ایف آئی اے گوادر کی کارروائی، غیرقانونی طریقے سے ایران جانے والے 14 ملزمان گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 9th, September 2025 GMT
ایف آئی اے گوادر سرکل نے کارروائی کرتے ہوئے غیرملکی سمیت متعدد افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے کمپوزٹ سرکل گوادر نے کامیاب کارروائیاں کرتے ہوئے 14 ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ گرفتار ملزمان میں ایک ایرانی شہری بھی شامل ہے۔
ترجمان ایف آئی اے کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں 3 کا تعلق گوجرانوالہ، 3 کا منڈی بہاءالدین، 4 کا سانگھڑ اور 3 کا تعلق شیخوپورہ سے ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ایف آئی اے کی بڑی کارروائی، حوالہ ہنڈی نیٹ ورک کے ملزمان گرفتار
ابتدائی تفتیش میں انکشاف ہوا ہے کہ 9 ملزمان سمندر کے راستے غیر قانونی طور پر ایران جانے کی کوشش کر رہے تھے تاکہ آگے دیگر ممالک جا سکیں۔ ان تمام افراد کو جیوانی سے گرفتار کیا گیا۔
ترجمان نے بتایا کہ مزید 5 ملزمان کو غیر قانونی طور پر پاکستان میں داخل ہونے کی کوشش کے دوران حراست میں لیا گیا جن میں ایک ایرانی شہری بھی شامل ہے۔ یہ افراد پی بی 250 گبد لینڈ روٹ کے ذریعے پاکستان میں داخل ہو رہے تھے۔
ایف آئی اے نے تمام ملزمان کے خلاف مقدمات درج کر لیے ہیں اور انہیں حراست میں لے کر مزید تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایران ایف آئی اے گرفتاری.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایران ایف ا ئی اے گرفتاری ایف آئی اے
پڑھیں:
پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
توجہ دلاؤ نوٹس میں جے یو آئی کے سینیٹر نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے 15 روزہ نظام کے بجائے روزانہ تعین کے مجوزہ فیصلے پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرا دیا۔ توجہ دلاؤ نوٹس میں وفاقی حکومت سے مجوزہ پالیسی پر وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ روزانہ قیمتوں کے تعین سے مہنگائی، ٹرانسپورٹ اخراجات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ نوٹس کے متن کے مطابق مجوزہ نظام کے کاروباری سرگرمیوں اور عوامی زندگی کے اخراجات پر ممکنہ اثرات سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عوام کو ممکنہ منفی اثرات سے بچانے کے لیے اختیار کیے جانے والے حفاظتی اقدامات سے بھی سینیٹ کو آگاہ کیا جائے۔