امریکا کی سوارم بایوٹیکٹکس کمپنی نے ایک منفرد قسم کی روبوٹک ٹیکنالوجی تیار کر رہی ہے جو زندہ حشرات الارض، خاص طور پر لال بیگوں کو مخصوص بیک پیک سے لیس کر کے انہیں زندہ روبوٹ کے طور پر استعمال کرتی ہے۔

یہ بیک پیک کنٹرول سینسرز، اور محفوظ مواصلاتی نظام سے آراستہ ہوتا ہے جو خطرناک، تنگ یا ناقابلِ رسائی علاقوں میں مشن مکمل کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ان زندہ بایو-روبوٹکس سسٹمز کو دفاعی، سیکیورٹی اور ہنگامی حالات کے ردعمل میں استعمال کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: بنا انسانی مداخلت روبوٹک سرجری سے پِتّے کا کامیاب آپریشن اہم سنگ میل قرار

کمپنی کے سی ای او اسٹیفن وِلہلم کا کہنا ہے کہ دنیا ایک ایسے دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں خودمختاری اور رسائی جغرافیائی برتری کا تعین کریں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ روایتی ڈرونز یا زمینی روبوٹس ایسے علاقوں میں ناکام ہو جاتے ہیں جہاں انفراسٹرکچر تباہ ہو چکا ہو یا حالات سیاسی طور پر پیچیدہ ہوں۔ ‘سوارم’ ایسی جگہوں کے لیے مصنوعی ذہنیت سے لیس بایولوجیکل اور بڑے پیمانے پر تعیناتی کے قابل نظام فراہم کر رہی ہے۔

کمپنی نے منصوبے میں یورپ اور امریکا میں دفاعی اداروں کے ساتھ پائلٹ پروگرامز، سسٹمز کی بڑے پیمانے پر تیاری، اور ماہر عملے کی بھرتی شروع کردیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ٹیکنالوجی ڈرون روبوٹ سائنس.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ٹیکنالوجی روبوٹ کے لیے

پڑھیں:

کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت

نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔

7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔

نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاری

ترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔

شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔

متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔

ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایلون مسک کی اے آئی ٹیکنالوجی کے حوالے سے نئی پیشگوئی
  • وزیراعظم اور فیلڈ مارشل نے اسکائی47 ڈیٹا سینٹر قراقرم ون کا افتتاح کردیا
  • بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے ایک ماہ میں47ارب81کروڑ روپے کی اووربلنگ کا انکشاف
  • راس ایکسپو 2026 کا کامیاب انعقاد، پاکستان روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے آگے بڑھے گا، شزا فاطمہ
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • مزہ کرکرا: اے آئی سے بنے جعلی جانوروں نے اصلی ویڈیوز بھی مشکوک بنادیں
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