شاندار سیکیورٹی و انتظامات سے عزاداروں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا، گورنر سندھ
اشاعت کی تاریخ: 7th, July 2025 GMT
گورنر سندھ کی ہدایت پر گورنر ہاؤس میں یکم محرم سے 24 گھنٹے فعال محرم الحرام مانیٹرنگ سیل قائم کیا گیا، مانیٹرنگ سیل کو صفائی، سیوریج، بجلی، سیکیورٹی اور پولیس رویے سے متعلق سیکڑوں شکایات ملیں، تمام شکایات پر فوری ایکشن لیتے ہوئے متعلقہ اداروں سے رابطہ کرکے مسائل کا بروقت ازالہ کیا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے محرم الحرام کے سیکیورٹی اقدامات پر رینجرز، پولیس اور دیگر اداروں کو شاباش دی اور کارکردگی پر خراجِ تحسین پیش کیا۔اپنے بیان میں گورنر سندھ نے کہا ہے کہ شاندار سیکیورٹی و انتظامات سے عزاداروں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا، اسی جذبے اور فعالیت سے مستقبل میں بھی اسی نوعیت کے انتظامات یقینی بنائیں گے۔ گورنر سندھ کی ہدایت پر گورنر ہاؤس میں یکم محرم سے 24 گھنٹے فعال محرم الحرام مانیٹرنگ سیل قائم کیا گیا، مانیٹرنگ سیل کو صفائی، سیوریج، بجلی، سیکیورٹی اور پولیس رویے سے متعلق سیکڑوں شکایات ملیں، تمام شکایات پر فوری ایکشن لیتے ہوئے متعلقہ اداروں سے رابطہ کرکے مسائل کا بروقت ازالہ کیا گیا۔ شہریوں نے گورنر سندھ کو شکریہ کے پیغامات ارسال کیے اور مانیٹرنگ سیل کے مثر کردار پر اطمینان کا اظہار کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مانیٹرنگ سیل گورنر سندھ کیا گیا
پڑھیں:
کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
— فائل فوٹوسندھ ہائی کورٹ نے کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے لواحقین کے واجبات کی ادائیگی کا حکم دے دیا۔
عدالت کے آئینی بینچ نے کے ڈی اے کے مرحوم افسر کے واجبات کی لواحقین کو عدم ادائیگی کے کیس کی سماعت کی۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کے ڈی اے نے واجبات تسلیم کرنے کے باوجود ادائیگی نہیں کی۔
عدالت کے استفسار پر کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ کے ڈی اے اب تک 3 لاکھ 50 ہزار روپے ادا کرچکا ہے، ادائیگی میں تاخیر مالی مشکلات کے باعث ہوئی۔
کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ سندھ حکومت سے 5 ارب روپے کی گرانٹ طلب کی گئی ہے۔
کراچی سندھ ہائی کورٹ نے ایکسائز افسر کے خلاف 4 من سے...
جس پر عدالت نے اپنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق مرحوم افسر کے واجبات ان کی زندگی میں ادا نہیں کیے گئے، درخواست گزار قانونی وارث ہونے کے باعث واجبات کی حق دار ہیں، پینشن اور ریٹائرمنٹ فوائد کسی ادارے کی صوابدید نہیں بلکہ قانونی حق ہے۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ واجبات کی بر وقت ادائیگی ریاستی اداروں کی آئینی ذمے داری ہے، ادارے کی مالی مشکلات ملازمین کو تسلیم شدہ حقوق سے محروم رکھنے کا جواز نہیں بن سکتیں، سرکاری ادارے مالی اور انتظامی امور بہتر انداز میں چلانے کے پابند ہیں، کے ڈی اے درخواست گزار کو واجبات کی مد میں 1 کروڑ 10 لاکھ روپے ادا کرے اور عمل درآمد رپورٹ رجسٹرار سندھ ہائی کورٹ کو پیش کی جائے۔