ڈاکٹر عدنان حیدر کی بوسٹن یونیورسٹی میں بطور ڈین تقرری، عالمی سطح پر خدمات کا اعتراف
اشاعت کی تاریخ: 23rd, July 2025 GMT
اسلام آباد / بوسٹن(نیوز ڈیسک) معروف ماہر صحت عامہ ڈاکٹر عدنان حیدر کو بوسٹن یونیورسٹی اسکول آف پبلک ہیلتھ کا نیا ڈین مقرر کر دیا گیا ہے۔ یہ تقرری امریکہ بھر میں کی گئی ایک قومی تلاش کے بعد عمل میں آئی ہے۔ بوسٹن یونیورسٹی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ڈاکٹر عدنان حیدر 15 اگست 2025 سے اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔
ڈاکٹر عدنان حیدر اس وقت جارج واشنگٹن یونیورسٹی کے ملکن انسٹیٹیوٹ اسکول آف پبلک ہیلتھ میں گلوبل ہیلتھ کے پروفیسر اور ریسرچ و انوویشن کے سینئر ایسوسی ایٹ ڈین کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ وہ 2018 سے جی ڈبلیو یو سے وابستہ ہیں، اور انہوں نے اپنے دور میں ریسرچ کا سازگار ماحول پیدا کرنے، تحقیقی ڈھانچے کو مؤثر بنانے، اور اسکالرز کے لیے مواقع میں وسعت لانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
ان کے دور میں جی ڈبلیو یو میں کئی نئے اقدامات کیے گئے، جن میں ریسرچ سپورٹ ٹیم فار پبلک ہیلتھ اینڈ لا کا قیام، آفس آف ریسرچ ایکسی لینس کی تنظیم نو، پی ایچ ڈی اور ایم ایس اسٹڈیز کے لیے الگ دفاتر کا قیام، اور آن لائن سمر انسٹی ٹیوٹس کا آغاز شامل ہے۔ ڈاکٹر حیدر نے NIH-Fogarty کے گلوبل ہیلتھ ٹریننگ پروگرامز کی کامیاب فنڈنگ حاصل کی، جو اس ادارے کے لیے ایک نئی پیش رفت تھی۔ ان کی قیادت میں انسٹی ٹیوٹ نے بایوایتھکس جیسے حساس اور اہم شعبوں میں بھی نمایاں کام کیا۔
ملکن انسٹی ٹیوٹ اسکول آف پبلک ہیلتھ کی ڈین ڈاکٹر لن آر گولڈمین نے اس تقرری پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر عدنان حیدر گزشتہ چھ سالوں سے ایک قیمتی اثاثہ رہے ہیں، اور اُن کی رہنمائی، تحقیق اور مشاورت نے طلبہ، فیکلٹی اور ریسرچ کمیونٹی پر مثبت اثر ڈالا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بوسٹن یونیورسٹی نے ایک باصلاحیت اور موثر رہنما کو منتخب کیا ہے اور ہم انہیں نیک تمناؤں کے ساتھ رخصت کر رہے ہیں۔
ڈاکٹر عدنان حیدر گزشتہ پچیس برسوں سے دنیا کے کم اور درمیانی آمدنی والے خطوں — جیسے افریقہ، ایشیا، لاطینی امریکہ اور مشرق وسطیٰ — میں صحت عامہ کی بہتری کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ انہوں نے نان کمیونیکیبل بیماریوں اور چوٹوں کے عالمی بوجھ کو اجاگر کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ان کی تحقیق میں بیماریوں کے معاشرتی و اقتصادی اثرات، خطرناک عوامل، ممکنہ مداخلتیں، صحت سے متعلق پالیسی سازی، اور بایوایتھکس کے اصولوں کا عملی اطلاق شامل رہا ہے۔ ان کا کام دنیا بھر میں ہزاروں صحت کے پیشہ ور افراد کی تربیت اور رہنمائی کا باعث بھی بنا ہے۔ انہوں نے 400 سے زائد تحقیقی مقالات اور عالمی رپورٹس تحریر کیں، جن میں بچوں کی چوٹوں، سڑک حادثات اور صحت کے نظام سے متعلق تحقیق شامل ہے۔
ڈاکٹر عدنان حیدر 15 اگست 2025 سے بوسٹن یونیورسٹی میں اپنی نئی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔ ادھر جارج واشنگٹن یونیورسٹی نے اعلان کیا ہے کہ وہ جلد ہی ایک عبوری ڈین آف ریسرچ مقرر کرے گی اور مستقل سینئر ایسوسی ایٹ ڈین کے لیے باقاعدہ تلاش کا عمل شروع کرے گی۔
Post Views: 6.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ڈاکٹر عدنان حیدر بوسٹن یونیورسٹی پبلک ہیلتھ انہوں نے کے لیے
پڑھیں:
دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی
اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے اور عالمی موسمیاتی تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ جون سے اگست 2026 کے دوران ال نینو کے پیدا ہونے کا امکان 80 فیصد تک پہنچ گیا ہے، جس کے باعث دنیا بھر میں شدید گرمی، خشک سالی، غیر معمولی بارشوں اور دیگر موسمی شدت کے واقعات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
عالمی موسمیاتی تنظیم کے مطابق بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی استوائی علاقوں میں سمندر کے پانی کا درجہ حرارت معمول سے غیر معمولی حد تک بڑھ رہا ہے، جس کے نتیجے میں ال نینو کی صورتحال تیزی سے تشکیل پا رہی ہے۔
ادارے نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ عالمی پیش گوئیوں کے مطابق جون تا اگست کے دوران ال نینو کے بننے کا امکان 80 فیصد جبکہ نومبر تک یہ امکان 90 فیصد یا اس سے بھی زیادہ ہوسکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ال نینو کم از کم درمیانی شدت کا اور ممکنہ طور پر طاقتور بھی ثابت ہوسکتا ہے۔
ال نینو ایک قدرتی موسمیاتی عمل ہے جو ہر دو سے سات سال بعد رونما ہوتا ہے اور عموماً 9 سے 12 ماہ تک برقرار رہتا ہے۔ اس دوران بحرالکاہل کے پانی گرم ہوجاتے ہیں، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں ہواؤں، بارشوں اور درجہ حرارت کے نظام میں نمایاں تبدیلیاں آتی ہیں۔
عالمی موسمیاتی تنظیم کی سربراہ نے کہا کہ دنیا کو ال نینو کے اثرات کے لیے ابھی سے تیاری شروع کر دینی چاہیے کیونکہ یہ خشک سالی، موسلا دھار بارشوں، زمینی اور سمندری ہیٹ ویوز کے خطرات کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ال نینو ہمارے دروازے پر دستک دے رہا ہے اور اسے ایک ہنگامی موسمیاتی انتباہ کے طور پر لینا چاہیے۔ ان کے مطابق بڑھتی ہوئی عالمی حدت کے ساتھ ال نینو کے اثرات مزید شدید ہوسکتے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جون سے اگست کے دوران دنیا کے بیشتر حصوں میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ کیے جانے کا امکان ہے۔ مشرقی افریقہ کے بعض علاقوں میں بارشیں کم ہوسکتی ہیں، جنوبی ایشیا میں مون سون معمول سے کم رہنے کا خدشہ ہے جبکہ وسطی امریکہ میں بھی خشک اور گرم موسم متوقع ہے۔
ماہرین کے مطابق ال نینو کے باعث زراعت، پانی کے ذخائر، توانائی کے شعبے اور صحت عامہ پر گہرے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، اسی لیے حکومتوں اور متعلقہ اداروں کو پیشگی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