شعیب ملک کی بیٹے سے ملاقات شدید تنقید کی زد میں
اشاعت کی تاریخ: 8th, July 2025 GMT
اپنی شاندار آل راؤنڈ کارکردگی کی بدولت بین الاقوامی شہرت رکھنے والے پاکستان کے معروف کرکٹر شعیب ملک اپنے بیٹے ازہان کے حوالے سے ایک بار پھر سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گئے ہیں۔
حالیہ دنوں شعیب ملک نے دبئی میں اپنے بیٹے ازہان کے ساتھ دوپہر کے کھانے کی ایک تصویر انسٹاگرام پر شیئر کی۔
تصویر کے کیپشن میں انہوں نے لکھا۔ “لنچ ودھ مائی بیسٹ فرینڈ “Lunch with my best friend۔
اس تصویر کے وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر شدید عوامی ردِعمل سامنے آیا۔
متعدد صارفین نے تبصرے کیے کہ محض ایک دن کی ملاقات سے والد کی ذمہ داری پوری نہیں ہو جاتی۔
ایک صارف نے لکھا، ”جب والدین میں طلاق ہو جائے تو بچہ دونوں گھروں کی بلی بن جاتا ہے۔ شادی کے ابتدائی پانچ سالوں تک والدین کو بچے پیدا کرنے سے پہلے ایک دوسرے کو سمجھنا چاہیے۔“
ایک اور تبصرہ تھا،”بچے کو کبھی کبھار لنچ پر لے جانا باپ بیٹے کی دوستی کا ثبوت نہیں، بلکہ اس سے دوری اور بڑھتی ہے۔“
کچھ صارفین نے شعیب ملک کی والدانہ ذمہ داریوں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا، ”صرف ماں ہی ذمہ دار نہیں، آپ بھی والد ہیں، آپ کا بھی فرض ہے کہ بیٹے کی مکمل ذمہ داری اٹھائیں۔“
کئی صارفین نے ثانیہ مرزا کی تعریف کی اور طلاق کو ایک افسوسناک فیصلہ قرار دیا۔ ایک مداح نے لکھا،”طلاق نہیں ہونی چاہیے تھی۔ ثانیہ مرزا زیادہ سمجھدار، تعلیم یافتہ اور متوازن شخصیت تھیں۔ اگر دونوں چاہتے تو معاملات باہمی افہام و تفہیم سے حل ہو سکتے تھے۔“
شعیب ملک نے پاکستان کے لیے کئی یادگار میچز جیتے، خاص طور پر 2009 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ اور چیمپئنز ٹرافی جیسے بڑے ٹورنامنٹس میں ان کی کارکردگی کو بھرپور سراہا گیا۔ تاہم ان کی ذاتی زندگی میں گزشتہ کچھ عرصے سے شدید ہنگامہ خیزی دیکھنے کو ملی ہے۔
شعیب ملک کی پہلی شادی 2010 میں بھارت کی مشہور ٹینس اسٹار ثانیہ مرزا سے ہوئی تھی۔ دونوں نے کئی سال ایک مضبوط اور مثالی جوڑی کے طور پر گزار، اور 2018 میں ان کے ہاں بیٹے ازہان مرزا ملک کی پیدائش ہوئی۔
اس جوڑے کو ”پاک-بھارت پاور کپل“ کہا جاتا تھا، لیکن 2024 میں شعیب ملک نے اچانک ثانیہ مرزا سے علیحدگی اور پاکستانی اداکارہ ثنا جاوید سے دوسری شادی کا اعلان کیا، جس پر سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں خاصی تنقید ہوئی۔
Post Views: 5.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ثانیہ مرزا شعیب ملک ملک کی
پڑھیں:
وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
پاکستانی کرکٹ کے لیجنڈ وسیم اکرم، سابق کپتان مصباح الحق، میزبان و اداکار فخر عالم، سابق کرکٹر سعید انور اور دیگر معروف شخصیات نے اس سال مشترکہ طور پر فریضۂ حج ادا کیا۔ تاہم دورانِ حج سوشل میڈیا پر ان کی بعض ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
وسیم اکرم کی رمی الجمرات کے دوران شیئر کی گئی ایک ویڈیو، جس میں انہوں نے اپنے مخصوص سوئنگ اسٹائل میں شیطان کو کنکریاں مارنے کا انداز اپنایا، خاصی وائرل ہوئی۔ بعد ازاں ایک اور ویڈیو میں وہ مصباح الحق کے لیے کیلے اٹھائے ہوئے دکھائی دیے، جس پر بھی صارفین نے مختلف تبصرے کیے۔
دوسری جانب فخرِ عالم نے اپنے حج سفر کی متعدد جھلکیاں سوشل میڈیا پر شیئر کیں جن میں اداکار بلال عباس خان اور کامیڈین تابش ہاشمی سمیت دیگر شخصیات بھی نظر آئیں۔ ان سرگرمیوں کے باعث بعض سوشل میڈیا صارفین نے اس سفر کو ’’حج کے بجائے پکنک‘‘ قرار دیا۔
@timesofkarachiWhy didn’t Wasim Akram, Fakhar-e-Alam, and Misbah-ul-Haq shave their heads as part of the Hajj ritual? #TOKReports #Hajj #WasimAkram #FakhareAlam #MisbahulHaq
♬ original sound - Times of Karachiحالیہ گفتگو میں وسیم اکرم، فخرِ عالم اور مصباح الحق نے ان تنقیدی تبصروں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا کہ انہوں نے حج کے بعد سر منڈوانے کے بجائے صرف بال کیوں کٹوائے۔ ان کے مطابق حج پر روانگی سے قبل انہوں نے علماء کرام سے رہنمائی حاصل کی تھی جنہوں نے دو شرعی آپشنز بتائے تھے، یا تو مکمل سر منڈوایا جائے یا پھر قصر کروائی جائے، جس میں بالوں کا ایک حصہ کٹوایا جاتا ہے۔ انہوں نے دوسرا طریقہ اختیار کیا جو شرعی طور پر جائز ہے۔
انہوں نے ’’حج یا پکنک‘‘ سے متعلق تنقید پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حج ایک عظیم عبادت ہے، لیکن اس دوران انسان چوبیس گھنٹے صرف ایک ہی عمل میں مصروف نہیں رہتا۔ عبادت کے ساتھ دوستوں سے ملاقات، گفتگو، دعائیں، مسکراہٹیں اور خوشی کے لمحات بھی اس سفر کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے سے پہلے لوگوں کو ان معاملات کی مکمل معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔
وسیم اکرم اور ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ انہوں نے نوجوان نسل کے لیے بھی مختلف ویڈیوز بنائیں تاکہ حج کی ادائیگی سے متعلق رہنمائی فراہم کی جا سکے اور نوجوانوں میں اس مقدس سفر کا شوق پیدا ہو۔ ان کے مطابق ان ویڈیوز کا مقصد صرف معلومات دینا اور لوگوں کو حج کے لیے آمادہ کرنا تھا۔
مدینہ منورہ سے گفتگو کرتے ہوئے فخر عالم نے کہا کہ حج مکمل کرنے کے بعد سب سے زیادہ یہی سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آخر انہیں حج پر جانے کی ترغیب کیسے ملی۔ اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ انہوں نے پہلے سے کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کی تھی، بلکہ وہ ہمیشہ یہی سوچتے تھے کہ جب دل سے تیاری محسوس ہوگی تو حج کریں گے۔ ان کے بقول جب انہیں معلوم ہوا کہ فخر عالم اور مصباح الحق بھی حج پر جا رہے ہیں تو انہوں نے بھی اس قافلے میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔
View this post on Instagramوسیم اکرم نے مزید کہا کہ وہ جلد 60 برس کے ہونے والے ہیں اور انہیں محسوس ہوا کہ اب اس مقدس فریضے کی ادائیگی کا بہترین وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے حج کے سفر کو جسمانی طور پر مشکل لیکن یادگار اور قابلِ برداشت قرار دیا۔
مصباح الحق نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حج کا یہ سفر ان کی زندگی کے خاص ترین تجربات میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق دوستوں کے ساتھ اس روحانی سفر کو طے کرنے سے اس کی خوبصورتی اور یادیں مزید بڑھ گئیں، اور یہ تجربہ ہمیشہ ان کے دل میں محفوظ رہے گا۔