بھارتی فوجیوں کا مودی حکومت کے خلاف سڑکوں پر احتجاج، مراعات کی فراہمی کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 14th, September 2025 GMT
بھارت میں پہلی بار ایک غیرمعمولی صورت حال دیکھنے میں آئی جب ریاست بہار میں بڑی تعداد میں سابق اور حاضر سروس فوجی اہلکاروں نے مودی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق مظاہرین نے وردی میں سڑکوں پر نکل کر اپنی بنیادی ضروریات اور مراعات کے حصول کے لیے آواز بلند کی۔ مظاہرے کے دوران فوجی اہلکاروں نے ہاتھوں میں بھارتی پرچم تھامے حکومت کے خلاف نعرے بازی کی اور اپنے مطالبات کو فوری طور پر تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا۔
احتجاج کرنے والے اہلکاروں کا کہنا تھا کہ وہ طویل عرصے سے بنیادی سہولیات اور مراعات سے محروم چلے آ رہے ہیں، اور اس حوالے سے کئی بار حکومت سے رجوع بھی کیا، لیکن بارہا درخواستوں کے باوجود ان کی شنوائی نہیں ہوئی۔
فوجیوں نے واضح کیا کہ اگر حکومت نے ان کے مسائل کو سنجیدگی سے نہ لیا تو احتجاج کا دائرہ پورے ملک تک پھیلایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے ہمیشہ ملک کی خدمت کو اولین ترجیح دی، لیکن اب جب ہمیں خود مشکلات کا سامنا ہے تو حکومت نے آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔
یہ مظاہرہ نہ صرف مودی حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن کر سامنے آیا ہے، بلکہ یہ اس جانب بھی اشارہ کرتا ہے کہ ملک کے دفاعی اہلکاروں کو درپیش مسائل اب مزید نظرانداز نہیں کیے جا سکتے۔
Post Views: 6.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
کینیڈا کے کثیر القومی کلچر کو بھارتی ڈانس کلچر کی یلغار کا سامنا، سماجی ماہرین نے خبردار کر دیا
کینیڈا کا روایتی، پرامن اور کثیر القومی کلچر اس وقت بھارتی امیگریشن اور ڈانس کلچر کی بے ہنگم یلغار کی زد میں ہے، جس پر سماجی ماہرین نے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کینیڈین شناخت کے مٹنے کا خطرہ ظاہر کر دیا ہے۔
Canada has turned into an Indian colony!!!!
Canadians are now a minority in Toronto and the flood of immigrants is larger than ever before.
We cannot let this happen to us. Wake up!!!! pic.twitter.com/TIxnzuLeS7
— Știrile Rezistenței ???????? ???????? (@RomaniaMare1918) June 2, 2026
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ’رومانیا ماره 1918‘ نامی اکاؤنٹ سمیت متعدد حلقوں کی جانب سے جاری کردہ حقائق کے مطابق کینیڈا غیر ملکی امیگریشن، بالخصوص بے لگام بھارتی آبادی کے بوجھ تلے دب کر تیزی سے مسخ ہو رہا ہے۔ ٹورنٹو جیسے بڑے کینیڈین شہروں میں صورتحال اس حد تک سنگین ہو چکی ہے کہ وہاں کے اصل مقامی کینیڈین شہری اب اپنے ہی وطن میں اقلیت بن کر رہ گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:کینیڈا کے دارالحکومت اوٹاوا میں خالصتان ریفرنڈم کی تیاریاں مکمل
اس بے ہنگم ثقافتی یلغار اور بھارتیوں کی حد سے بڑھتی ہوئی تعداد کو ملک کے لیے ایک بھیانک سماجی و آبادیاتی تبدیلی (ڈیموگرافک شفٹ) کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جس نے کینیڈا کے امن کو تہہ و بالا کر کے رکھ دیا ہے۔
کینیڈا کے لیے صرف بھارتی ثقافتی یلغار ہی دردِ سر نہیں، بلکہ کینیڈا میں مقیم بھارتی شہریوں اور سٹوڈنٹس کی بڑھتی ہوئی تعداد کے ساتھ ہی ملک میں سنگین اسٹریٹ کرائمز، فراڈ، گینگ وار اور بدمعاشی کلچر میں ہولناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ سیکیورٹی ماہرین کے مطابق کینیڈا کا پرامن معاشرہ اب بھارتی گینگز کی مجرمانہ سرگرمیوں کی وجہ سے عدم تحفظ کا شکار ہو چکا ہے۔
کینیڈا میں بسنے والے مظلوم سکھوں (خالصتان تحریک کے حامیوں) کے خلاف مودی سرکار کی ماورائے عدالت کارروائیوں اور ریاستی دہشت گردی نے کینیڈا کی خودمختاری پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ مودی حکومت کی شہ پر کینیڈین دھرتی پر سکھ رہنماؤں کو نشانہ بنانے اور ان کے خلاف بھارتی ایجنسیوں کے خفیہ نیٹ ورک اور ہتھکنڈوں نے کینیڈا کے سیکیورٹی اداروں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
کینیڈا کی سرزمین پر بھارتی مداخلت اور سکھوں کے خلاف ان سفاکانہ کارروائیوں کے باعث ماضی میں کینیڈا اور بھارت کے سفارتی تعلقات شدید ترین پستی کا شکار ہوئے، سفارت کاروں کو ملک بدر کیا گیا اور دونوں ممالک کے مابین تعلقات میں ایسی تلخی اور دوری پیدا ہوئی جو آج تک برقرار ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کینیڈین حکومت نے بھارتی یلغار، جرائم اور نئی دہلی کی ریاستی غنڈہ گردی کے خلاف اب بھی سخت ایکشن نہ لیا تو کینیڈا کی قومی شناخت اور امن ہمیشہ کے لیے دفن ہو جائیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت بھارتی کلچر ٹورنٹو کینیڈا