دہشت گردی کا خاتمہ کیسے ممکن؟
اشاعت کی تاریخ: 15th, September 2025 GMT
خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی فورسز نے تین انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران کے پراکسی نیٹ ورک فتنہ الخوارج کے 45 دہشت گرد واصل جہنم کر دیے جب کہ فائرنگ کے تبادلے میں 19جوان شہید ہوئے۔ اس موقعے پر وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی کا بھرپور جواب دیا جائے گا، افغانستان کو واضح پیغام دے دیا گیا ہے کہ وہ فتنہ خوارج اور پاکستان میں ایک کا انتخاب کرے۔
پاکستان اور افغانستان کے تعلقات ہمیشہ سے پیچیدہ اور نشیب و فراز کا شکار رہے ہیں، مگر حالیہ برسوں میں خاص طور پر جس طرح افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے، وہ نہ صرف دو طرفہ تعلقات کے لیے تشویشناک ہے بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔
پاکستان ایک بار پھر اس موقف کو دہرا رہا ہے کہ افغان عبوری حکومت اپنی ذمے داریوں سے صرفِ نظر نہ کرے اور یقینی بنائے کہ اس کی سرزمین کسی بھی طور پر پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہو۔ اس تناظر میں چند حالیہ واقعات، اطلاعات اور حقائق نے اس موقف کو نہایت تقویت دی ہے کہ پاکستان میں ہونے والی بعض بڑی اور خونی دہشت گرد کارروائیوں میں افغان سرزمین اور افغان شہریوں کا براہِ راست یا بالواسطہ کردار رہا ہے۔
پاکستان میںگزشتہ تین دہائیوں سے جاری دہشت گردی کے لیے افغانستان کی سرزمین استعمال ہورہی ہے۔ ظاہر شاہی دور ہو یا سردار داؤد کی آمریت افغانستان کی پالیسی پاکستان کے مفادات کے خلاف رہی ہے۔ سردار داؤد کے قتل کے بعد جو لوگ افغانستان کے اقتدار پر قابض ہوئے،وہ بھی پاکستان کو اپنا مخالف سمجھتے رہے، حامد کرزئی، اشرف غنی ، عبداﷲ عبداﷲ اور اب طالبان کی عبوری حکومت سب نے پاکستان کے مفادات کے برعکس پالیسی اختیار کی۔
افغانستان کی تمام حکومتوں نے بھارت کے ساتھ خصوصی تعلقات استوار رکھے، بھارت کو افغانستان میں سرمایہ کاری کے لیے خصوصی سہولتیں فراہم کیے رکھیں، پاکستان کو غیرمستحکم کرنے کی کوششوں میں افغانستان کی ہر حکومت نے بھارت کو سہولت فراہم کی۔ پاکستان میں دہشت گردی کرانے کے لیے افغانستان کی ہر حکومت نے بھارت کو ہر وہ سہولت فراہم کی جو بھارت کے پالیسی ساز چاہتے تھے اور اب بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔
کابل انتظامیہ افغان سرزمین سے بھارتی تربیت یافتہ دہشت گرد پاکستان میں داخل کرنے کے لیے بھارت کی بدستور معاونت کر رہی ہے،حالیہ پاک بھارت جنگ میں ہزیمت اٹھانے کے بعد ہی ان خدشات کا اظہار کیا جارہا تھا کہ بھارت افغانستان کو استعمال کرے گا، اس کے علاوہ پاکستان میں موجود اپنی پراکسیز کو متحرک کرکے دہشت گردی کا سلسلہ تیز کرے گا۔ دس مئی کے بعد سے اب تک پاکستان کے دو صوبوں بلوچستان اور خیبر پی کے میں دہشت گردی کی بیسیوں وارداتیں ہوچکی ہیں، ان سب میں افغانستان کے لوگ اور اس کی سرزمین استعمال ہوئی ہے ۔
افغانستان میں موجود دہشت گرد تنظیمیں، بالخصوص کالعدم ٹی ٹی پی، داعش، خراسان، بی ایل اے اور دیگر دہشت گرد گروہ، افغانستان کو ایک محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ ان تنظیموں کے جنگجو افغانستان میں کھلے عام نقل و حرکت کرتے ، تربیت حاصل کرتے ، منظم ہوتے ہیں اور پھر پاکستان کے خلاف کارروائیاں کرتے ہیں۔ یہ ایک ایسا خطرہ ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ سفارتی بیانات اور زبانی جمع خرچ سے بھی اسے حل کیا جا سکتا ہے۔
