data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

سکھر(نمائندہ جسارت )سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA) ایک بار پھر شدید تنقید کی زد میں ہے، جہاں بڑے پیمانے پر کرپشن، سیاسی بنیادوں پر تقرریاں، اور نااہلی کے الزامات سامنے آ رہے ہیں جنہیں صوبے بھر میں عمارتوں کے حادثات اور قیمتی جانوں کے ضیاع کا سبب قرار دیا جا رہا ہے۔اقربا پروری اور رشوت ستانی کی اس جڑ پکڑتی روایت نے خطرناک نتائج پیدا کیے ہیں۔ غیرقانونی تعمیرات کو روکنے میں ایس بی سی اے کی ناکامی کے باعث بالخصوص سکھر اور کراچی جیسے شہری علاقوں میں غیر محفوظ اور بغیر اجازت تعمیر ہونے والی عمارتوں کی بھرمار ہو چکی ہے۔ کئی معاملات میں، افسران نے یا تو آنکھیں بند کر لیں یا رشوت لے کر خلاف ورزیوں کو ممکن بنایا۔اس بدترین انتظامی ناکامی کی ایک ہولناک مثال لیاری میں دیکھنے کو ملی، جہاں ایک بوسیدہ عمارت گرنے سے 6 خاندانوں کے دو درجن سے زائد افراد جاں بحق ہو گئے۔ حیران کن طور پر، یہ عمارت پہلے ہی ایس بی سی اے کی جانب سے غیر محفوظ قرار دی جا چکی تھی، مگر انخلا کے احکامات رشوت کے عوض نظر انداز کر دیے گئے ۔ ایسی عمارتیں موت کے پھندے سے کم نہیں،” ایک سینئر افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا۔ آج بھی سکھر اور کراچی میں درجنوں ایسی عمارتیں موجود ہیں۔ ہر بار جب کوئی عمارت گرتی ہے، تحقیقاتی کمیٹی بنا دی جاتی ہے، لیکن اصل مسائل کرپشن، غفلت، اور قانون نافذ نہ کرنے کی پالیسی پر کوئی بات نہیں ہوتی۔ماہرین اور سول سوسائٹی کا کہنا ہے کہ اگر ایس بی سی اے خطرناک عمارتوں کو خالی کرانے میں وہی سنجیدگی دکھائے جو حادثے کے بعد کمیٹیاں بنانے میں دکھاتا ہے، تو بے شمار زندگیاں بچائی جا سکتی تھیں۔عوامی مایوسی میں مزید اضافہ اس وقت ہوتا ہے جب قانونی تعمیراتی منصوبے کرنے والے بلڈرز اور عام شہریوں کو بھی ہر قدم پر رشوت دینی پڑتی ہے۔ ایک مقامی بلڈر نے بتایا، آپ قانونی طور پر منظور شدہ نقشہ بھی ایس بی سی اے کو رشوت دیے بغیر کلیئر نہیں کرا سکتے۔ جبکہ غیر قانونی بلند عمارتیں بے روک ٹوک بنتی جا رہی ہیں۔ایس بی سی اے پر ناقص تعمیراتی مواد کے استعمال کی اجازت دینے کا بھی الزام ہے، جس کے نتیجے میں بنیادی حفاظتی اصولوں سے عاری کمزور عمارتیں تعمیر ہو رہی ہیں۔ چونکہ کوئی مؤثر چیک اینڈ بیلنس موجود نہیں، یہ خطرناک تعمیرات پورے صوبے میں جاری ہیں۔عوام اب مجرمانہ احتساب کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ لیاری کے ایک رہائشی نے کہا، جنکی نااہلی اور لالچ نے بے گناہ زندگیاں چھینیں، ان کے خلاف مقدمات درج کیے جائیں۔ انہیں بیوروکریسی کی ناکامی کے پردے میں چھپ کر بچنے نہیں دیا جا سکتا۔صورتحال واضح کرتی ہے کہ ایس بی سی اے میں فوری اصلاحات کی ضرورت ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ایس بی سی اے

پڑھیں:

انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران

ایران کی حکومت کے اعلیٰ عہدیدار محسن رضاعی نے خبردار کیا ہے کہ ایرانی انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا ردعمل شدید اور وسیع ہوگا۔

ایرانی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق محسن رضائی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ اگر امریکہ نے ایران کے انفرا اسٹرکچر پر مزید حملے کیے تو ایران کا جوابی اقدام شدید اور بتدریج وسیع ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ شلمچہ میں زائرین پر حملہ اور انفرا اسٹرکچر پر حملوں کی امریکی دھمکیاں مایوسی اور بے بسی کے سوا کچھ نہیں ہیں۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • سائوتھ ایئر کا نجی ایئر فیلڈز پر کمرشل پروازوں کا اجازت نامہ منسوخ
  • کسی سیاسی جماعت کا نمائندہ نہیں، آئین کے مطابق قومی ذمہ داری نبھاؤں گا: گورنر سندھ نہال ہاشمی
  • شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کا دوٹوک مؤقف، یکطرفہ طاقت کے استعمال پر سخت تنقید کردی
  • کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
  • پشاور: حیات میڈیکل کمپلیکس میں ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال دوسرے روز بھی جاری، مریض مشکلات سے دوچار
  • موبائل سم صار فین ہوشیار ، پی ٹی اے کا اہم انتباہ جار ی
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار