کم عمری میں اسمارٹ فون کا استعمال ذہنی صحت کے لیے نقصان دہ، تحقیق
اشاعت کی تاریخ: 23rd, July 2025 GMT
ایک عالمی تحقیق نے خبردار کیا ہے کہ 13 سال سے کم عمر بچوں کو اسمارٹ فون دینا ان کی ذہنی صحت کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔
‘جرنل آف ہیومن ڈیولپمنٹ اینڈ کیپیبیلیٹیز’ میں شائع شدہ تحقیق کے مطابق جن نوجوانوں نے 12 سال یا اس سے کم عمر میں اسمارٹ فون استعمال کرنا شروع کیا، ان میں خودکشی کے خیالات، جذباتی بے اعتدالی، خود اعتمادی میں کمی اور حقیقت سے لاتعلقی کے امکانات زیادہ پائے گئے۔
مزید پڑھیں: اسمارٹ فون کا زیادہ استعمال جوڑوں کے مسائل پیدا کرسکتا ہے
تحقیق میں دنیا بھر کے ایک لاکھ سے زائد نوجوانوں کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا، اور نتائج نے ظاہر کیا کہ کم عمری میں سوشل میڈیا تک رسائی ذہنی صحت میں بگاڑ کا بڑا سبب ہے۔
ماہرین نے حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ اسمارٹ فونز پر کم از کم 13 سال کی عمر تک پابندی عائد کی جائے، جیسے تمباکو اور شراب پر ہوتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسمارٹ فون جرنل آف ہیومن ڈیولپمنٹ اینڈ کیپیبیلیٹیز' ذہنی صحت کم عمری.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسمارٹ فون اسمارٹ فون
پڑھیں:
بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ خلیجی خطے میں بحری جہازوں، کارگو اور متعلقہ سامان کو پہنچنے والے نقصانات کی تلافی کے لیے امریکا اپنی تحویل میں موجود منجمد ایرانی اثاثوں سے ادائیگی کرے گا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ آئندہ کسی بھی بحری جہاز، کارگو یا اس سے متعلق املاک کو نقصان پہنچنے کی صورت میں اس کا مالی ازالہ ایرانی فنڈز سے کیا جائے گا، جو امریکا کے کنٹرول میں ہیں۔
ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ’آج سے اور آئندہ اطلاع تک، بحری جہازوں، کارگو یا ان سے متعلق کسی بھی نقصان کی ادائیگی امریکا کی تحویل میں موجود ایرانی رقم سے کی جائے گی۔‘
امریکی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خلیج، آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی جہاز رانی اور توانائی کی ترسیل شدید دباؤ کا شکار ہے۔ حالیہ ہفتوں میں متعدد تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں پر حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آ چکی ہیں۔
اگرچہ ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ کن ایرانی اثاثوں یا کتنی رقم کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا جائے گا، تاہم امریکا ماضی سے مختلف پابندیوں کے تحت اربوں ڈالر مالیت کے ایرانی اثاثے منجمد کیے ہوئے ہے۔
pic.twitter.com/Lbev6wPsNZ
— Rapid Response 47 (@RapidResponse47) July 23, 2026ماہرین کے مطابق اگر امریکا اس اعلان پر عملی اقدامات کرتا ہے تو اس سے ایران اور امریکا کے درمیان قانونی اور سفارتی تنازعات مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر بین الاقوامی قوانین، مالیاتی ضوابط اور خودمختار ریاستوں کے اثاثوں سے متعلق نئے سوالات بھی جنم لے سکتے ہیں۔