اگست 2021میں طالبان نے افغانستان میں دوبارہ اقتدار سنبھالا، تو پاکستان میں مخصوص مائنڈ سیٹ کے حامل طاقتور طبقات نے ذرایع ابلاغ کے ذریعے یہ تاثر پیدا کیا کہ اب افغانستان میں امن و استحکام آئے گا اور پاکستان میں دہشت گردی ختم ہوجائے گی کیونکہ طالبان حکومت بھارتی قونصلیٹ کی تعداد کم کردے گی، بھارتی ایجنٹوں کو افغانستان سے نکال دیا جائے اور ٹی ٹی پی کے بھگوڑوں کو گرفتار کرکے پاکستان کے حوالے کردیا جائے گا۔ پاکستان نے عبوری افغان حکومت کے ساتھ مثبت روابط قائم رکھنے کی بھرپور کوشش کی، بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ افغانستان کو تنہا نہ چھوڑا جائے، انسانی امداد فراہم کی، اور سفارتی محاذ پر افغان عوام کے لیے آواز بلند کی۔ مگر ان تمام کوششوں کے باوجود، زمینی حقائق اس امید کے برعکس نکلے۔
افغانستان میں تربیتی کیمپ رکھنے والی کالعدم ٹی ٹی پی پاکستان میں دہشت گردی کی وارداتوں میں ملوث ہے۔ یہ دہشت گرد نیٹ ورک دیگر ناموں کے ذریعے بھی پاکستان میں دہشت گردی کی وارداتیں کرتا ہے تاکہ پاکستان کے عوام اور دنیا کو دھوکا دیا جائے اور یہ موقف اختیار کیا جائے کہ وہ فلاں دہشت گردی میں ملوث نہیں ہے ۔ لہٰذا یہ دہشت گرد گروہ انتہائی مکار، چالباز، سازشی ، دغا باز اور مجرمانہ ذہنیت رکھتا ہے ، جن کے لیے اخلاقیات کوئی معنی نہیں رکھتی ۔ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے یہ بدفطرت گروہ مذہب کو بطور ڈھال استعمال کررہا ہے ۔
جرائم پیشہ گروہوں، اسمگلروں کے ساتھ بھی اس گروہ کے روابط موجود ہیں اور بلوچستان کے دہشت گرد گروہوں اور ٹی ٹی پی کے مابین بھی مفادات کا لین دین جاری ہے۔ بھارت کے ساتھ ان گروہوں کے خصوصی تعلقات ہیں جب کہ افغانستان ان کے لیے محفوظ پناہ گاہ ہے۔ دہشت گردگروہ افغانستان میں منظم انداز میں موجود ہیں، اپنے ٹھکانے چلا رہے ہیں، وڈیوز جاری کر رہے ، بیانات دے رہے ہیں اور پھر پاکستان کے اندر حملوں کی ذمے داری قبول کی جاتی ہے۔ افغان عبوری حکومت ان دہشت گرد عناصر کے خلاف کوئی ٹھوس کارروائی کرتی نظر نہیں آتی۔
ان عناصر کو نہ تو گرفتار کیا گیا ہے، نہ ان کے خلاف کسی قسم کی مؤثر کارروائی کی گئی ہے، اور نہ ہی ان کی سرگرمیوں پر کوئی قدغن لگائی گئی ہے۔ دو تین برسوں میں خیبر پختونخوا، بلوچستان اور دیگر علاقوں میں جو دہشت گرد حملے ہوئے، ان کی تحقیقات سے یہ انکشاف ہوا کہ ان میں ملوث عناصر کی تربیت، منصوبہ بندی اور معاونت افغانستان سے کی گئی۔ کچھ حملہ آور پاکستان میں پناہ گزین افغان باشندے نکلے ہیں، بعض کے پاس افغان شناختی دستاویزات بھی تھیں، اور کئی حملہ آوروں کے موبائل فون اور دیگر شواہد سے یہ بات سامنے آئی کہ وہ افغانستان سے رابطے میں تھے۔ یہ تمام شواہد محض الزامات نہیں بلکہ ناقابل تردید حقائق ہیں، جو زمینی حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں۔
پاکستان کا مطالبہ نہ تو غیر منطقی ہے اور نہ ہی غیر قانونی۔ بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق، کوئی بھی ملک اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے سکتا۔ یہ ایک بنیادی اصول ہے جس کی پاسداری ہر ریاست پر لازم ہے۔ افغان عبوری حکومت، جو خود بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر بر سراقتدار آئی، آج ان ہی دہشت گرد عناصر کی سرپرستی یا کم از کم چشم پوشی کر رہی ہے، جنھوں نے نہ صرف پاکستان بلکہ خود افغانستان کے عوام کو بھی تباہی کی بھٹی میں جھونک رکھا ہے۔
اگر طالبان حکومت واقعی افغانستان میں دیرپا امن چاہتی ہے اور بین الاقوامی برادری سے تسلیم کیے جانے کی خواہش رکھتی ہے تو اسے دہشت گردوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کرنا ہوگی۔ دہشت گردی کے معاملے پر کوئی ’’ اچھے‘‘ یا ’’ برے‘‘ دہشت گرد نہیں ہوتے۔ جو شخص بے گناہوں کی جان لیتا ہے، ریاستی اداروں پر حملہ کرتا ہے اور غیر مسلح شہریوں پر گولیاں چلاتا ہے، وہ دہشت گرد ہے اور اسے ویسا ہی سمجھا جانا چاہیے۔
