کے پانی میں نیچے چلا گیا ہے کام جاری ہے ابھی ٹریفک کے لیے کھلا ہی نہیں ہے۔ سندھ حکومت نے اپنے جو لاتعداد ترجمان رکھے ہوئے ہیں اور ان کا کام صرف تردیدیں کرنا اور مخالف پارٹیوں پر الزامات لگانا ہے وہ حقائق کے برخلاف بیان دینے میں مصروف ہیں کہ سڑکیں ٹریفک کے لیے بحال ہو چکیں۔ میئر کراچی متاثرہ علاقوں کا دورہ کرکے دعوے کر رہے ہیں کہ بروقت نکاسی آب سے بیشتر سڑکیں کلیئر ہیں مگر ایسا ہے نہیں۔

میئر کراچی کو کراچی کی برساتی تباہی سے زیادہ سیاسی بیانات دینے کا شوق ہے وہ اپنی کارکردگی پر توجہ دینے کے بجائے تنقید کرنے والے کو احمق قرار دیتے ہیں کبھی انھیں برساتی مینڈک بنا دیتے ہیں اور وہ مسلم لیگ (ن) کو یہ ضرور یاد دلاتے رہتے ہیں کہ (ن) لیگ کی وفاقی حکومت پی پی کی حمایت سے بنی تھی اور قائم ہے مطلب کہ (ن) لیگ سندھ و کراچی کے معاملات پر سندھ حکومت اور بلدیہ عظمیٰ کی کارکردگی پر تنقید نہ کیا کرے۔

سندھ اور کراچی کی صورت حال پر ہر چھوٹی بڑی جماعت پی پی اور سندھ حکومت پر کڑی تنقید کرتی آ رہی ہے۔ ہونا یہ چاہیے تھا کہ وزیر اعلیٰ تمام سیاسی پارٹیوں اور میئر کراچی بلدیہ کونسل میں موجود تمام پارٹیوں کے ساتھ کراچی کی تباہ حالی پر اجلاس بلا کر مشاورت کرتے جو دونوں نے نہیں کی جس کی وجہ سے سب ایک دوسرے کو موجودہ صورت حال کا ذمے دار، کرپٹ قرار دے کر کڑی سے کڑی تنقید کر رہے ہیں اور سیاست چمکانے کے لیے ایک دوسرے پر الزام تراشی کر رہے ہیں جس سے کراچی مزید برباد ہو رہا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سندھ حکومت کی پیپلز پارٹی شاہراہ بھٹو میئر کراچی وزیر اعلی ایک دوسرے پر الزام کراچی کے کراچی کی ہیں اور رہی ہے

پڑھیں:

یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام

یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔

یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔

کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔

یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔

کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی