اسلام آباد میں تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ حالیہ پاک بھارت جنگ کے دوران اللہ کی غیبی مدد حاصل رہی جس کا ہم نے اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ ایران کی کامیابی اور سیز فائر میں وزیراعظم کا بڑا کردار ہے اور اس کے پیچھے بھی وردی ہے، جس طرح عالمی رہنماؤں کو قائل کیا گیا ہے اور جس طرح یہ معاملہ انجام کو پہنچا ہے، اس میں ہمارے رہنماؤں کا کردار ہے۔ حالیہ پاک بھارت جنگ کے دوران اللہ کی غیبی مدد حاصل رہی جس کا ہم نے اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا۔ اسلام آباد میں تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ محرم میں مذہبی ہم آہنگی کا فروغ انتہائی ضروری ہے، ہم سب کا نظریہ یہ ہونا چاہیے کہ اپنا مسلک چھوڑو مت اور کسی کے مسلک کو چھیڑو مت، امام حسین کسی ایک مسلک کے نہیں سب کے ہیں۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ بھارت کے خلاف جنگ میں اللہ کی مدد و نصرت شامل رہی، ہم نے بھارت کی طرف میزائل فائر کیے تو ایک میزائل میں کچھ نمبروں کا فرق آگیا، سب پریشان ہوئے کیونکہ ہم نہیں چاہتے تھے کہ بھارت میں شہری آبادی کو نقصان پہنچے، یا ایک شہری بھی مارا جائے، انہوں نے ہماری شہریوں کو نشانہ بنایا لیکن ہم یہ نہیں کریں گے۔

محسن نقوی نے بتایا کہ ہمیں یہ پریشانی تھی کہ یہ میزائل آبادی پر گر جائے گا مگر اللہ کی طرف سے یہ مدد آئی کہ وہی میزائل ان کے سب سے بڑے آئل ڈپو پر گرا اور آگ لگ گئی، بھارت کی وڈیوز میں جو سب سے بڑی آگ والی اسی میزائل کی وڈیو ہے۔ وزیر داخلہ نے بتایا کہ دوسرا قصہ یہ ہے کہ بھارت نے ایک ایئر بیس پر 9 یا 11 میزائل فائر کیے، اس بیس پر ہمارے جہاز بھی تھے اور باقی لوگ بھی تھے، ہم بڑے پریشان تھے کہ یہ میزائل گرے تو بہت نقصان ہو جائے گا، مگر ایک بھی میزائل بیس پر نہیں گرا، کوئی آگے گرا اور کوئی پیچھے گرا، یہ مثالیں غیبی مدد کا ثبوت ہیں، جو ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھی۔ انہوں نے کہا کہ آرمی چیف اس وقت بالکل مضبوطی سے کھڑے ہوئے تھے اور وہ بالکل واضح تھے کہ اگر بھارت نے حملہ کیا تو وہ چار گنا زیادہ بھگتے گا اور انہوں نے بھگتا۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ محرم کے بعد تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام کے پاس جائیں گے اور اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ 14 اگست کو تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام کے ساتھ ظہر کی نماز فیصل مسجد میں ادا کریں تاکہ دنیا کو یہ پیغام جائے کہ ہم سب اکٹھے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام کے وزیر داخلہ نے محسن نقوی نے کہا کہ اللہ کی

پڑھیں:

اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام

پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ بڑھتے ہوئے مسلح تنازعات کے تناظر میں سفارتکاری، مذاکرات اور ثالثی کو مضبوط بنایا جائے.

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تنازعات کے پرامن حل سے متعلق کھلے مباحثے کے دوران پاکستان نے بھارت پر عالمی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی ایک اور بڑی سفارتی کامیابی، سلامتی کونسل میں امن دستوں کے تحفظ کی قرارداد متفقہ طور پر منظور

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہر نیا بحران یہ ثابت کرتا ہے کہ انصاف پر مبنی اور دیرپا امن کا کوئی فوجی متبادل موجود نہیں، اس لیے عالمی برادری کو تنازعات کی روک تھام، مکالمے، ثالثی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق پرامن تصفیے پر نئی توجہ دینا ہوگی۔

Today, the imperative of peaceful settlement is more urgent than ever before. At a time when armed conflicts are growing across regions, the costs of delayed diplomacy are becoming more evident. Every new crisis underscores a simple truth: there is no military substitute for a… pic.twitter.com/ITgheZpBLd

— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 23, 2026

انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان کی سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران متفقہ طور پر منظور کی جانے والی قرارداد 2788 نے اس اصول کی توثیق کی تھی کہ سفارت کاری کو اس وقت استعمال نہیں کرنا چاہیے جب امن ناکام ہو جائے، بلکہ اسے ایسے حالات پیدا ہونے سے پہلے ہی فعال ہونا چاہیے۔

دوسری جانب اجلاس میں بھارتی مندوب کے بیان کے جواب میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حقِ جواب استعمال کرتے ہوئے کہا کہ جب رکن ممالک تنازعات کے پرامن حل کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے پر گفتگو کر رہے تھے، بھارت نے حقائق کو مسخ کرنے اور بے بنیاد الزامات لگانے کی کوشش کی۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل بریفنگ: پاکستان نے مستقل جنگ بندی اور آزاد فلسطینی ریاست کا مطالبہ دہرا دیا

انہوں نے کہا کہ بھارت ایک طرف امن کی بات کرتا ہے جبکہ دوسری جانب بین الاقوامی قانون، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

ان کے مطابق جموں و کشمیر نہ تو بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی اس کا داخلی معاملہ، بلکہ یہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع خطہ ہے، جس کے بارے میں سلامتی کونسل کی قراردادیں آج بھی مؤثر ہیں۔

صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارتی زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی صورتحال میں واضح فرق ہے۔

It is ironic to hear India preaching peace while breaching international law and Security Council resolutions, and practising aggression against its neighbours, repression in Indian-occupied Jammu and Kashmir, persecution of minorities, and perpetrating State-sponsored terrorism… pic.twitter.com/oPfkrOvSJ5

— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 24, 2026

ان کے مطابق آزاد کشمیر میں عوام سیاسی عمل میں حصہ لیتے اور آزادی سے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں، جبکہ بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں گرفتاریوں، ماورائے عدالت ہلاکتوں، جبری گمشدگیوں، آبادی کے تناسب میں تبدیلی اور حقِ خودارادیت سے محرومی جیسے اقدامات جاری ہیں۔

انہوں نے بھارت کے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے فیصلے کو یکطرفہ اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے تقریباً 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، اسے جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل میں اصلاحات ناگزیر، مستقل رکنیت کا نظام فرسودہ ہو چکا ہے، پاکستان

پاکستانی مندوب نے مزید الزام عائد کیا کہ بھارت ریاستی سرپرستی میں دہشتگردی میں ملوث ہے اور پاکستان میں دہشتگرد تنظیموں کی معاونت کرتا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تقریباً ایک لاکھ شہریوں کی جانوں کی قربانی دے چکا ہے۔

انہوں نے بھارت میں مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں اور دلتوں کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اشتعال انگیزی کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پرامن حل کو ترجیح دی۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل کی بلوچستان حملوں کی شدید مذمت، عالمی برادری سے پاکستان کیساتھ تعاون پر زور

صائمہ سلیم نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا راستہ بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر، سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد اور مسئلہ جموں و کشمیر کے پرامن حل سے ہو کر گزرتا ہے۔

انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے بین الاقوامی معاہدوں کا احترام کرے اور کشمیر تنازع کے حل کے لیے سنجیدہ مذاکرات کی راہ اختیار کرے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اقوام متحدہ امتیازی سلوک بھارت پاکستان جموں و کشمیر چارٹر دریائے سندھ دہشتگردی سلامتی کونسل سندھ طاس معاہدے صائمہ سلیم عاصم افتخار احمد مستقل مندوب

متعلقہ مضامین

  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار