اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا رجحان برقرار، انڈیکس پہلی مرتبہ 1,57,000 پوائنٹس سے تجاوز کرگیا
اشاعت کی تاریخ: 9th, September 2025 GMT
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں منگل کے روز بھی تیزی کا سلسلہ جاری رہا اور مضبوط کارپوریٹ نتائج نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مزید بڑھا دیا۔ کاروبار کے آغاز میں ہی کے ایس ای 100 انڈیکس پہلی بار 1,57,000 کی حد عبور کر گیا۔
صبح 10 بج کر 30 منٹ پر بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 156,941 پوائنٹس کی سطح پر موجود تھا، جو 853 پوائنٹس یا 0.
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اسٹاک مارکیٹ کی تاریخی بلندی کا ملک کی معیشت سے کتنا تعلق ہے؟
تیزی کا رجحان سیمنٹ، کمرشل بینکس، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن کمپنیز، او ایم سیز، بجلی پیداوار اور ریفائنری سیکٹر میں نمایاں رہا۔
The cement sector shows mixed upside potential
From #LUCK (25%) to #CHCC (71%), analysts see room for growth across the board.
Which name do you think delivers best? #PSX #cementpriceincreases #cement #KSE100 #Pakistan #StockMarket #investing #GrowthStocks pic.twitter.com/PWfAI32fNK
— KSEStocks (@ksestocksdotcom) September 8, 2025
اہم حصص جیسے حبکو، اے آر ایل، ماری، او جی ڈی سی، پی او ایل، پی پی ایل، پی ایس او، میزان بینک، نیشنل بینک اور یو بی ایل سبز نشان میں ٹریڈ کرتے دکھائی دیے۔
اہم پیش رفت میں پاکستان اور امریکا کے درمیان معدنیات کے شعبے میں تعاون بڑھانے کے لیے 500 ملین ڈالر مالیت کا معاہدہ ہوا، جس کی مفاہمتی یادداشت پر امریکی کمپنی یو ایس اسٹریٹیجک میٹلز اور پاکستان کی فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن کے درمیان وزیراعظم ہاؤس میں دستخط ہوئے۔
مزید پڑھیں: اسٹاک ایکسچینج میں تاریخ رقم، 100 انڈیکس پہلی بار 150,000 کی سطح عبور کرگیا
امریکی سفارتخانے کے مطابق یہ معاہدہ دونوں ملکوں کے درمیان معاشی اور اسٹریٹجک تعلقات کو مزید گہرا کرنے کی جانب اہم قدم ہے۔
دوسری جانب اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعدادوشمار کے مطابق اگست 2025 میں بیرون ملک مقیم پاکستانی کارکنوں کی ترسیلات زر 3.1 ارب ڈالر رہیں۔
مزید پڑھیں:برآمدات میں 17 فیصد اضافہ خوش آئند، معیشت درست سمت میں گامزن ہے: وزیراعظم شہباز شریف
گزشتہ روز یعنی پیر کے دن بھی پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی دیکھی گئی تھی جب کے ایس ای 100 انڈیکس 1,810 پوائنٹس اضافے کے ساتھ 156,087 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر بند ہوا تھا۔
بین الاقوامی سطح پر ایشیائی اسٹاک میں منگل کو اضافہ ہوا، سرمایہ کاروں کو توقع ہے کہ امریکی فیڈرل ریزرو آئندہ ہفتے شرح سود میں کمی کرے گا، جس سے مارکیٹ میں نئی جان پڑی ہے۔
مزید پڑھیں: اسٹاک مارکیٹ میں ریکارڈ اضافہ کا اصل سبب کیا ہے؟
وال اسٹریٹ میں بھی مثبت رجحان رہا جہاں نیسڈیک نے نئی بلند ترین سطح حاصل کی۔
سرمایہ کاروں کا ماننا ہے کہ رواں ماہ شرح سود میں 25 بیسز پوائنٹس کمی یقینی ہے جبکہ توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ آیا فیڈ مزید بڑا قدم اٹھاتے ہوئے 50 بیسز پوائنٹس کی کمی بھی کر سکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
100 انڈیکس پاکستان اسٹاک ایکسچینج شیئرز
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: 100 انڈیکس پاکستان اسٹاک ایکسچینج اسٹاک ایکسچینج میں پاکستان اسٹاک پوائنٹس کی
پڑھیں:
مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں اور مشرقِ وسطیٰ کی غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جو مئی کے بعد پہلی مرتبہ اس نفسیاتی حد سے اوپر پہنچی ہے۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق جمعرات کے روز برینٹ کروڈ کی قیمت میں 6 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر خطے میں فوجی کشیدگی مزید بڑھی تو عالمی سطح پر خام تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے، جس کے باعث خریداری میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
رپورٹس کے مطابق قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں پر حملے ہیں۔ بحیرہ احمر اور باب المندب دنیا کے اہم ترین بحری تجارتی راستوں میں شمار ہوتے ہیں، جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں خام تیل اور دیگر تجارتی سامان کی ترسیل کی جاتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان حملوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ذمہ دار سمجھتا ہے، کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف سخت فوجی کارروائی سے گریز نہیں کرے گا۔
توانائی کے ماہرین کے مطابق اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں پیٹرول، ڈیزل، بجلی، ٹرانسپورٹ اور صنعتی پیداواری لاگت میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے عالمی مہنگائی کی نئی لہر جنم لے سکتی ہے۔
ماہرین نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ اگر کشیدگی آبنائے ہرمز تک پھیل گئی، جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے، تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں، جس کے اثرات عالمی معیشت، توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی تجارت پر مرتب ہونے کا امکان ہے۔