پاکستان نے ایک جانب اپنی داخلی سیکیورٹی کو بہتر بنانے کے لیے دہشت گردوں کے خلاف مؤثر آپریشنز کا آغاز کیا ہے، تو دوسری جانب عالمی سطح پر بھی ان خدشات کو اجاگر کیا ہے۔ پاکستان نے اقوام متحدہ، او آئی سی، شنگھائی تعاون تنظیم، اور دیگر پلیٹ فارمز پر اس معاملے کو اٹھایا ہے ۔ پاکستان دنیا کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہوا ہے کہ دہشت گردی اب صرف ایک ملک کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک عالمی چیلنج ہے، جس سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر مشترکہ کاوشیں ضروری ہیں۔یہ بات بھی نہایت اہم ہے کہ افغان حکومت، اگر اس کی نیت نیک ہے، تو اپنے ان دعوؤں کو عملی اقدامات میں تبدیل کرے جن میں وہ دہشت گردی کے خلاف کھڑے ہونے کا وعدہ کرتی ہے۔ صرف بیانات سے یا پاکستان کے خدشات کو ’’غلط فہمی‘‘ قرار دینے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔
وقت آ گیا ہے کہ افغان قیادت اپنی زمین پر موجود دہشت گرد عناصر کے خلاف فیصلہ کن قدم اٹھائے، ان کے خفیہ ٹھکانوں کو ختم کرے، ان کے مالی ذرایع بند کرے، اور ان کے ریاست دشمن عزائم کو ناکام بنائے۔ پاکستان کی جانب سے کی گئی تمام تر مخلصانہ کوششوں کو نظر انداز کرنا، یا انھیں کمزوری سمجھنا غلطی ہوگی۔
پاکستان کی خواہش ہے کہ دونوں ممالک مل کر امن، ترقی اور بھائی چارے کے راستے پر آگے بڑھیں، مگر یہ صرف اسی وقت ممکن ہے جب افغانستان اپنی زمین سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کرے۔دنیا کو بھی چاہیے کہ افغانستان پر دباؤ بڑھائے، تاکہ وہ دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ نہ بنے۔ اگر افغانستان دہشت گردوں کی پشت پناہی جاری رکھتا ہے اور کسی بھی طور پاکستان میں امن کو نقصان پہنچانے والی قوتوں کا ساتھ نہیں چھوڑتا تو پھر دیکھنا یہ ہے کہ ہمارے پالیسی سازوں کے پاس اس مسئلے کا کیا حل ہے؟
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پاکستان میں دہشت گردی افغانستان میں افغانستان کو افغانستان کے افغانستان کی دہشت گردی کے دہشت گردی کا عبوری حکومت پاکستان کے ان کے خلاف دیا جائے کہ افغان اور دیگر فراہم کی کے لیے ا ٹی ٹی پی کے ساتھ ہے اور رہی ہے
پڑھیں:
پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملکی خودمختاری کے تحفظ اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لئے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے روبوٹکس اور اٹانومس سسٹمز کی ترقی کے لئے سپارک اینڈ ایلیویٹ پروگرام کے آغاز اور 20 ملین ڈالر کا پاکستان وینچر فنڈ قائم کرنے کا اعلان کیا اور کہا ہے کہ پاکستان نے دفاع اور سیکیورٹی کے شعبے میں ملکی صلاحیتیں بڑھانے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور سلامتی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے۔
اسلام آباد میں انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو 2026 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو سے ٹیکنالوجی کے شعبے میں صف اول کا کردار ادا کرنے کے حوالے سے پاکستان کے عزم کی عکاسی ہوتی ہے، یہ نمائش اور اس طرح کے اقدامات پاکستان کو 21ویں صدی کی جدید ٹیکنالوجی میں صف اول کا ملک بنائیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ رواں سال کے اوائل میں پاکستان نے انڈس اے آئی سمٹ کی بھی میزبانی کی، جس سے مصنوعی ذہانت کے دور میں پاکستان کے سفر کو آگے بڑھانے کے لیےحکومتی نمائندوں، ٹیکنالوجی لیڈرز اور محققین کاروباری افراد کو مل بیٹھنے کا موقع ملا۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
