وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے وفاقی حکومت جلد اقوام متحدہ سے امداد کی اپیل کرے۔

وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اتوار کو گڈو بیروج کا دورہ کیا ، انہوں نے دریائے سندھ میں سیلابی صورتحال کا جائزہ لیا۔

صوبائی وزیر آبپاشی جام خان شورو، رکن قومی اسمبلی میر شبیر علی بجارانی ، سردار علی جان مزاری ، رکن سندھ اسمبلی عبدالرئوف کھوسو اور دیگر اہم شخصیات ان کے ہمراہ تھیں۔

وزیر اعلیٰ سندھ بعد ازاں سکھر بیراج کا بھی دورہ کیا اور وہاں پر پانی کی صورتحال کا جائزہ لیا۔

وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ سیلابی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے دریائے سندھ کے حفاظتی بندوں کے دورے پر روہڑی کے قریب ہی پوائنٹ علی واہن بھی گئے۔

وزیراعلی کے ہمراہ صوبائی وزراء مخدوم محبوب الزماں، جام خان شورو ، جام اکرام اللہ دھاریجو، ایم این اے۔ ایم پی ایز جام مہتاب ڈہر اور سید فرخ شاہ موجود تھے۔

پی پوائنٹ بند پر چیئرمین ضلع کونسل سکھر سید کمیل حیدر شاہ کمشنر سکھر ڈویژن عابد سلیم قریشی، ڈی آئی جی سکھر فیصل عبداللہ چاچڑ، ڈپٹی کمشنر سکھر نادر شہزاد خان بھی موجود تھے، وزیراعلی سندھ  نے سیلاب متاثرین کیلئے قائم ریلیف کیمپ میں سہولیات کا جائزہ لیا۔

مراد علی شاہ نے گڈو بیراج کے دورہ کے دوران سیلابی صورتحال کا جائزہ لیا، انہیں وزیر آبپاشی جام خان شورو اور سیکریٹری آبپاشی ظریف کھیڑو نے بریفنگ دی۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ گڈو بیراج پر اس وقت 627908 کیوسکس پانی یعنی اونچے درجے کا سیلاب گزر رہا ہے،  ضلع کشمور اور شکارپور میں سیلابی پانی کے محفوظ اخراج کے لیے اقدامات کئے ہیں۔ 

وزیراعلیٰ سندھ نے ہدایات دی کہ کمزور اور حساس مقامات پر نگرانی مزید سخت کی جائے، مراد علی شاہ نے فلڈ فائٹنگ کے عملے کو 24 گھنٹے موجود رہنے کی ہدایت کی۔

انہوں نے ضلعی انتظامیہ کو عوامی تعاون کے ساتھ ریلیف اقدامات تیز کرنے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری طور پر صوبائی کنٹرول روم کو رپورٹ کرنے کی ہدایت کی۔

انہوں نے کہا کہ عوام کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔

https://x.

com/sindhinfodepart/status/1967144826249638309

مراد علی شاہ کا کہنا تھا بلاول بھٹو زرداری نے گڈو اور سکھر بیراج کا جائزہ لیا تھا، چیئرمین پیپلز  پارٹی بلاول  نے وفاق سےکہا تھا کہ زرعی ایمرجنسی لگائیں، وزیراعظم کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے وفاقی کابینہ  کےاجلاس کے بعد زرعی اور موسمیاتی ایمرجنسی نافذ کی۔

انہوں نے کہا کہ جلد سےجلد بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے متاثرین کی مدد کی جائے، موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے ہر چند سالوں کے بعد ہمیں سیلاب کا سامنا کرنا پڑتا ہے، وزیراعظم سے کہتاہوں اقوام متحدہ کو ریلیف کے لیے فوری اپیل کی جائے۔

مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ گڈو بیراج پر پانی کی آمد 6 لاکھ کیوسک سے زائد ہے، اندازہ ہے کہ ساڑھے 6 سے 7 لاکھ کیوسک کا ریلا سکھر بیراج سےگزر سکتا ہے، گڈو سے سکھر تک موجود بند کی مضبوطی کے لیے کام کیا ہے، ہماری پہلی ترجیح لوگوں کی جان بچانا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ چیئرمین بلاول نے کہا تھا کہ متاثرین کو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے امداد دیں لیکن وہ اب تک نہیں دی گئی، چیئرمین بلاول بھٹو نے یہ بھی کہا تھا کہ عالمی امداد کی فوری اپیل کریں، وہ اب تک نہیں کی گئی، وفاقی حکومت جلد اقوام متحدہ سے امداد کی اپیل کرے۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا  کہ گڈو بیراج پر اس وقت پانی کی سطح ساڑھے پانچ لاکھ کیوسک تک ہے جبکہ بیراج ساڑھے چھ لاکھ کیوسک تک پانی گزرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تمام حفاظتی بندوں کی صورتحال تسلی بخش ہے۔

وزیراعلیٰ نے بتایا کہ حساس مقامات پر مشینری تعینات ہے جبکہ پاک فوج، پاک بحریہ، پی ڈی ایم اے اور ریسکیو 1122 سیلاب متاثرین کی امداد میں صوبائی حکومت کے ساتھ بھرپور تعاون کر رہے ہیں۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ امید ہے سیلابی ریلا باآسانی سکھر بیراج سے گزر جائے گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ وزراء اور انتظامیہ پورے سندھ میں کشمور سے کیٹی بندر تک متاثرہ علاقوں میں موجود اور سرگرم عمل ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ حکومت سندھ کی پہلی ترجیح عوام کی جان و مال کا تحفظ ہے۔

https://www.youtube.com/watch?v=P1ezKSQqkyI

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سندھ سید مراد علی شاہ صورتحال کا جائزہ مراد علی شاہ نے سیلاب متاثرین کا جائزہ لیا اقوام متحدہ سکھر بیراج لاکھ کیوسک متاثرین کی گڈو بیراج وزیر اعلی نے کہا کہ امداد کی انہوں نے تھا کہ کے لیے

پڑھیں:

طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم

ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اپوزیشن لیڈر و ممبر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں طوفانی سیلاب اور دریائی کٹاو سے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت کو فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے ریلیف اور بحالی کے لیے کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سکردو میں دریائی کٹاو کے سبب سترانگلونگما کواردو اور حوطو رنگاہ کے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں۔ زرعی اراضی اور درخت دریا برد ہو رہے ہیں لیکن تاحال کوئی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور جی بی ڈی ایم اے کو کواردو حوطو رنگاہ اور رزسنا رنگاہ  کے دریائی کٹاو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانا چاہیے۔ گزشتہ مہینے آنے والے شگریخورد میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے بھی تاحال اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ جس کے سبب عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کاظم میثم نے مزید کہا کہ طوفانی سیلاب کے سبب تقریبا تمام اضلاع میں تباہ کاریاں ہوئی ہیں اور شاہراہوں کی بندش کے سبب بھی مشکلات کے شکار ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔

متعلقہ مضامین

  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • قادر آباد بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب، چناب میں پانی کا بہاؤ بڑھ گیا
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم