گڈو بیراج پر اونچے اور سکھر بیراج پر درمیانے درجے کا سیلاب جاری ہے، شرجیل میمن
اشاعت کی تاریخ: 14th, September 2025 GMT
کراچی:
سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ گڈو بیراج پر اونچے اور سکھر بیراج پر درمیانے درجے کا سیلاب جاری ہے۔
صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی حکومت تمام بیراجوں کی صورتحال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے اور عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لئے ریسکیو، ریلیف اور بحالی کی سرگرمیوں میں مکمل طور پر مصروف ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پنجند میں اونچے درجے کا سیلاب ہے جہاں اپ اسٹریم اور ڈاؤن اسٹریم کا بہاؤ 402,919 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔ گڈو بیراج پر اپ اسٹریم کا بہاؤ 612,269 کیوسک اور ڈاؤن اسٹریم کا بہاؤ 582,942 کیوسک ریکارڈ ہوا ہے۔
شرجیل میمن نے کہا کہ سکھر بیراج پر اپ اسٹریم 488,820 کیوسک اور ڈاؤن اسٹریم 438,390 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے، کوٹری بیراج پر اپ اسٹریم کا بہاؤ 274,129 کیوسک اور ڈاؤن اسٹریم 261,399 کیوسک ہے۔
انکا کہنا تھا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں 5269 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے، اب تک منتقل ہونے والے افراد کی مجموعی تعداد 163,364 ہوگئی ہے، کچہ کے علاقوں سے 252 افراد ریلیف کیمپس میں منتقل ہوئے، ریلیف کیمپس میں موجود افراد کی مجموعی تعداد 469 ہے۔
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ حکومت سندھ کی جانب سے 177 فکسڈ اور موبائل ہیلتھ سائٹس قائم کی گئی ہیں جہاں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 6,596 مریضوں کا علاج کیا گیا، اب تک مجموعی طور پر 84,118 مریضوں کو طبی سہولیات فراہم کی جا چکی ہیں۔
صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں 11,569 مویشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا، جس کے بعد اب تک منتقل ہونے والے مویشیوں کی تعداد 438,835 تک پہنچ گئی ہے، 51,308 مویشیوں کو گزشتہ 24 گھنٹوں میں ویکسین اور علاج فراہم کیا گیا، جس کی مجموعی تعداد 1,232,223 ہوگئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: گزشتہ 24 گھنٹوں میں اور ڈاؤن اسٹریم اسٹریم کا بہاؤ اپ اسٹریم کیا گیا کہا کہ
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک