فتنۃ الخوارج کی بڑھتی پریشانی اور خارجی سرغنہ کے ہولناک انکشافات منظرِ عام پر
اشاعت کی تاریخ: 14th, September 2025 GMT
فتنۃ الخوارج کی بڑھتی پریشانی اور خارجی سرغنہ کے ہولناک انکشافات منظرِ عام پر WhatsAppFacebookTwitter 0 14 September, 2025 سب نیوز
فتنۃ الخوارج کی بڑھتی پریشانی اور خارجی سرغنہ کے ہولناک انکشافات منظرِعام پر آگئے۔
سکیورٹی ذرائع نے کہا کہ فتنۃ الخوارج کے درمیان پے در پے ناکامیوں کے بعد اندرونی اختلافات شدت اختیار کر گئے، مصدقہ ذرائع کے مطابق پچھلے تین ماہ میں فتنہ الخوارج کی بڑی تشکیلیں بارڈر کراسنگ کے دوران ہی ماری گئی، ان بڑی تشکیلوں کے مارے جانے سے خارجی سرغنہ سخت تذبذب اور اندرونی ناچاکی کا شکار ہیں۔
سیکورٹی ذرائع کے مطابق خارجی نور ولی بارہا اپنے پیادہ خارجیوں کو ان ہونے والے بھاری نقصانات کی وجہ سے موبائل فون وغیرہ کے استعمال سے دور رہنے کی سخت ہدایات بھی دے چکا ہے، خارجی سرغنہ اپنے دہشت گردوں کو مساجد، عوامی حجرات اور غیر قانونی افغان جو عام آبادی میں رہتے ہیں، کے گھروں کو دہشت گرد مواد بنانے اور چھپنے کے لئے استعمال کرنے کے احکامات دے چکے ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا تھا کہ اس کا مقصد عام لوگوں میں گھل مل کر رہنے اور سیکیورٹی فورسز کے دہشت گردوں کے خلاف ان جگہوں پر ایکشن کی صورت میں، عوام کو ڈھال کے طور پر استعمال کرنا ہے، مساجد اور حجرات کے استعمال سے دہشت گرد کسی بھی ممکنہ نقصان کی صورت میں آسانی سے عوام کو نشانہ بنانے کا جھوٹا بیانیہ بنا لیتے ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پچھلے دنوں خارجی عبدل صمد کے ہوش رُبا انکشافات بھی یہ بات واضح کرتے ہیں کے مساجد اور حجرات کو آئی ای ڈی بنانے اور خارجیوں کے چھپنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے، سوشل میڈیا پر عام لوگوں خاص طور پر چھوٹے بچوں کی جھوٹی، اے آئی جنریٹڈ اور پرانی ویڈیوز اور تصاویر چلا کر لوگوں کو گمراہ کرنے کا خارجیوں کا پرانا ہتھکنڈہ بھی خارجی سرغنہ کی نئی ہدایات میں شامل ہے۔
سیکیورٹی ذرائع نے کہا کہ خارجی سرغنہ نے پاکستان میں موجود غیر قانونی افغان شہریوں کو حملوں میں زیادہ تعداد میں شامل کرنے کی بھی واضح ہدایات دے دی ہیں۔
مصدقہ ذرائع کے مطابق حالیہ دیر اور جنوبی وزیرستان کے دہشت گردانہ حملوں میں زیادہ تعداد افغانستان سے آئے دہشت گردوں کی تھی، سیکیورٹی فورسز خارجیوں اور انکے سہولتکاروں کے پاکستان سے صفایا کے لئے پوری طرح تیار اور پر عزم ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرایشیا کپ: پاک-بھارت ٹاکرا آج ہوگا، دبئی پولیس کا نسل پرستانہ فقروں پر سزاؤں کا انتباہ ایشیا کپ: پاک-بھارت ٹاکرا آج ہوگا، دبئی پولیس کا نسل پرستانہ فقروں پر سزاؤں کا انتباہ پاک بھارت ٹاکرا آج، جیت کس کا مقدر بنے گی، فیصلہ ٹاس پر منحصر؟ دوحہ پر اسرائیل حملہ امن معاہدہ خطرے میں ڈال سکتا ہے، یورپی ممالک کا انتباہ وفاقی حکومت کا مستقل اور کنٹریکٹ ملازمین کے بچوں کو وظائف دینے کا اعلان گڈو بیراج اور سکھر بیراج کے مقام پر پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ، سینکڑوں بستیاں زیرِ آب صدر ٹرمپ قطر پر اسرائیلی حملے سے ناخوش ہیں، نیتن یاہو سے اس معاملے پر بات ہوگی، مارکو روبیوCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: فتنۃ الخوارج الخوارج کی اور خارجی
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