ان کا کہنا تھا کہ آج انڈس راس ایکسپو سے اس وژن کو عملی شکل دینے کا موقع حاصل ہوا ہے کہ کس طرح جدت کو فعال سلوشنز میں تبدیل کریں، روبوٹکس اور ڈرونز کی جدت سے معیشت مضبوط سلامتی بہتر اور عوام کی زندگی آسان ہوگی، اس جہت نے اکیڈیمیا، انڈسٹری، اسٹارٹ اپس اور پالیسی سازوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ میرے بچپن میں ٹیکنالوجی کی جدت بلیک اینڈ وائٹ ٹیلی ویژن کی آمد تھی اور خاندان کے تمام افراد’’اچے برج لاہور دے‘‘ جیسی پاکستان ٹیلی ویژن کی کلاسک نشریات کو مل کر دیکھتے تھے لیکن آج دنیا ٹیکنالوجی کے میدان میں بہت آگے بڑھ گئی ہے اور ہم تاریخ کے ایک غیر معمولی دور میں ہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
ان کا کہنا تھا کہ زرعی پیداوار کے لیے پانی اور دیگر بنیادی عوامل کی ضرورت، موسمیاتی تبدیلی اور دیگر چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال انتہائی اہمیت کا حامل ہے، آج ٹیکنالوجی کی جدید شکل ہمارے سامنے موجود ہے، آج مشینیں محسوس کر کے تیزی سے فیصلے اور ان پر عمل درآمد کرتی ہیں جو کبھی خواب لگتا تھا آج حقیقت بن کر ہمارے سامنے موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ فخریہ طور پر کہتا ہوں کہ پاکستان نے دفاع اور سیکیورٹی کے شعبے میں ملکی صلاحیتیں بڑھانے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، سلامتی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں مسلح افواج نے جدید ٹیکنالوجی اپنائی، سیمولیٹرز 100 فیصد پاکستان میں تیار ہو رہے ہیں، ڈرونز کی 60 فیصد سے زائد مقامی تیاری حاصل کر لی گئی ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
وزیراعظم نے کہا کہ معرکہ حق میں مسلح افواج نے جدید آٹونومس سسٹمز اور سائبر سیکیورٹی کے ذریعے سرحدوں کا دفاع کیا، معرکہ حق میں فیلڈ مارشل کی سربراہی میں ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر اور نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف کی معاونت شان دار رہی اور ہماری مسلح افواج نے ملکی خود مختاری کے تحفظ کے لیے آہنی عزم کے مظاہرے کے ساتھ ساتھ ملکی صلاحیتوں، ٹیکنالوجی کی ترقی اور اور آپریشنل مہارت کا بھی بھرپور ثبوت دیا۔ان کا کہنا تھا کہ دفاعی شعبے میں شان دار کامیابیاں مادر وطن کے قومی دفاع کا لازمی جزو ہیں، اس سے ہمارے سیکیورٹی کا نظام مضبوط ہوگا، دفاع مزید ناقابل تسخیر ہو جائے گا اور اس سے ابھرتے اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کے لیے صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔
چیئرمین یورپی یونین پاک فرینڈشپ فیڈریشن یورپ کی ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے چیئرمین سے ملاقات
انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری کے تحفظ اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی استعمال کرے گا، دفاع میں آٹونومس صلاحیتوں کی ترقی میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کا انقلاب چند جدید معیشتوں، بڑی کارپوریشنز اور بڑے شہروں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ سب کے لیے مساوی ترقی ہونی چاہیے، کسانوں کی حالت بہتر ہو، چھوٹے کاروبار فروغ پائیں،کاروبار کرنے والی خواتین کو سہولیات ملیں اور کمزور طبقات کو فائدہ پہنچے، محفوظ اور شفاف آٹونومس سسٹمز کے لیے واضح قانون سازی اور اخلاقی فریم ورک بنانا چاہیے۔
پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے سیزن کا شیڈول جاری کر دیا
مزید :